سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

مسجد ميں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے مٹی میں دبا دینا ہے

عن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «البُزَاق في المسجد خَطيئة، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُها».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسجد ميں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے مٹی میں دبا دینا ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس روایت میں ”البزاق“ اور ایک روایت میں ”البصاق“ کا لفظ ہے۔ مسجد کے فرش یا اس کی دیواروں پر تھوکنا گناہ ہے اور ایسا کرنے والا اللہ تعالی کی سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ لھٰذا مسلمان کے لئے کسی بھی حال میں مسجد میں تھوکنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے اللہ کے گھروں کی توہین ہوتی ہے اور یہ انھیں آلودہ اور گندا کرنا ہے۔ بلکہ انہیں ہر اس چیز سے بچانا واجب ہے جو انہیں ناپاک اور گندا کرتی ہے؛ کیونکہ ایسا کرنا اللہ تعالی کے شعائر کی تعظیم کے زمرے میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّهِ﴾ ”اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے“۔ (الحج: 30) تاہم اگر وہ اپنے کپڑے یا شماغ یا رومال میں تھوکتا ہے تو اس صورت میں اس پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ علت باقی نہیں رہی۔ اگر بلا ارادہ غلطی سے تھوکا جائے تو یہ ایک غلطی ہے جس کا گناہ معاف ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی جان بوجھ کر مسجد میں تھوکے اور پھر اسے دفن کر دے۔ کیونکہ نبی ﷺ نے مسجد میں محض تھوک کی موجودگی کو گناہ قرار دیا ہے۔ اس کی تایید اس حدیث سے ہوتی ہے جو صحیح بخاری (414) اور صحیح مسلم (548) میں آئی ہے کہ آپ ﷺ کو مسجد کی دیوار پر بلغم لگا ہوا نظر آیا جس کی موجودگی آپ ﷺ پر بہت گراں گزری۔ آپ ﷺ نے اٹھ کر اسے اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا۔ جو شخص بلا ارادہ مسجد میں تھوک بیٹھے اور پھر وہ چاہے کہ اللہ اسے معاف کر دے اور اس کے اس گناہ کو مٹا دے تو اسے چاہیے کہ وہ فوراً اسے مسجد سے زائل کردے، بایں طور کہ اگر مسجد کنکریوں والی ہو تو اسے دفن کر دے اور اگر مسجد فرش والی ہو تو پھر اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے کھرچ ڈالے یہاں تک کہ وہ زائل ہو جائے۔ اگر یہ باقی رہ گیا تو یہ ایک پاپ ہے اور جب تک باقی رہے گا وہ شخص گناہ گار ہوتا رہے گا۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میرے سامنے میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کئے گئے۔ میں نے اپنی امت کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ شے کو ہٹانا بھی دیکھا اور اس کے برے اعمال میں مسجد میں پڑا وہ بلغم بھی پایا جسے دفن نہ کیا گیا ہو“۔ (مسلم)

حوالہ

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ، 2003 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، اعتنى بإخراجه عبدالسلام بن عبد الله السليمان، الرسالة، بيروت، الطبعة: الأولى 1427هـ، 2006م. فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، محمد بن صالح العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأم إسراء بنت عرفة، المكتبة الإسلامية، الطبعة: الأولى 1427هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، عبد الله صالح الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1428هـ، 1432هـ. منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، حمزة محمد قاسم، راجعه: عبد القادر الأرناؤوط، عني بتصحيحه ونشره: بشير محمد عيون، الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق، مكتبة المؤيد، الطائف، الطبعة: 1410هـ، 1990م. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى 1435هـ، 2014 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
مساجد کے احکام

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com