یہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مصلیوں کو اس بات کا حکم دے رہے ہيں کہ صفیں برابر کر لیا کریں۔ کوئی کسی سے آگے رہے، نہ پیچھے۔ صفوں کو برابر کرنا نماز کو کامل بنانے والی چيزوں میں سے ہے اور ان کا ٹیڑھى رہ جانا نماز میں نقص اور خلل کا باعث ہے۔
- انسان کو ان تمام چیزوں پر توجہ دینی چاہیے، جو نماز کو کامل بنائيں اور اسے نقص سے دور رکھیں۔
- یہاں تعلیم کے سلسلے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حکمت جلوہ گر ہوتی ہے کہ آپ نے حکم کے ساتھ اس کی علت بھی بیان کر دی، تاکہ تشریع کی حکمت واضح ہو جائے اور انسان کے اندر بجا آوری کا جذبہ بیدار ہو۔
صحيح البخاري (1/ 145) (723). صحيح مسلم (1/ 324) (433). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص127). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 161). الإفهام في شرح عمدة الأحكام، لابن باز (ص173).