انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی صفیں درست کر لیا کرو۔ اس لیے کہ صفوں کی درستگی نماز کو کامل بنانے والی چیزوں میں سے ایک ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
یہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مصلیوں کو اس بات کا حکم دے رہے ہيں کہ صفیں برابر کر لیا کریں۔ کوئی کسی سے آگے رہے، نہ پیچھے۔ صفوں کو برابر کرنا نماز کو کامل بنانے والی چيزوں میں سے ہے اور ان کا ٹیڑھى رہ جانا نماز میں نقص اور خلل کا باعث ہے۔
فوائد
انسان کو ان تمام چیزوں پر توجہ دینی چاہیے، جو نماز کو کامل بنائيں اور اسے نقص سے دور رکھیں۔
یہاں تعلیم کے سلسلے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حکمت جلوہ گر ہوتی ہے کہ آپ نے حکم کے ساتھ اس کی علت بھی بیان کر دی، تاکہ تشریع کی حکمت واضح ہو جائے اور انسان کے اندر بجا آوری کا جذبہ بیدار ہو۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 145) (723).
صحيح مسلم (1/ 324) (433).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص127).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 161).
الإفهام في شرح عمدة الأحكام، لابن باز (ص173).
عن عمران بن حصين رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى رجلًا مُعتزلًا، لم يُصَلِّ في القوم، فقال: (يا فلان، ما منعك أن تصلي في القوم؟) فقال: يا رسول الله أصابتني جنابةٌ، ولا مَاءَ، فقال: (عليك بالصَّعِيدِ، فإنه يَكْفِيَكَ).
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو الگ بیٹھا ہوا دیکھا جس نے باجماعت نماز نہیں پڑھی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: اے فلاں ! تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روک دیا؟ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی ہوگیا تھا اور میں نے پانی نہیں پایا، آپ نے فرمایا: (پانی نہ ملنے پر) تم مٹی استعمال کرتے وہ تمہارے لیے کافی تھی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو صبح کی نماز پڑھائی، نماز سے فراغت کے بعد آپ ﷺ نےایک آدمی کو دیکھا جس نے صحابہ کے ساتھ نماز نہیں ادا کی تھی۔ یہ نبی ﷺ کا کمالِ لطف ومہربانی اور دعوت الی اللہ میں خوش اسلوبی ہی تھی کہ آپ نے اس کے جماعت سے پیچھے رہ جانے پر سختی نہیں برتی یہاں تک کہ تاخیر کی وجہ جان لی۔ آپ نے فرمایا: اے فلاں! کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا؟ اپنی گمان کے مطابق اس نے اپنا عذر نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا کہ اسے جنابت لاحق ہو گئی تھی اور پانی نہیں تھا اس لیے پانی کے ملنے اور طہارت حاصل کرنے تک اس نے نماز کو مؤخر کر دیا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالی نےاپنی لطف ومہربانی سے طہارت حاصل کرنے میں پانی کےقائم مقام ایک چیز رکھی ہے اور وہ مٹی ہے۔ تو تم مٹی کو استعمال کرو کیوں کہ یہ تمہارے لیے پانی کےقائم مقام ہے۔
حوالہ
الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
عن أبي سليمان مالك بن الحويرث رضي الله عنه قال: أَتَينَا رسُول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- ونَحنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُون، فَأَقَمْنَا عِندَهُ عِشْرِينَ لَيلَةً، وَكَان رَسُولُ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- رَحِيمًا رَفِيقًا، فَظَنَّ أَنَّا قَدْ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا، فَسَألَنا عمَّنْ تَرَكْنا مِنْ أَهلِنا، فأَخبَرنَاه، فقال: «ارْجِعُوا إلى أَهْلِيكُم، فَأَقِيمُوا فيهم، وَعَلِّمُوهُم وَمُرُوهُم، وَصَلُّوا صَلاَةَ كَذَا في حِينِ كذَا، وصَلُّوا كَذَا في حِينِ كَذَا، فَإِذا حَضَرَتِ الصلاةُ فَلْيُؤذِّن لكم أَحَدُكُم وَلْيَؤُمَّكُم أكبركم».
زاد البخاري في رواية له: «وصَلُّوا كَمَا رَأَيتُمُونِي أُصَلِّي».
ابو سلیمان مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے۔ ہم آپ ﷺ کے ساتھ بیس راتیں رہے۔ آپ ﷺ بہت رحم دل اور نرم خو تھے۔ آپ ﷺ کو خیال ہوا کہ ہمیں اپنے گھر کے لوگ یاد آ رہے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ہم سے ہمارے ان اہل خانہ کے بارے میں پوچھا جنہیں ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ ہم نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ، ان میں رہو اور انہیں (دین) سکھاؤ اور (نیکی کا) حکم دو۔ دیکھو یہ نماز فلاں وقت اور یہ نماز فلاں وقت پڑھنا۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو ایک شخص تم میں سے اذان دے اور جو تم میں سے بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔ امام بخاری کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ ”اور نماز اسی طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے“۔ یہ عام الوفود یعنی ہجرت کے نویں سال کا واقعہ ہے۔ یہ سب لوگ نوجوان تھے اور نبی ﷺ کے پاس انہوں نے بیس راتوں تک قیام کیا۔ یہ لوگ اللہ کے دین کو سمجھنے کے لیے آئے تھے۔ مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”آپ ﷺ بہت رحم دل اور نرم خو تھے۔ آپ ﷺ کو خیال ہوا کہ ہمیں اپنے گھر کے لوگ یاد آ رہے ہیں“۔ یعنی ہمارا ان سے ملنے کو دل چاہ رہا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ہم سے ہمارے ان اہل خانہ کے بارے میں پوچھا جنہیں ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ ہم نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ، ان میں رہو اور انہیں (دین) سکھاؤ اور (نیکی کا) حکم دو اور فلاں نماز کو اس وقت پڑھو اور فلاں نماز کو اس وقت پڑھو۔ اورجب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرائے۔ امام بخاری کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ تم اسی طرح نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے‘‘۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ رحم دلی و نرمی میں مشہور تھے۔ آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ سب لوگوں سے بڑھ کر رحم دل تھے اور سب سے زیادہ نرم خوئی سے پیش آتے تھے۔ آپ ﷺ رحیم بھی تھے اور شفیق بھی۔ آپ ﷺ نے جب یہ دیکھا کہ ان لوگوں کو اپنے گھر والے یاد آ رہے ہیں تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ وہ اپنے پیچھے کن لوگوں کو چھوڑ کر آئے ہیں؟ انہوں نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا۔ آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جائیں۔ ”اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرائے“۔ یہ امامت کے لیے بڑے کو مقدم کرنے کی دلیل ہے۔ یہ بات نبی ﷺ کے اس فرمان کے منافی نہیں ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ: لوگوں کو وہ شخص امامت کرائے جو سب سے زیادہ قرآن کا قاری ہو۔ کیونکہ یہ سب نوجوان ایک ہی وقت میں آئے تھے اور ظاہر ہے کہ قرأتِ قرآن کے لحاظ سے ان کے مابین کوئی واضح فرق نہیں تھا اور اس معاملے میں وہ ایک دوسرے کے قریب قریب ہی تھے۔ ان میں سے کوئی بھی دوسرے سے زیادہ قرآن کا قاری نہیں تھا۔ اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرائے“۔ کیونکہ قرأت کے معاملے میں وہ سب برابر یا قریب قریب تھے۔ جب یہ لوگ قرأت، سنت اور ہجرت کے معاملے میں برابر ہو گئے تو پھر امامت کا حق بڑے کا ہو گا اور وہ اسے ہی مقدم کریں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز ویسے پڑھو جیسے تم میں نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے“۔ یہ اس نبوی طریقۂ کار کی تاکید ہے کہ آپ ﷺ قول و فعل دونوں کے ذریعے تعلیم دیا کرتے تھے۔ جس شخص نے سکون کے ساتھ نماز نہ پڑھی اسے آپ ﷺ نے یہ فرما کر تعلیم دی کہ ”جب نماز کے لیے تمہارا کھڑا ہونے کا ارادہ ہو تو اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ ہوجاؤ اور پھر قرآن کا جو بھی حصہ چاہو اسے پڑھو اور پھر رکوع کرو...الخ“۔ جب کہ ان نوجوانوں کو آپ ﷺ نے فعل (عمل) کے ذریعے تعلیم دی۔
حوالہ
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي- بيروت - بدون تاريخ.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب - الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا - الطبعة الأولى 1430هـ.
شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
عن النعمان بن بشير رضي الله عنه مرفوعاً: «لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُم أو لَيُخَالِفَنَّ الله بين وُجُوهِكُم».
وفي رواية: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يُسَوِّي صُفُوفَنَا، حتى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بها القِدَاح، حتَّى إِذَا رأى أَنْ قد عَقَلْنَا عَنهُ، ثم خَرَج يومًا فَقَام، حتَّى إِذَا كاد أن يُكَبِّرُ، فَرَأَى رَجُلاً بَادِيًا صَدرُهُ، فقال: عِبَادَ الله، لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُم أو لَيُخَالِفَنَّ الله بين وُجُوهِكُم».
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی صفوں کو سیدھا کر لو؛ ورنہ اللہ تمھارے مابین تفرقہ ڈال دے گا“۔
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہماری صفوں کو سیدھا فرماتے، اتنا سیدھا کہ یوں لگتا کہ آپ ﷺ ان سے تیر سیدھے کریں گے۔ یہاں تک کہ جب آپ ﷺ كو محسوس ہوا کہ ہم آپ کے فرمان کو سمجھ چکے ہیں۔ پھر ایک دن آپ ﷺ باہر آئے اور (نماز كے لیے) کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ تکبیر کہنے ہی والے تھے کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا، جو اپنا سینہ باہر نکالے ہوئے تھا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! اپنی صفوں کو سیدھا کرو؛ ورنہ اللہ تمھارے مابین اختلاف ڈال دے گا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اگرصفیں برابر اور سیدھی نہ کی گئیں، تواللہ تعالیٰ ان لوگوں کے مابین اختلاف پیدا فرما دیں گے، جن کی صفیں ٹیڑھی ہیں اور جنھوں نے ان کو سیدھا نہ کیا۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے، جب صف میں کچھ لوگ دوسرے لوگوں سے آگے بڑھ جاتے ہیں اور اپنے مابین خالی جگہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ نبی ﷺ قول کے ذریعے سے اپنے صحابہ کو تعلیم دیتے اور فعل کے ذریعے سے ان کی تہذیب فرماتے۔ چنانچہ آپ ﷺ انھیں اپنے ہاتھ سے درست فرماتے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کو یہ محسوس ہوا کہ وہ اس بات کو جان چکے ہیں اورسجمھ گئے ہیں۔ ایک نماز میں آپ ﷺ نے ایک صحابی کو دیکھا کہ صف میں ان کا سینہ اپنے ساتھیوں کے مابین کچھ ابھرا ہوا ہے اور باہر آ رہا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ غصہ میں آ گئے اور فرمایا: ”اپنی صفوں کو سیدھا کر لو، ورنہ اللہ تمھارے مابین اختلاف ڈال دیں گے“۔
حوالہ
الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381ه.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426ه.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "کیا تم میں سے کوئی شخص، جو امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے، اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کے سر کو گدھے کا سر بنا دے یا اس کی صورت گدھے کی صورت جیسی بنا دے؟"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے امام سے پہلے اپنا سر اٹھانے والے کو یہ سخت وعید سنائی ہے کہ کہیں اس کے سر کو گدھے کا سر نہ بنا دے یا اس کی صورت گدھے کی صورت جیسی نہ بنا دے۔
فوائد
امام کے ساتھ مقتدیوں کی چار حالتیں ہو سکتی ہيں۔ ان میں تین حالتیں ممنوع ہیں۔ یعنی امام سے آگے بڑھ جانا، اس کے ساتھ ساتھ چلنا اور اس سے پیچھے رہ جانا۔ جب کہ ہونا یہ چاہیے کہ مقتدی امام کے اتباع کرے۔
مقتدی کے لیے امام کی اتباع کرنا واجب ہے۔
امام سے پہلے اپنا سر اٹھانے والے کے سر کو گدھے کا سر بنا دیا جائے، ایسا ممکن ہے۔ یہ ایک طرح کا مسخ ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 140) (691).
صحيح مسلم (1/ 321) (427).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 111).
خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص65).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص133).
عن عبد الله بن عَبَّاس رضي الله عنهما قال: أقبلْتُ راكبا على حِمار أَتَانٍ، وأنا يومئذ قد نَاهَزْتُ الاحْتِلامَ، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلِّي بالناس بِمِنًى إلى غير جِدار، مررتُ بين يدي بعض الصفّ، فنزلت، فأرسلتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ، ودخلتُ في الصفّ، فلم يُنْكِرْ ذلك عليَّ أحد.
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں گدھی پر سوار ہو کر آیا، ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا۔ رسول اللہ ﷺ منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے اور آپ ﷺ کے سامنے کوئی دیوار نہیں تھی۔ میں صف کے سامنے سے گزرا اور پھر اتر کر گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑدیا اور خود صف میں شامل ہو گیا۔ کسی نے مجھے اس پر نہیں ٹوکا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ جب وہ حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے تو وہ ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے اور صف کے سامنے سے گزرے۔ نبی ﷺ اس وقت اپنے صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے اور آپ ﷺ کے سامنے کوئی دیوار نہیں تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ گدھی سے نیچے اترے اور اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہو گئے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ وہ اس وقت بلوغت کے قریب تھے یعنی وہ ایسی عمر میں تھے کہ اگر وہ کوئی ایسی بات کے مرتکب ہوئے ہوتے جس سے نمازیوں کی نماز خراب ہو جاتی تو ان پر نکیر کی جاتی۔ لیکن اس کے باوجود کسی نے بھی نکیر نہیں کی، نہ نبی ﷺ نے اور نہ ہی صحابہ میں سے کسی نے۔
حوالہ
الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
عن أَنَس بنِ مَالِكٍ رضي الله عنه «أنَّ جَدَّتَهُ مُلَيكَة دَعَت رسول الله صلى الله عليه وسلم لِطَعَام صَنَعتُه، فَأَكَل مِنه، ثم قال: قُومُوا فَلِأُصَلِّي لَكُم؟ قال أنس: فَقُمتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قد اسوَدَّ من طُولِ مَا لُبِس، فَنَضَحتُه بماء، فقام عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وَصَفَفتُ أنا واليَتِيمُ وَرَاءَهُ، والعَجُوزُ مِن وَرَائِنَا، فَصَلَّى لَنَا رَكعَتَين، ثُمَّ انصَرَف».
ولمسلم «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى به وبِأُمِّه فَأَقَامَنِي عن يَمِينِه، وأقام المَرأةَ خَلْفَنَا».
انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی دادی مُلیکہ نے رسول اللہ ﷺ کو ایک کھانے پر بلایا، جو انہوں نے آپ ﷺ کے لیے تیار کیا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا، پھر فرمایا: ”اٹھو، تاکہ میں تمہیں نماز پڑھا دوں“، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی ایک چٹائی کی طرف اٹھا جو کثرت استعمال سے سیاہ ہوگئی تھی۔ میں نے اس پر پانی کا چھينٹا مارا، پھر رسول اللہ ﷺ اس پر کھڑے ہوئے۔ میں اور ایک یتیم لڑکے نے آپ کے پیچھے صف بنائی اور بوڑھی دادی ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ واپس تشریف لے گئے۔
صحيح مسلم کی روايت ميں ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے انہيں اور ان کی ماں کو نماز پڑھائی۔ تو مجھے اپنے دائیں کھڑا کيا اور ماں کو ہمارے پيچھے کھڑا کيا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
مليکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے کے لیے بلایا، جو انہوں نے آپ کے لیے تیار کیا تھا۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو اعلی اخلاق اوربلند کردارسے سرفراز کياتھا۔ انہی میں سے ایک آپ کی بے حد تواضع و خاکساری ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ عظيم مقام ومرتبہ پر فائز ہونے کے باوجود چھوٹے بڑے، مرد وعورت، امير وغريب سب کی دعوت قبول فرماتے تھے۔ آپ ﷺ اس کے ذريعہ کمزوروں اور محتاجوں کی غمگساری، فقيروں اور مسکينوں سے ہمدردی اور جاہلوں کی تعليم وتربيت جيسے اہم مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ پس آپ ﷺ اس دعوت دینے والی خاتون کے ہاں تشریف لائے اور اس کا کھانا تناول فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے اس موقع کو غنيمت جانتے ہوئے ان کمزوروں کو، جو بسا اوقات بڑوں کے ساتھ آپ ﷺ کی مبارک مجلسوں ميں نہيں حاضر ہوتے ہيں، تعليم دينا چاہا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سب کو کھڑے ہونے کا حکم ديا تاکہ انہيں نماز پڑھائيں جس سے انہيں نماز کی کيفيت کا علم ہو جائے۔
انس رضی اللہ عنہ ايک پرانی چٹائی کی طرف متوجہ ہوئے جو کثرت استعمال کی وجہ سے سياہ ہو چکی تھی، اس کو پانی سے دھلا۔ پھر آپ ﷺ انھیں نماز پڑھانے کے لیے اس پر کھڑے ہوئے۔ انس رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ ايک يتيم لڑکا نبی ﷺ کے پيچھے ايک صف ميں کھڑے ہوئے اور مليکہ رضی اللہ عنہا -جو میزبان تھیں- نماز پڑھنے کے لیے انس رضی اللہ عنہ اور يتيم لڑکے کے پيچھے کھڑی ہوئيں۔ آپ ﷺ نے انھیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ دعوت وتعليم کا حق ادا کرنے کے بعد واپس آگئے۔ الحمد للہ اللہ کا ہم پر بہت بڑا احسان کہ ہميں آپ ﷺ کے افعال واخلاق میں آپ کا متبع بنايا ہے۔
حوالہ
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام، لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ .
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
عن أَنَس بن مالك رضي الله عنه مرفوعاً: «ما صَلَّيْتُ خلف إمام قَطُّ أَخَفَّ صلاة، ولا أَتَمَّ صلاة من النبي صلى الله عليه وسلم ».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ” میں نے نبی ﷺ کی نماز سے زیادہ ہلکی اور زیادہ کامل نماز کبھی کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ آسانی پیدا کرنے کا حکم دیتے اور قول وفعل کے ذریعے اس کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ اورعبادت کے تمام حقوق کا خیال رکھتے ہوئے یعنی اسے مکمل اور پورے طریقے سے ادا کرنے کے ساتھ ساتھ نماز میں تخفیف کرنا بھی آسانی پیدا کرنے ہی میں آتا ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس بات کی نفی کر رہے ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی امام کے پیچھے امام اعظم ﷺ سے زیادہ ہلکی نماز پڑھی ہو بایں طور کہ آپﷺ مقتدیوں کو مشقت میں نہیں ڈالتے تھے۔ وہ نماز سے فارغ ہو جاتے حالانکہ ابھی مزید پڑھنے کی ان میں چاہت باقی ہوتی۔ اسی طرح نبی ﷺ کی نماز سے زیادہ کامل بھی کوئی نماز نہیں۔ نبی ﷺ اسے پورے طریقے سے پڑھتے۔ اس میں کچھ کمی بیشی نہ کرتے بلکہ اس کے واجبات ومستحبات کو ادا کرتے ہوئے اس کو مکمل انداز میں پڑھتے۔ یہ نبی ﷺ کی برکت کے آثار میں سے ہے۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ، 2006م.
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ، 1988م.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، الطبعة: الأولى 1427هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com