نبی ﷺ آسانی پیدا کرنے کا حکم دیتے اور قول وفعل کے ذریعے اس کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ اورعبادت کے تمام حقوق کا خیال رکھتے ہوئے یعنی اسے مکمل اور پورے طریقے سے ادا کرنے کے ساتھ ساتھ نماز میں تخفیف کرنا بھی آسانی پیدا کرنے ہی میں آتا ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس بات کی نفی کر رہے ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی امام کے پیچھے امام اعظم ﷺ سے زیادہ ہلکی نماز پڑھی ہو بایں طور کہ آپﷺ مقتدیوں کو مشقت میں نہیں ڈالتے تھے۔ وہ نماز سے فارغ ہو جاتے حالانکہ ابھی مزید پڑھنے کی ان میں چاہت باقی ہوتی۔ اسی طرح نبی ﷺ کی نماز سے زیادہ کامل بھی کوئی نماز نہیں۔ نبی ﷺ اسے پورے طریقے سے پڑھتے۔ اس میں کچھ کمی بیشی نہ کرتے بلکہ اس کے واجبات ومستحبات کو ادا کرتے ہوئے اس کو مکمل انداز میں پڑھتے۔ یہ نبی ﷺ کی برکت کے آثار میں سے ہے۔
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ، 2006م. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ، 1988م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، الطبعة: الأولى 1427هـ.