سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

کیا تم میں سے کوئی شخص، جو امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے، اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کے سر کو گدھے کا سر بنا دے یا اس کی صورت گدھے کی صورت جیسی بنا دے؟

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ - أَوْ: لاَ يَخْشَى أَحَدُكُمْ - إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ، أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ، أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "کیا تم میں سے کوئی شخص، جو امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے، اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کے سر کو گدھے کا سر بنا دے یا اس کی صورت گدھے کی صورت جیسی بنا دے؟"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے امام سے پہلے اپنا سر اٹھانے والے کو یہ سخت وعید سنائی ہے کہ کہیں اس کے سر کو گدھے کا سر نہ بنا دے یا اس کی صورت گدھے کی صورت جیسی نہ بنا دے۔

فوائد
  1. امام کے ساتھ مقتدیوں کی چار حالتیں ہو سکتی ہيں۔ ان میں تین حالتیں ممنوع ہیں۔ یعنی امام سے آگے بڑھ جانا، اس کے ساتھ ساتھ چلنا اور اس سے پیچھے رہ جانا۔ جب کہ ہونا یہ چاہیے کہ مقتدی امام کے اتباع کرے۔
  2. مقتدی کے لیے امام کی اتباع کرنا واجب ہے۔
  3. امام سے پہلے اپنا سر اٹھانے والے کے سر کو گدھے کا سر بنا دیا جائے، ایسا ممکن ہے۔ یہ ایک طرح کا مسخ ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 140) (691). صحيح مسلم (1/ 321) (427). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 111). خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص65). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص133).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
امام اور مقتدی سے متعلق احکام

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com