سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو اسے نماز دہرانے کا حکم دیا۔

عَنْ وَابِصَةَ رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا صَلَّى وَحْدَهُ خَلْفَ الصَّفِّ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ صَلَاتَهُ.
وابصہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو اسے نماز دہرانے کا حکم دیا۔
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمددرجہحسن
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو اسے نماز دہرانے کا حکم دیا۔ کیوں کہ اس حالت میں نماز درست نہيں ہوتی۔

فوائد
  1. با جماعت نماز کے لیے جلدی جانے، اس میں آگے رہنے اور اس بات کی ترغیب کہ کوئی صف کے پیچھے اکیلے نماز نہ پڑھے، تاکہ نماز باطل نہ ہو جائے۔
  2. ابن حجر کہتے ہیں: جس نے صف کے پیچھے اکیلے نماز شروع کی اور اس کے بعد رکوع سے اٹھنے سے پہلے صف میں داخل ہو گیا، اس پر نماز دہرانا ضروری نہيں ہوگا۔ جیسا کہ ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے۔ بصورت ديگر وابصہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے عموم کی بنا پر دہرانا واجب ہوگا۔
حوالہ

سنن أبي داود (2/ 18) (682). سنن الترمذي (1/ 268) (230). سنن ابن ماجه (2/ 137) (1004). مسند أحمد (29/ 524) (18000). سبل السلام شرح بلوغ المرام، لمحمد الصنعاني (1/ 378). توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، لعبد الله البسام (2/ 509). فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (2/ 288).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
امام اور مقتدی سے متعلق احکام

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com