ابو بکرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو رکوع کی حالت میں پایا، چناں چہ انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا تاکہ رکعت پاسکیں، پھر وہ رکوع كي حالت میں صف میں ملنے کے لئے چلے یہاں تک کہ مقتدیوں کے ساتھ صف میں داخل ہو گئے، نبی ﷺ نے صف کے پیچھے کی حرکت کو محسوس کیا اور سمجھ گئے کہ کوئی تیز چل کر آیا ہے اورصف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا ہے، بلکہ یہ بات آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے تھی کہ آپ نماز میں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھ لیتے جس طرح آپ ﷺ اپنے سامنے سے دیکھتے۔ پھر جب نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو پو چھا: تم میں سے کس نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا تھا، پھر صف میں ملنے کے لئے چل کر آیا؟ ابو بکرہ نے کہا: میں نے، یعنی جو آپ دریافت کر رہے ہیں اے اللہ کے رسول! وہ میں نے کیا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہاری نیکی کی حرص و چاہ اور رغبت کو بڑھائے، لیکن دوبارہ رکعت پانے کے لئے تیز چل کر نہ آنا اور نہ صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کرنا، اس لئے کہ جلد بازی سکون اور وقار کے منافی و خلاف ہے، اور آپ ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ: ”صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز نہیں ہوتی“ ابو بکرہ کا عمل اس سے خارج ہے کیوں کہ صف کے پیچھے ان کا تنہا رہنا تھوڑی دیر کے لیے تھا، جیسے کہ کسی نے تنہا رکوع کیا اورحالت رکوع ہی میں کوئی اس کے ساتھ آکر مل گیا، پھر بھی ایسا کرنا آپ ﷺ کے اس فرمان: ”دوبارہ ایسا نہ کرنا“ کی وجہ سے مشروع و درست نہیں ہے۔
سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا. مسند الإمام أحمد، تأليف: أحمد بن محمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرناؤوط وغيره، الناشر: الناشر: مؤسسة الرسالة ، الطبعة: الأولى، 1421هـ. صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ. سبل السلام، تأليف: محمد بن إسماعيل الصنعاني، الناشر: دار الحديث. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: علي بن سلطان القاري، الناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1422هـ. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. فتح ذي الجلال والإكرام، شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: المكتبة الإسلامية، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة.