عن ابن عباس وعمران بن الحصين رضي الله عنهم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «اطَّلَعت في الجنة فرأيتُ أكثرَ أهلِها الفقراءَ، واطَّلعتُ في النار فرأيتُ أكثرَ أهلها النِّساءَ».
ابن عباس اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: ”میں نےجنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اس میں زیادہ تر غریب لوگ تھے اور میں نے جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ اس حدیث میں بیان فرما رہے ہیں کہ آپ ﷺ نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس میں زیادہ تر غریب لوگ تھے کیونکہ غریبوں کے پاس ایسی کوئی شے ہوتی ہی نہیں جو انہیں سرکش بنائے۔ یہ لوگ پابندِ دین اور مطیع و فرماں بردار ہوتے ہیں۔ اسی لیے جو شخص آیات میں غور و فکر کرتا ہے اس پر یہ آشکارا ہوتا ہے کہ صاحبِ حیثیت اور امیر لوگ ہی رسولوں کو جھٹلاتے ہیں جب کہ کمزور وناتواں لوگ رسولوں کی پیروی کرتے ہیں اس لیے جنت میں زیادہ تر یہی لوگ ہوں گے۔
حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر غریب کو ہر امیر پر فضیلت حاصل ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جنت میں غریب لوگ امیر لوگوں سے زیادہ ہیں اور اسی بات کی آپ ﷺ نےخبر دی ہے۔ ان کی غربت ان کے جنت میں جانے کا سبب نہیں اگرچہ اس کی وجہ سے ان کے حساب میں کچھ تخفیف ضرور ہو گی۔ اس کے بجائے وہ اپنی راستگی کی وجہ سے جنت میں جائیں گے۔ غریب آدمی اگر راست رو نہ ہو تو اسے کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔
اسی طرح نبی ﷺ نے بتایا کہ آپ ﷺ نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو اس میں زیادہ تر عورتیں نظر آئیں۔ کیونکہ عورتوں میں ایسی بری عادات ہوتی ہیں جن کا رنگ ان کی طبیعتوں پر حاوی ہو جاتا ہے اور وہ ان میں رچ بس جاتی ہیں۔ شوہر کی ناشکری اور کثرت کے ساتھ لعن طن کرنا انہی بری عادات میں سے ہے۔
اس لیے ان پر ضروری ہے کہ اپنے دین کی حفاظت کریں تاکہ جہنم سے محفوظ رہیں۔
حوالہ
- صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
- صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب، الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
- كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا، الطبعة الأولى، 1430ه.
- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، دار ابن الجوزي - الطبعة الأولى، 1418ه.
-دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين, محمد علي بن محمد البكري, اعتنى بها: خليل مأمون شيحا, الناشر: دار المعرفة, بيروت - لبنان, الطبعة: الرابعة، 1425هـ - 2004م.
-نزهة المتقين شرح رياض الصالحين, مصطفى سعيد الخن، مصطفى البغا، محي الدين مستو، علي الشربجي، محمد أمين لطفي, مؤسسة الرسالة, سنة النشر: 1407ه – 1987م, الطبعة: 14.
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه مرفوعاً: «احْتَجَّتِ الجنَّة والنَّار، فقالتِ النَّار: فيَّ الجبَّارون والمُتَكَبِّرُون. وقالتِ الجنَّة: فيَّ ضُعَفَاء الناسِ ومساكِينُهُم، فقضى الله بَيْنَهُمَا: إِنك الجنَّة رحْمَتي أَرحم بك من أشاء، وإِنك النَّار عذابي أُعذب بك من أشاء، ولِكِلَيْكُمَا عليَّ مِلْؤُهَا».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جنت اور دوزخ نے آپس میں جھگڑا کیا تو دوزخ نے کہا کہ میرے اندر بڑے سرکش اور متکبر لوگ ہوں گے۔ اور جنت نے کہا کہ میرے اندر کمزور اور مسکین قسم کے لوگ ہوں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرمایا:’اے جنت! تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا اور اے جہنم، تو میرا عذاب ہے میں تیرے ذریعے جس کو چاہوں گا عذاب دوں گا اور تم دونوں کو بھرنا میرے ذمے ہے‘۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جنت ودوزخ کے مابین جھگڑا ہوا تو ہر کسی نے اپنی اپنی دلیل دی ۔ (اس حدیث میں جو کچھ بیان ہوا) اس کا تعلق امور غیب سے ہے جس پر ایمان لانا ہم پر واجب ہے اگرچہ عقل اسے بعید ہی جانے ۔
جنت نے دوزخ کے مقابلے میں اپنی دلیل دی اور دوزخ نے جنت کے خلاف اپنی دلیل پیش کی ۔ دوزخ نے کہا کہ اس میں سرکش و متکبر لوگ ہوں گے ۔ جبار لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن میں سختی اور درشتگی ہوتی ہے اور متکبر لوگ وہ ہیں جو اپنی برتری اور بڑکپن جتاتے ہیں یعنی جو لوگوں کو حقیر جانتے ہیں اور حق کو جھٹلاتے ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہﷺ نے کبر کے بارے فرمایا کہ (کبر سے مراد) حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ چنانچہ سرکش اور متکبر لوگ دوزخی ہیں ۔ العیاذ باللہ ۔ بسا اوقات ایسے ہوتا ہے کہ دوزخی شخص لوگوں کے لیے تو بڑا نرم خو اور خوش اخلاق ہوتا ہے تاہم حق کو تسلیم کرنے کے سلسلے میں وہ سرکشی دکھاتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے چنانچہ ایسے شخص کو لوگوں کے ساتھ اس کی یہ نرم خوئی اور مہربانی کوئی فائدہ نہیں دیتی، بلکہ اس کے باوجود بھی وہ سرکش و متکبر ہی ہوتا ہے اگرچہ لوگوں کے لیے وہ نرم خو ہی کیوں نہ ہو ۔
پس اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرمایا اور جنت سے کہا:’’اے جنت! تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعے سے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا‘‘ اور جہنم سے کہا: اور اے جہنم، تو میرا عذاب ہے میں تیرے ذریعے سے جس کو چاہوں گا عذاب دوں گا‘‘ اور پھر عزوجل نے کہا: ’’ اور تم دونوں کو بھرنا میرے ذمے ہے۔'' اللہ عزوجل نے اپنے اوپر یہ ذمہ داری اور وعدہ لے رکھا ہے کہ وہ جنت وجہنم کو بھردے گا، تاہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی فضل ومہربانی اس کے غضب سے وسیع ہے۔ چنانچہ روزِقیامت جب جہنمیوں کو آگ میں ڈال چکے گا تو جہنم کہے گی: اور کوئی ہے، یعنی مجھے اور دو، مجھے اور دو، زیادہ دو، چنانچہ اس میں اللہ اپنے پیرکو رکھے گا، اور ایک لفظ میں ’’قدم‘‘ کا ذکر ہے، چنانچہ جہنم کے حصے آپس میں سکڑ جائیں گے، اور رب عزّ وجلّ کے اس میں قدم رکھنے کی وجہ سے آپس میں جہنم مل جائے گی، اور کہے گی: بس بس یعنی کافی ہے کافی ہے، اور یہی جہنم کا بھرنا ہے۔
رہی بات جنت کی توجنت بہت وسیع ہے، اس کی چوڑائی آسمان وزمین کے برابر ہے، اس میں جنتی داخل ہوں گے اور ان جنتیوں کے مقدار کے مطابق زائد حصہ باقی رہ جائے گا، چنانچہ اس کے لیے اللہ ایک ایسی قوم کو پیدا کرے گا جنہیں اپنے فضل وکرم سے جنت میں داخل کرے گا، کیونکہ اللہ نے اس کے بھرنے کی ذمہ داری لے رکھی ہے۔
حوالہ
- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
- صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
- كنوز رياض الصالحين،لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه.
- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي،تحقيق خليل مأمون شيحا-دار المعرفة-بيروت-الطبعة الرابعة1425ه.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ان سے کہا گیا کہ آپ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان سے بات کیوں نہيں کرتے؟ لہذا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میں ان سے تمھیں سنا کر ہی بات کروں گا؟ اللہ کی قسم میں نے ان سے تنہائی میں بات کی ہے، تاکہ کسی طرح کے فساد کا دروازہ نہ کھلے۔ میں یہ بھی نہيں چاہتا کہ سب سے پہلے میں ہی فتنے کا دروازہ کھولوں۔ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ حدیث سننے کے بعد یہ بھی نہيں کہتا کہ جو شخص میرا حکمراں ہے، وہ سب لوگوں سے بہتر ہے : "قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، جس سے اس کے پیٹ کی انتڑیاں باہر نکل آئيں گی اور وہ ان کے ساتھ ایسے گھوم رہا ہوگا، جیسے گدھا چکی کے چاروں جانب گھومتا ہے۔ ایسے میں سارے جہنمی اس کے پاس جمع ہو جائيں گے اور کہيں گے : اے فلاں! تیرے ساتھ ایسا کیسے ہوا؟ کیا ایسا نہيں ہے کہ تو بھلائی کا حکم دیتا تھا اور برائی سے روکتا تھا؟ وہ جواب دے گا : یہ تو سچ ہے۔ مگر میں دوسروں کو بھلائی کا حکم دیتا تھا اور خود اس پر عمل پیرا نہيں ہوتا تھا۔ دوسروں کو برائی سے روکتا تھا اور خود اس کا ارتکاب کرتا تھا۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
کسی نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ عثمان بن عفان کے پاس جاکر ان سے لوگوں کے درمیان رو نما ہونے والے فتنے کے بارے میں بات کیوں نہيں کرتے اور اس آگ کو بجھانے کی کوشش کیوں نہيں کرتے؟ جواب میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے ان سے بات تو کی ہے، لیکن رازداری کے ساتھ۔ تاکہ مصلحت حاصل ہو جائے اور کوئی فتنہ سر نہ اٹھائے۔ وہ کہنا یہ چاہتے تھے کہ وہ لوگوں کے سامنے کھل کر امراء کی نکیر نہیں کرنا چاہتے، تاکہ خلیفہ کے خلاف زبان درازی کی نوبت نہ آئے۔ کیوں کہ اس سے فتنے اور برائی کا دروازہ کھلے گا اور وہ نہيں چاہتے کہ یہ دروازہ سب سے پہلے ان کے ہاتھ سے کھلے۔
اس کے بعد اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ امرا کو تنہائی میں نصیحت کرتے ہيں اور کسی کی چاپلوسی نہيں کرتے کہ منہ پر ان کی غلط تعریف کریں۔ چاہے امیر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ طرز عمل انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حدیث سننے کے بعد اختیار کیا کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ جہنم کی آگ اتنی تیز ہوگی کہ گرنے کے ساتھ ہی اس کے پیٹ سے انتڑیاں نکل کر باہر آجائيں گی۔ ایسے میں وہ شخص اپنی انتڑیوں کے ساتھ ایسے چاروں طرف گھوم رہا ہوگا، جیسے گدھا چکی کے چاروں طرف گھومتا ہے۔ یہ منظر دیکھ جہنمی اس کے اردگرد حلقہ بناکر جمع ہو جائيں گے اور اس سے پوچھیں گے کہ اے فلاں! کیا تم ہمیں بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکا نہيں کرتے تھے؟
وہ جواب دے گا: یہ سچ ہے کہ میں تمھیں بھلائی کا حکم دیتا تھا، لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔ میں برائی سے روکتا تھا، لیکن خود اس میں ملوث ہو جایا کرتا تھا۔
فوائد
حکمرانوں کو نصیحت تنہائی میں کرنی چاہیے اور اس کا ذکر عوام الناس کے سامنے نہيں کرنا چاہیے۔
ایسے شخص کے لیے سخت وعید، جس کا قول اس کے فعل کے خلاف ہو۔
امرا کے ساتھ ادب و احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور ان کو بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا چاہیے۔
امرا کی مداہنت اور دل میں کچھ رکھنے اور ان کے سامنے کچھ اور کہنے کی مذمت۔
حوالہ
صحيح البخاري (4/ 121) (3267).
صحيح مسلم (4/ 2290) (2989).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (4/ 143).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 358).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص156).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 220).
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ اچانک کچھ گرنے کی آواز سنائی دی۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟“ ہم نےکہا : اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہ ایک پتھر ہے، جو ستر سال پہلے دوزخ میں پھینکا گیا تھا اور وہ لگاتار دوزخ میں گر رہا تھا۔ اب جاکر اس کی تہہ تک پہنچا ہے“۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک خوف ناک آواز سنی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی چيز اوپر سے نیچے گری ہو۔ چنانچہ اپنے پاس موجود صحابہ سے اس آواز کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو بہتر معلوم ہے۔
لہذا آپ نے ان سے کہا: جو آواز تم نے سنی، داصل وہ ایک پتھر کے گرنے کی آواز ہے، جو ستر سال پہلے جہنم کے کنارہ سے اس کے اندر ڈالا گیا تھا اور وہ اب جاکر اس کی تہہ تک پہنچا ہے، جس کی آواز تم کو سنائی دی۔
فوائد
آخرت کے دن کی تیاری کرنے کی ترغیب اور جہنم سے ڈرانا۔
جس بات کا علم نہ ہو، اس کی نسبت اللہ کی طرف کر دینا مستحب ہے۔
کوئی بات بیان کرنے سے پہلے استاد کو اس کی جانب توجہ دلانی چاہیے، تاکہ اچھے سے سمجھ میں آ جائے۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 2184) (2844).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 476).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 369).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (6/ 414).
عن حُصين بن عبد الرحمن قال: كنتُ عند سعيد بن جُبير فقال: أيكم رأى الكوكب الذي انقَضَّ البارحة؟ فقلتُ: أنا، ثم قلتُ: أما إني لم أكن في صلاة، ولكني لُدغْتُ، قال: فما صنعتَ؟ قلت: ارتقيتُ، قال: فما حَمَلك على ذلك؟ قلت: حديث حدَّثَناه الشعبي، قال: وما حدَّثَكم؟ قلتُ حدثنا عن بريدة بن الحُصيب أنه قال: "لا رُقْية إلا مِن عَيْن أو حُمَة"، قال: قد أحسَن مَن انتهى إلى ما سمع، ولكن حدثنا ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال:
"عُرضت عليّ الأُمم، فرأيتُ النبي ومعه الرَّهط والنبي ومعه الرجل والرجلان، والنبي وليس معه أحد، إذ رُفع لي سواد عظيم فظننتُ أنهم أمَّتي، فقيل لي: هذا موسى وقومه، فنظرتُ فإذا سواد عظيم، فقيل لي: هذه أمَّتك، ومعهم سبعون ألفا يدخلون الجنة بغير حساب ولا عذاب، ثم نهض فدخل منْزله، فخاض الناس في أولئك؛ فقال بعضهم: فلعلهم الذين صحِبوا رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال بعضهم: فلعلهم الذين وُلِدُوا في الإسلام فلم يشركوا بالله شيئا، وذكروا أشياء، فخرج عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبروه، فقال: هم الذين لا يَسْتَرقون، ولا يَكْتَوُون، ولا يَتَطَيَّرون، وعلى ربهم يتوكلون، فقام عُكاشة بن مِحصَن فقال: ادع الله أن يجعلني منهم، قال: أنت منهم، ثم قام جل آخر فقال: ادع الله أن يجعلني منهم، فقال: سَبَقَك بها عكاشة".
حصین بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ: میں سعید بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا تو انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس تارے کو دیکھا جو کل رات ٹوٹا؟ میں نے کہا: میں نے دیکھا، پھر میں نے کہا: میں اس وقت نماز میں نہیں تھا کیونکہ میں (کسی زہریلے بچھو کے ذریعہ) ڈس لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا: تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا: جھاڑ پھونک کیا۔ انہوں نے کہا: تمہیں کس چیز نے اس بات پر ابھارا؟ میں نے کہا: شعبی کی بیان کردہ ایک حدیث نے۔ انہوں نے کہا: شعبی نے کیا بیان کیا؟ میں نے کہا: ہم سے انہوں نے بریدہ بن حُصیب سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: ”نظر بد اور زہریلے جانور کے کاٹ کھانے کے سوا اور کسی چیز پر جھاڑ پھونک صحیح نہیں“۔ انہوں نے کہا: جو کچھ تم نے سنا ٹھیک سنا۔ لیکن مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کردہ حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”میرے سامنے تمام امتیں پیش کی گئیں میں نے ایک نبی کو دیکھا، ان کے ساتھ ایک چھوٹا سا (دس سے کم کا) گروہ تھا، کسی (اور) نبی کو دیکھا کہ اس کے ساتھ ایک یا دو امتی تھے، کوئی نبی ایسا بھی تھا کہ اس کے ساتھ کوئی امتی نہ تھا، آخر میرے سامنے ایک بڑی بھاری جماعت آئی۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں، کیا یہ میری امت کے لوگ ہیں؟ مجھ سے کہا گیا کہ: یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے، میں نے دیکھا کہ ایک بہت ہی عظیم جماعت ہے، پھر مجھ سے کہا گیا : یہ آپ کی امت ہے اور اس میں سے ستر ہزار حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے۔ پھر آپ اٹھے اور اپنے حجرہ میں تشریف لے گئے، لوگ ان جنتیوں کے بارے میں بحث کرنے لگے، اور کچھ لوگ کہنے لگے: شاید کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت پائی ہے۔ اور کچھ لوگوں نے کہا: شاید یہ وہ لوگ ہیں جن کی ولادت اسلام میں ہوئی اور انہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا۔ اور بہت سی باتیں لوگوں نے کہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم باہر تشریف لائے اور آپ کو اس بات کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے، داغ کر علاج نہیں کرتے اور بد شگونی و فال نہیں لیتے بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس پر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا :آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے انہیں میں کردے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم انہیں میں سے ہو۔ پھر ایک دوسرے صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا : آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے انہیں میں کردے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : عکاشہ تم سے بازی لے گئے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
حصین بن عبد الرحمٰن رحمہ اللہ نے جھاڑ پھونک سے متعلق اپنے اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے مابین ہونے والی گفتگو کو بیان کیا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ حصین کو بچھو نے ڈس لیا اور انھوں نے مشروع رقیہ کے ذریعے جھاڑ پھونک کیا۔ جب سعید نے ان سے دلیل طلب کی، تو انھوں نے شعبی کی وہ حدیث بیان کی، جو نظر بد اور زہر کے لیے جھاڑ پھونک کو مباح قرار دیتی ہے۔ سعید نے اس پر ان کی تعریف کی، لیکن اس کے ساتھ ان کے لیے ترکِ رقیہ کو بہتر قرار دینے والی حدیث بیان کی۔ وہ حدیث ابن عباس سے مروی ہے، جس میں چار صفات سے متصف لوگوں کو حساب و عذاب کے بغیر جنت کا مستحق بتایا گیا ہے، جو درج ذیل ہیں:جھاڑ پھونک سے اجتناب کرنا، داغنے کے علاج سے پرہیز کرنا، بد فالی سے دور رہنا اور اللہ تعالیٰ پر سچا بھروسہ کرنا۔ جب عکاشہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس جماعت میں شامل ہونے کے لیے دعا کی درخواست کی، تو آپ نے بتایا کہ تم انھیں میں سے ہو۔ لیکن جب یہی گزارش دوسرے صحابی نے کی، تو آپ نے ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے منع کر دیا؛ تاکہ اس سلسلے کا سد باب کیا جا سکے۔
حوالہ
-صحيح البخاري، المحقق: محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه.
-صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.
-الملخص في شرح كتاب التوحيد، دار العاصمة، الرياض، الطبعة: الأولى، 1422ه - 2001م.
-الجديد في شرح كتاب التوحيد، مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الخامسة، 1424هـ - 2003م.
عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی ساجھی اور شریک نہیں، اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، بے شک عیسٰی علیہ السلام اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور اس کا وہ کلمہ ہیں جو اس نے مریم تک پہنچایا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں اور جنت اور دوزخ بر حق ہیں، اللہ تعالٰی اس کو جنت میں داخل فرمائے گا، خواہ اس کے اعمال جیسے بھی ہی ہوں"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں بتا رہے ہیں کہ جس نے کلمۂ توحید کے معنی و مفہوم کو سمجھتے ہوئے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے، اسے اپنی زبان سے ادا کیا، محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے بندہ اور رسول ہونے کی گواہی دی، عیسی علیہ السلام کے اللہ کے بندہ اور رسول ہونے کا اعتراف کیا، اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اللہ نے ان کو لفظ "کن" سے پیدا کیا ہے اور وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی ارواح میں سے ایک روح ہیں، ان کی ماں کو یہودیوں کی جانب سے لگائے الزامات سے بری قرار دیا، اس بات پر ایمان رکھا کہ جنت اور جہنم دونوں برحق ہيں، اس نے دونوں کے وجود پر یقین رکھا اور ان کو اللہ کی نعمتوں اور عذابوں کی جگہ مانا اور اسی ایمان و یقین کے ساتھ مر گیا، تو اس کا ٹھکانہ جنت ہوگا، اگرچہ اس سے اللہ کی عبادت میں کچھ کوتاہیاں ہوئی ہوں اور کچھ گناہ بھی کیے ہوں۔
فوائد
اللہ نے مریم کے بیٹے کو لفظ "کن" سے بغیر باپ کے پیدا کیا۔
عیسی علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم دونوں اللہ کے بندے اور رسول تھے۔ دونوں رسول تھے، انہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا اور اللہ کے بندے تھے، اس لیے ان کی عبادت نہيں کی جا سکتی۔
توحید کی فضیلت اور یہ کہ اس سے بندے کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔ توحید پر قائم رہنے والے کا ٹھکانہ جنت ہے، چاہے اس سے کچھ گناہ ہی کیوں نہ ہو گئے ہوں۔
حوالہ
صحيح البخاري (4/ 165) (3435).
صحيح مسلم (1/ 57) (28).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص25).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص36).
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «مَنْ لَقِيَ اللهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَقِيَهُ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ».
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: "جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے گہ کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس کی وفات اس حال میں ہوئی کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہيں بنایا تو اس کا ٹھکانہ جنت ہوگا، اگرچہ اسے اپنے کچھ گناہوں کی وجہ سے سزا کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی طرح جس کی وفات اس حالت میں ہوئی کہ اس نے کسی کو اللہ کو شریک بنایا تو وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
فوائد
توحید کی فضیلت اور یہ کہ وہ ہمیشگی کی جہنمی زندگی سے نجات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
جنت اور جہنم کا بندے سے قریب ہونا اور یہ کہ بندے اور جنت و جہنم کے بیچ بس موت کا فاصلہ ہے۔
اس میں چھوٹے اور بڑے ہر طرح کے شرک سے ڈرایا گیا ہے، کیوں کہ نجات کے لیے شرک سے بچنا ضروری ہے۔
اعمال کا اعتبار خاتمے کے مطابق ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 94) (93).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص49).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص60).
عن سهل بن سعد رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ».
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جو شخص مجھے اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان والی چیز (زبان) اور اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیز (شرم گاہ) کی حفاظت کی ضمانت دے دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں“۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو باتیں بتا رہے ہیں، جن کا التزام کرنے والا جنت میں داخل ہوگا۔
1- زبان کو ایسی باتوں سے محفوظ رکھنا، جن سے اللہ ناراض ہوتا ہے۔
2- زنا میں واقع ہونے سے شرم گاہ کی حفاظت کرنا۔
کیوں کہ ان دونوں اعضا سے کثرت سے گناہ ہو جایا کرتے ہیں۔
فوائد
زبان اور شرم گاہ کی حفاظت جنت میں داخلہ ملنے کا سبب ہے۔
زبان اور شرم گاہ کا ذکر بطور خاص اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ دونوں اعضا دنیا و آخرت کی آزمائش کے سب سے بڑے سرچشمے ہيں۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 100) (6474).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم الهلالي (3/ 9).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره (2/ 1035).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (18/ 85).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 117).
إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، للقسطلاني (9/ 272).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com