اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب اہل جنت جنت میں داخل ہو جائيں گے، تو اللہ تبارک و تعالی ان سے کہے گا : کیا تم چاہتے کہ تم کو کچھ اور نعمتیں دی جائیں؟ جواب میں سارے جنتی کہیں گے : کیا تونے ہمارے چہرے روشن نہیں کر دیے؟ کیا تونے ہمیں جنت میں داخل نہیں کر دیا اور جہنم سے نجات نہیں دے دی؟ اہل جنت کا جواب سننے کے بعد اللہ حجاب ہٹا دے گا اور اسے اٹھا لے گا۔ یہاں یہ ذہن نشیں رہے کہ اللہ کا حجاب نور ہے۔ چنانچہ ان کو اب تک جتنی بھی چیزیں ملی ہوں گی، ان میں اپنے رب عز و جل کے دیدار سے زیادہ محبوب چيز کچھ نہ ہوگی۔
- قیامت کے دن اہل جنت کے سامنے حائل پردہ ہٹا لیا جائے گا اور وہ اپنے رب کا دیدار کر سکيں گے۔ جب کہ کفار اس سے محروم رہ جائيں گے۔
- اہل ایمان کو جنت کے اندر حاصل ہونے والی سب سے بڑی نعمت اپنے رب کا دیدار ہوگی۔
- تمام اہل جنت، خواہ ان کے اندر درجات کا جتنا بھی فرق ہو، اپنے رب کو دیکھ سکيں گے۔
- اہل ایمان پر اللہ کا یہ احسان کہ ان کو جنت میں داخل کرے گا۔
- اعمال صالحہ اور اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کے ذریعہ جنت کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھنے کی اہمیت۔
صحيح مسلم (1/ 163) (181). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (3/ 349). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 734). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1294).