اس حدیث امید و خوف کو جمع کیا گیا ہے۔ یہ بتایا گیا ہے کہ ایک مؤمن اگر جان لے کہ اللہ نے کس قدر عذاب تیار کر رکھا ہے، چاہے دنیا میں ہو یا آخرت میں، اور چاہے کافروں کے لیے ہو یا نافرمانوں کے لیے، تو وہ خوف کا پیکر بن حاۓ گا، نیک کاموں میں سستی نہیں برتے گا، اور سہل پسندی کا شکار ہو کر حرام کاموں میں ملوث نہیں ہوگا۔ اگر اس کا علم عذاب تک محدود رہا اور اللہ کی رحمت سے واقف نہ ہو سکا، تو وہ صاحب ایمان ہونے کے باوجود مایوسی کا شکار ہو جاۓ گا۔ اس کے برعکس اگر کافر یہ جال لے کہ اللہ نے ایمان والوں کے لیے کس قدر ثواب اور نعمتیں تیار کر رکھی ہیں تو اللہ کی رحمت کی لالچ کرنے لگے، اور اگر مؤمن کا علم اس رحمت الہی پر محدود رہ جاۓ، تو وہ اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو۔ لیکن ایک مؤمن کو چاہیے کہ امید اور خوف دونوں کو اپنے دل میں بساۓ رکھے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ، وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ﴾ ”میرے بندوں کو بتا دو کہ میں بخشش کرنے والا اور رحمتوں والا ہوں، اور میرا عذاب بڑا درد ناک ہے“۔
كنوز رياض الصالحين، أ.د .حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار، دار كنوز اشبيليا، الطبعة الأولى، 1430هـ. بهجة الناظرين، الشيخ: سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي. نزهة المتقين، د. مصطفى سعيد الخن - د. مصطفى البغا - محي الدين مستو - علي الشرجبي - محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى، 1397هـ - 1977م. شرح رياض الصالحين، المؤلف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة، 1426هـ. رياض الصالحين، د. ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة الأولى، 1428هـ - 2007م. صحيح مسلم، المؤلف: مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.