یہ حدیث جنت کے مختلف منازل اور درجات پر دلالت کرتی ہے۔ ان میں سے کچھ درجات دوسرے سے حسی اور معنوی طور پر اعلیٰ ہیں کہ بعض کی تعمیر سونے سے ہوگی اور ان کے برتن سونے کے ہوں گے اور بعض کی تعمیر چاندی کی ہوگی اور ان کے برتن بھی چاندی کے ہوں گے۔ یہ تو معلوم ہے کہ قرآن نزول کے وقت جن لوگوں سے مخاطب تھا، ان کے یہاں سونا سب سے مہنگا اور عمدہ دھات ہے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ جنت میں سونے سے زیادہ اعلیٰ و عمدہ چیزیں موجود ہوں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس میں ایسی چیزیں ہیں، جنھیں کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیںسنا اور نہ کسی انسان کے دل پر اس کا خیال گزرا ہے۔ اس حدیث کے بعض روایات کے شروع میں ہے : ”جنت الفردوس چار طرح کے ہیں...“۔ ”جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کے چہرے پہ پڑی کبریائی کی چادر ہو گی“ اس میں اس بات کی صراحت ہے کہ یہ لوگ اللہ کو سب سے زیادہ قریب سے دیکھ سکیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ ان کو خوش کرنا چاہے گا اور ان کے شرف میں اضافہ کرنا چاہے گا، تو اپنے چہرے سے کبریائی کی چادر اٹھائے گا اور وہ اسے دیکھ سکیں گے۔ اہل سنت اللہ تعالیٰ کے لیے کبریائی کی چادر اور جنت میں مؤمنین کی اپنے رب کی رؤیت کو بغیر کسی کیفیت، نمونے اور بغیر کسی تحریف و تعطیل کے ثابت مانتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اس کے شایانِ شان چہرے کو ثابت کرتے ہیں۔ اس میں کسی طرح کی تاویل کرنا اور اسے ظاہر سے پھیر کر دوسرا معنیٰ مُراد لینا جائز نہیں ہے۔ یہی سلف صالحین کا مذہب ہے۔
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، لأحمد بن محمد بن أبى بكر بن عبد الملك القسطلاني القتيبي المصري، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، الطبعة: السابعة، 1323 هـ. شرح كتاب التوحيد من صحيح البخاري، لعبد الله بن محمد الغنيمان، الناشر: مكتبة الدار، المدينة المنورة، الطبعة: الأولى، 1405 هـ. معجم اللغة العربية المعاصرة، للدكتور أحمد مختار عبد الحميد عمر بمساعدة فريق عمل، الناشر: عالم الكتب، الطبعة: الأولى، 1429 هـ - 2008 م. صفات الله عز وجل الواردة في الكتاب والسنة : علوي بن عبد القادر السَّقَّاف دار الهجرة الطبعة : الثالثة ، 1426 هـ - 2006 م.