سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نبوی طریقہ

28 احادیث

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جوتا پہننا، کنگھی کرنا، طہارت حاصل کرنا اور اپنے سبھی کاموں کو دائيں سے کرنا پسند کرتے تھے۔

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤمنينَ رضي الله عنها قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ، فِي تَنَعُّلِهِ، وَتَرَجُّلِهِ، وَطُهُورِهِ، وَفِي شَأْنِهِ كُلِّهِ.
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جوتا پہننا، کنگھی کرنا، طہارت حاصل کرنا اور اپنے سبھی کاموں کو دائيں سے کرنا پسند کرتے تھے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم لائق تکریم کاموں کو دائيں جانب سے شروع کرنا پسند کرتے تھے۔ مثلا : جوتا پہنتے وقت پہلے دائيں پاؤں میں پہننا، سر اور داڑھی کے بالوں کو کنگھی کرتے، سنوارتے اور تیل لگاتے وقت دائيں جانب سے شروع کرنا، وضو کے دوران دائيں ہاتھ اور دائيں پیر کو بائیں ہاتھ اور بائيں پیر پر مقدم رکھنا چاہیے۔

فوائد
  1. امام نووی کہتے ہيں : شریعت کا ایک عام قاعدہ یہ ہے کہ ہر باعزت کام جیسے کپڑا، پاجامہ پہننا اور جوتا پہننا، مسجد میں داخل ہونا، مسواک کرنا، سرمہ لگانا، ناخن کاٹنا، مونچھیں تراشنا، بال میں کنگھی کرنا، بغل کے بال اکھیڑنا، سرمنڈوانا، نماز سے سلام پھیرنا، طہارت کے اعضا کو دھونا، بیت الخلا سے نکلنا، کھانا اور پینا، مصافحہ کرنا، حجر اسود کو بوسہ دینا وغیرہ، کو دائيں سے کرنا مستحب ہے۔ جب کہ اس کے بالمقابل کام، جیسے بیت الخلا میں داخل ہونا، مسجد سے نکلنا، ناک صاف کرنا، استنجا کرنا، کپڑا، پاجامہ اتارنا اور موزہ اتارنا وغیرہ کو بائیں سے شروع کرنا مستحب ہے۔ یہ سب کچھ دراصل دائيں کی عزت و شرف کی بنا پر ہے۔
  2. "دائيں سے کرنا پسند کرتے تھے"۔ اس کے اندر کاموں کا آغاز دائيں ہاتھ، دائيں پیر اور دائيں جانب سے کرنا اور کسی چيز کا لین دین دائيں ہاتھ سے کرنا شامل ہے۔
  3. امام نووی کہتے ہیں : جان لیں کہ کچھ اعضاے وضو کے بارے میں دائيں سے آغاز مستحب نہيں ہے۔ یہ اعضا ہيں دونوں کان، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں گال۔ ان اعضا کو ایک ساتھ پاک کیا جائے گا۔ اگر ایسا کرنا دشوار ہو، تو دائيں کو مقدم رکھا جائے گا۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 45) (168). صحيح مسلم (1/ 226) (268).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ کا دایاں ہاتھ وضو اور کھانا کھانے کے لیے اور بایاں ہاتھ قضائے حاجت اور ان چیزوں کے لیے ہوتا تھا جن میں گندگی ہوتی ہے۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: "كَانَت يَدُ رسُولِ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- اليُمنَى لِطُهُورِهِ وطَعَامِهِ، وكَانَت اليُسْرَى لِخَلاَئِهِ، ومَا كَانَ مِنْ أَذَى". عن حفصة رضي الله عنها "أَنَّ رَسُولَ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- كَانَ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَثِيَابِهِ، وَيَجْعَلُ يَسَارَهُ لِمَا سِوَى ذَلِك".
اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا دایاں ہاتھ وضو اور کھانا کھانے کے لیے اور بایاں ہاتھ قضائے حاجت اور ان چیزوں کے لیے ہوتا تھا جن میں گندگی ہوتی ہے۔ ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے داہنے ہاتھ کو کھانے، پینے اور کپڑے پہنے کے لیے استعمال کرتے اور بائیں ہاتھ کو اس کے علاوہ کاموں کے لیے استعمال کرتے تھے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت کی کہ نبی ﷺ کن کاموں میں اپنا دایاں ہاتھ استعمال کرتے تھے اور کن میں بایاں ہاتھ استعمال کیا کرتے تھے۔ کہا جن کاموں میں گندگی ہوتی جیسے استنجاء کرنا، استنجاء میں پتھر کا استعمال، ناک میں پانی ڈالنا اور ناک کو صاف کرنا جیسے کاموں میں جن میں گندگی ہوتی آپ ﷺ بایاں ہاتھ استعمال کیا کرتے تھے۔ اور ان کے علاوہ کاموں میں دایاں ہاتھ استعمال کرتے تھے۔ اس میں دائیں ہاتھ کی تکریم ہے کیونکہ دایاں ہاتھ بائیں سے افضل ہے۔ اس حدیث کی رو سے ان تمام کاموں میں دایاں ہاتھ استعمال کرنا مستحب ہے جو قابلِ تکریم ہوں۔ ”لِطُهُورِهِ “ اس کا معنی یہ ہے کہ جب نبی ﷺ طہارت حاصل کرتے تو آپ ﷺ دائیں ہاتھ سے آغاز کرتے۔ چنانچہ آپ ﷺ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ سے پہلے دھوتے تھے اور اسی طرح آپ ﷺ دائیں پاؤں کو بائیں پاؤں سے پہلے دھویا کرتے تھے۔ جب کہ دونوں کان ایک ہی عضو شمار ہوتے ہیں جو سر کا حصہ ہیں۔ چنانچہ ان کو اکھٹے ہی مسح کیا جائے گا بجز اس کے کہ ایک ہاتھ سے مسح کرنا ہو۔ اس صورت میں ضرورت کے تحت دائیں کان سے مسح کا آغاز کیا جائے گا۔ ”وطَعَامِهِ“ یعنی جب آپ ﷺ کھانا کھایا کرتے تھے۔ ”وَكَانَت اليُسْرَى لِخَلاَئِهِ “یعنی قضائے حاجت کے وقت استنجاء کرنے، پتھر اٹھانے اور گندگی کے ازالے کے لیے بائیں کو استعمال کرتے تھے۔ ”ومَا كَانَ مِنْ أَذَى“جیسے تھوک اور بلغم وغیرہ کو دور کرنے کے لیے۔چیچڑی وغیرہ کو دور کرنا بھی اسی میں آتا ہے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا کی حدیث دراصل عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث کی تصدیق کر رہی ہے جس میں اس بات کا بیان ہے کہ جو کام قابلِ تکریم ہوتے ان میں آپ ﷺ کا طریقہ کار دائیں ہاتھ کو استعمال کرنا تھا اور جن کاموں میں گندگی کا عمل دخل ہوتا تھا ان کاموں میں آپ ﷺ بایاں ہاتھ استعمال فرماتے تھے جیسے استنجاء کرتے ہوئے یا استنجاء کے لیے پتھر اٹھاتے ہوئے وغیرہ۔

حوالہ

رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى، 1428هـ، 2007م. سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث أبوداود، المحقق: شعَيب الأرنؤوط، محَمَّد كامِل قره بلل، الناشر: دار الرسالة العالمية. صحيح أبي داود، محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت، الطبعة: الأولى، 1423هـ، 2002م. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، محمد علي بن البكري بن علان، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، الطبعة: الرابعة، 1425هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى، 1415هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر،1407هـ، 1987م. شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، دار الوطن، الرياض، الطبعة: 1426هـ. مسند الإمام أحمد بن حنبل، أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني، تحقيق: شعيب الأرنؤوط و عادل مرشد، وآخرون، تحت إشراف: عبد الله بن عبد المحسن التركي، مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى،1421هـ، 2001م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہوں نے اس اس طرح کى باتیں کى ہیں؟ میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، کبھی روزہ رکھتا ہوں اور کبھی نہیں رکھتا اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ جس نے میری سنت سے گریز کیا اس کا مجھ سےکوئی تعلق نہیں۔

عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه: أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا آكُلُ اللَّحْمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا؟ لَكِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی ﷺ کے کچھ صحابہ نے نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات سے نبی ﷺ کی تنہائی کے معمول کے بارے میں پوچھا۔ (آپ ﷺ کی عبادت کا معمول سن کر) ان میں سے کسی نے کہا کہ میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا، کسی نے کہا کہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا اور کسی نے کہا کہ میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ (نبی ﷺ تک جب یہ بات پہنچی) تو آپ ﷺ نے اللہ تعالی کے حمد و ثنا کے بعد فرمایا: "کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہوں نے اس اس طرح کى باتیں کى ہیں؟ میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، کبھی روزہ رکھتا ہوں اور کبھی نہیں رکھتا اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ جس نے میری سنت سے گریز کیا اس کا مجھ سےکوئی تعلق نہیں۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کچھ صحابہ آپ کی بیویوں کے گھروں میں آئے۔ ان کا مقصد یہ جاننا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم گھر کے اندر کس طرح عبادت کرتے ہيں؟ جب ان کو آپ کی عبادت کے بارے میں بتایا گیا، تو گویا انھوں نے اسے کم سمجھا اور کہنے لگے: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مقام کہاں اور ہم کہاں؟ آپ کے تو اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دیے گئے ہیں۔ اس کے برخلاف جسے معلوم نہ ہو کہ اسے بخشا جائے گا یا نہيں، اسے زیادہ سے زیادہ عبادت کی ضرورت ہے، تاکہ بخشش کا سامان ہو جائے۔ اس کے بعد ان میں سے کسی نے کہا کہ میں شادی نہیں کروں گا۔ کسی نے کہا کہ میں گوشت نہيں کھاؤں گا۔ جب کہ کسی نے کہا کہ میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ اس کی اطلاع جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ملی، تو آپ نے ناراضگی ظاہر کی۔ لوگوں سے خطاب کیا۔ اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اس اور اس طرح کی بات کر رہے ہیں؟ اللہ کی قسم، میں تمھارے درمیان اللہ کى خشیت سے سب سے زیادہ متصف اور اس کا سب سے زیادہ تقوى رکھنے والا انسان ہوں۔ لیکن اس کے باوجود میں سوتا ہوں، تاکہ پورے نشاط کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھ سکوں، روزے کے بغیر رہتا ہوں، تاکہ روزے کی طاقت حاصل کر سکوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ لہذا جس نے میرے طریقے سے منہ موڑا، کسی اور طریقے کو کامل طریقہ جانا اور میرے علاوہ کسى اور کى راہ کو اختیار کیا، وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔

فوائد
  1. صحابہ رضی الله عنہم خیر کے کاموں سے محبت کرتے تھے، اس کی رغبت رکھتے تھے اور اپنے نبی صلى الله عليہ وسلم کى اقتدا کى چاہت ان کے اندر بھرى ہوئى تھى۔
  2. اسلامی شریعت ایک کشادہ اور آسان شریعت ہے۔ اس کی یہ خوبی اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے عمل اور طریقے سے ظاہر وباہر ہے۔
  3. خیر و برکت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کى اقتدا اور اتباع میں پنہاں ہے۔
  4. اپنے نفس پر طاقت سے بڑھ کر عبادت کا بوجھ ڈالنے کی ممانعت اور یہ وضاحت کہ یہ اہل بدعت کی روش ہے۔
  5. ابن حجر کہتے ہيں: عبادت میں شدت پسند رویہ اکتاہٹ کا سبب بنتا ہے، جو عبادت سے کنارہ کشی کی جانب لے جاتی ہے۔ جب کہ فرائض پر اکتفا اور نوافل سے احتراز سستی اور عبادت میں عدم نشاط کا سبب بنتا ہے۔ بہتر راستہ اعتدال کا راستہ ہے۔
  6. اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے اکابر کے حالات، ان کے نقش قدم پر چلنے کے لیے، معلوم کیے جا سکتے ہيں۔ اگر مردوں سے معلوم کرنا دشوار ہو تو عورتوں سے بھی دریافت کیا جا سکتا ہے۔
  7. اس حدیث سے وعظ، علمی مسائل بیان کرنے، مکلفین کے آگے شرعی احکام بیان کرنے اور مجتہدین کے شبہات کو دور کرنے کی تعلیم ملتی ہے۔
  8. عبادت، بطور خاص فرائض ونوافل کی پابندی کے ساتھ اس میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ دوسروں کے حقوق بھی ادا کیے جا سکیں۔
  9. یہ حدیث نکاح کی فضیلت اور اس کی ترغیب پر دلالت کرتی ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 2) (5063). صحيح مسلم (2/ 1020) (1401). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص566). خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص282).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

آلِ محمد ﷺ نے ایک دن میں دو کھانے نہیں کھائے، اِلّا یہ کہ ان میں سے ایک کھجوریں ہوتیں۔

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا أَكَلَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْلَتَيْنِ فِي يَوْمٍ إِلَّا إِحْدَاهُمَا تَمْرٌ.
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: آلِ محمد ﷺ نے ایک دن میں دو کھانے نہیں کھائے، اِلّا یہ کہ ان میں سے ایک کھجوریں ہوتیں۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کے اہل بیت نے ایک دن میں دو وقت کھانا نہیں کھایا، الا یہ کہ ان میں سے ایک کھانا کھجوریں ہوتیں۔

فوائد
  1. نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے اہل بیت کا تواضع یہ تھا کہ بسا اوقات انہیں دن میں صرف ایک وقت کا کھانا ہی میسر ہوتا۔
  2. ان کے ہاں کھجور دیگر چیزوں کی بنسبت زیادہ میسر تھی۔
  3. زہد وورع اور تھوڑی سی روزی پر گزر بسر کرنے کی فضیلت، نیز یہ کہ یہ نبیوں کے اخلاق اور سید المرسلین کی سیرت کا حصہ ہے۔
  4. دن میں دو مرتبہ کھانا کھانا مباح اور جائز امور میں سے ہے، اور یہ عربوں کی ایک معروف عادت ہے۔ وہ دن میں دو کھانے کھاتے تھے، دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 97) (6455). صحيح مسلم (4/ 2282) (2971). فتح الباري لابن حجر (11/ 292).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

محمد ﷺ کے اہل خانہ ، جب سے وہ مدینہ آئے، مسلسل تین راتیں گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ کی روح قبض کرلی گئی۔

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ المَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ البُرِّ ثَلاَثَ لَيَالٍ تِبَاعًا، حَتَّى قُبِضَ.
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: محمد ﷺ کے اہل خانہ ، جب سے وہ مدینہ آئے، مسلسل تین راتیں گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ کی روح قبض کرلی گئی۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ کے گھر والوں نے، جب سے وہ مدینہ آئے، مسلسل تین راتیں گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وفات ہوگئی۔

فوائد
  1. نبی ﷺ اور آپ کے اہل خانہ کی تنگ دستی کا بیان، کیونکہ اصل زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے۔
  2. ابن حجر کہتے ہیں: بظاہر ان کے اکثر شکم سیر نہ ہونے کی وجہ ان کے پاس چیزوں کی قلت تھی۔ حالانکہ کبھی انہیں کچھ مل بھی جاتا تھا، لیکن وہ خود پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 75) (5416). صحيح مسلم (4/ 2282) (2970). المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (7/ 129). البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (45/ 129).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ کا بستر چمڑے کا تھا، اور اس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ، وَحَشْوُهُ مِنْ لِيفٍ، وَلِمُسلمٍ: كَانَ وِسَادَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَتَّكِئُ عَلَيْهَا مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ.
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: رسول اللہ ﷺ کا بستر چمڑے کا تھا، اور اس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی، مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا وہ تکیہ جس پر آپ ﷺ ٹیک لگاتے تھے، چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ کا بستر جس پر آپ آرام فرماتے تھے، دباغت دیے ہوئے چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، اسی طرح آپ ﷺ کا تکیہ بھی تھا جس پر آپ ٹیک لگاتے تھے۔

فوائد
  1. نبی ﷺ کے زہد اور دنیا کی لذتوں سے اعراض برتنے کا بیان، حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کو اس پر قدرت بخشی تھی کہ اگر آپ چاہتے تو اس سے لطف اندوز ہو سکتے تھے۔
  2. بستر اور تکیوں کا استعمال کرنا، ان پر سونا اور ان پر ٹیک لگانا جائز ہے۔
  3. مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی حالت اور طرزِ زندگی کا اپنے نبی ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے موازنہ کرے، کیونکہ آپ ﷺ ہی اسوہ حسنہ ہیں، اور جس نے آپ ﷺ کے نقش قدم کی پیروی کی وہ ہدایت یاب ہوا اور دنیا وآخرت میں فلاح پا گیا۔
  4. آخرت کی تیاری کی فکر کرنا، اور یہ کہ مومن اسی قدر دنیاوی نعمت پر اکتفا کرے جو اسے اللہ کی اطاعت میں مدد دے اور بہت زیادہ دنیا طلبی میں مشغول نہ رہے۔ اللہ نے ایک قوم کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا ہے: (زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے)۔ [التكاثر:1- 2]
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 97) (6456). صحيح مسلم (3/ 1650) (2082). البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (34/ 662). إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري (9/ 264). المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (5/ 403). النهاية في غريب الحديث والأثر (971).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ نے اپنی موت کے وقت نہ کوئی درہم ودینار چھوڑا‘ نہ کوئی غلام‘ نہ کوئی لونڈی اور نہ کوئی اور چیز۔ البتہ اپنا سفید خچر، اپنے ہتھیار اور ایک زمین چھوڑی جسے آپ نے صدقہ کر دیا تھا۔

عَنْ عَمْرِو بْنِ الحَارِثِ خَتَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخِي أُمِّ المؤمِنين جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُم، قَالَ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ دِرْهَمًا وَلاَ دِينَارًا وَلاَ عَبْدًا وَلاَ أَمَةً وَلاَ شَيْئًا، إِلَّا بَغْلَتَهُ البَيْضَاءَ، وَسِلاَحَهُ، وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً.
عمرو بن حارث، رسول اللہ ﷺ کے سالے اور امّ المؤمنین جویریہ بنت حارث کے بھائی، رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اپنی موت کے وقت نہ کوئی درہم ودینار چھوڑا‘ نہ کوئی غلام‘ نہ کوئی لونڈی اور نہ کوئی اور چیز۔ البتہ اپنا سفید خچر، اپنے ہتھیار اور ایک زمین چھوڑی جسے آپ نے صدقہ کر دیا تھا۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

نبی ﷺ نے وفات کے وقت نہ کوئی چاندی کا درہم چھوڑا نہ سونے کا دینار، نہ کوئی غلام نہ لونڈی، نہ بکری نہ اونٹ اور نہ ہی مال میں سے کوئی چیز چھوڑی، سوائے اپنے سفید خچر کے جس پر آپ ﷺ سواری کیا کرتے تھے، اپنے ہتھیار کے، اور اس زمین کے جسے آپ نے اپنی زندگی میں مسافروں کے لیے وقف کردیا تھا۔

فوائد
  1. انبیاء علیہم السلام وارث نہیں بناتے۔
  2. نبی ﷺ نے اپنی وفات کے بعد جو کچھ چھوڑا، اس کا بیان۔
  3. آپ علیہ الصلاة والسلام نے اپنی سخاوت، انفاق اور احسان کی وجہ سے وفات کے وقت کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں چھوڑی۔
  4. کرمانی نے فرمایا: اُن کے قول (وجعلها) میں ضمیر تینوں یعنی خچر، اسلحہ اور زمین کی طرف لوٹتی ہے، نہ کہ صرف زمین کی طرف۔
  5. الختن: بیوی کا بھائی، اور الأختان عورت کی طرف سے ہیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (4/ 2) (2739). النهاية في غريب الحديث والأثر (254). فتح الباري لابن حجر (5/ 360). عمدة القاري شرح صحيح البخاري (14/ 31).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہيں بھیجا گیا ہے۔ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے"۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ عَلَى المُشْرِكِينَ قَالَ: «إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : کہا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مشرکوں پر بد دعا کردیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہيں بھیجا گیا ہے۔ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

نبی ﷺ سے مشرکوں کے حق میں بد دعا کرنے کے لیے کہا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ کی طرف سے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ میں لوگوں کو بد دعا دوں اور انہیں اللہ کی رحمت سے دھتکار کر خیر سے محروم کر دوں۔ مجھے اس مقصد کے لیے مبعوث نہیں کیا گیا، بلکہ مجھے تو تمام لوگوں کے لیے بالعموم، اور مومنوں کے لیے بالخصوص، خیر ورحمت کا سبب بنا کر بھیجا گیا ہے۔

فوائد
  1. آپ ﷺ کا کمالِ اخلاق۔
  2. نبی ﷺ کی اقتدا میں زبان کو گالی گلوچ اور لعن طعن سے پاک رکھنے کی اہمیت۔
  3. لعنت کرنے کی ممانعت۔
  4. لوگوں پر رحم کرنے کی ترغیب۔
حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2006) (2599). المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (6/ 582). البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (40/ 683).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com