سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

روزے میں آپ ﷺ کا طریقہ

2 احادیث

رسول اللہ ﷺ کسی مہینے میں روزے نہ رکھتے، تو ہمیں یوں لگنے لگتا کہ آپ ﷺ اس مہینے میں روزہ رکھیں گے ہی نہیں اور روزہ رکھنا شروع کر دیتے، تو ہمیں محسوس ہونے لگتا کہ آپ ﷺ اس میں سے کوئی دن بھی بنا روزے کے نہیں رہیں گے۔ رات کو آپ اگر رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو دیکھ لیتے اور اگر سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو بھی دیکھ لیتے۔

عن أنس رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يُفْطِرُ من الشهر حتى نظن أن لا يصوم منه، ويصوم حتى نظن أن لا يُفْطِرَ منه شيئا، وكان لا تَشَاءُ أن تراه من الليل مُصَلِيًا إلا رأيتَه، ولا نائما إلا رأيتَه.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی مہینے میں روزے نہ رکھتے، تو ہمیں یوں لگنے لگتا کہ آپ ﷺ اس مہینے میں روزہ رکھیں گے ہی نہیں اور روزہ رکھنا شروع کر دیتے تو ہمیں محسوس ہونے لگتا کہ آپ ﷺ اس میں سے کوئی دن بھی بنا روزے کے نہیں رہیں گے۔ رات کو آپ اگر رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو دیکھ لیتے اور اگر سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو بھی دیکھ لیتے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم: انس رضی اللہ عنہ صیام و قیام کے سلسلے میں نبی ﷺ کا حال بیان کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ آپ ﷺ کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے، تو یوں لگنے لگتا کہ آپ ﷺ اس میں روزہ رکھیں گے ہی نہیں، کیوںکہ اس میں زیاد تر بنا روزہ ہی رہتے اور روزہ رکھنا شروع کر دیتے، تو ایسا محسوس ہوتا کہ آپ ﷺ اس مہینے میں کسی روزے کو بھی نہیں چھوڑیں گے؛ کیوںکہ آپ ﷺ اس میں بہت زیادہ روزے رکھتے۔ اسی طرح آپ ﷺ رات کی نماز کسی مخصوص وقت میں نہیں پڑھتے تھے، بلکہ کبھی تو اسے رات کے شروع میں پڑھ لیتے ، کبھی درمیان میں اور کبھی آخر میں، بایں طور کہ اگر آپ رات کو نبی ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو دیکھ لیتے اور اگر سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے، تو سوتے ہوئے بھی دیکھ لیتے۔ آپ ﷺ کا عمل افراط و تفریط کے مابین میانہ روی پر مبنی ہوتا تھا۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى 1415هـ. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ. - صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ نے صوم وصال سے منع فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ بھی تو وصال کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمھاری طرح نہیں ہوں۔ مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الْوِصَالِ، قالوا: إنك تواصل؟ قال: إني لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إني أُطْعَمُ وَأُسْقَى». وفي رواية أبي سعيد الخدري رضي الله عنه : «فَأَيُّكُمْ أراد أن يواصل فليواصل إلى السَّحَرِ».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صوم وصال سے منع فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپﷺ بھی تو وصال کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمھاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے“۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے اگر کوئی وصال کرنا چاہے، تو سحری کے وقت تک وصال کر لے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو رحمت و شفقت کے بہ سبب صوم وصال سے منع فرمایا۔ تاہم صحابہ چوں کہ فضیلت پانے کی چاہت اور ہر ایسا عمل کرنے کی حرص رکھتے تھے، جو انھیں اللہ کے قریب کر دے، اس لیے ان کی خواہش تھی کہ وہ نبی ﷺ کے صوم وصال میں اقتدا کریں۔ اس لیے وہ کہنے لگے: آپ بھی تو وصال کرتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ نے انھیں فرمایا کہ انھیں تو ایک ذات کھلاتی اور پلاتی ہے، جس کی وجہ سے انھیں کھانے پینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ تاہم تم میں سے اگر کوئی وصال کرنا چاہے، تو اسے چاہیے کہ وہ سحری کے وقت تک وصال کرے۔ شریعت اسلامی بہت کشادہ اور آسان ہے۔ اس میں نہ کوئی مشکل ہے، نہ مشقت اور نہ ہی غلو اور تعمق۔ کیوں کہ صوم وصال نفس کو عذاب میں مبتلا کرنے اور مشقت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ جب کہ اللہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ نیز یہ کہ آسانی اور سہولت کی وجہ سے عمل زیادہ دیر تک جاری رہتا ہے۔ تھکاوٹ اور اکتاہٹ نہیں ہوتی۔ اس حدیث میں اس عدل کا ذکر ہے، جسے اللہ نے زمین میں رکھا ہے۔ یعنی اللہ کا مطالبۂ عبادت پورا کیا جائے اور نفس کو وہ چیزیں عطا کی جائیں، جو اس کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

حوالہ

عمدة الأحكام، تأليف: عبد الغني بن عبد الواحد المقدسي، تحقيق: محمود الأرناؤوط، دار الثقافة العربية ومؤسسة قرطبة، الطبعة الثانية، 1408هـ. تيسير العلام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق محمد صبحي بن حسن حلاق، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة العاشرة، 1426هـ. تأسيس الأحكام شرح عمدة الأحكام، تأليف: أحمد بن يحي النجمي: نسخة إلكترونية لا يوجد بها بيانات نشر. تنبيه الأفهام شرح عمدة الإحكام، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة ومكتبة التابعين، الطبعة الأولى: 1426هـ. خلاصة الكلام على عمدة الأحكام، تأليف: فيصل بن عبد العزيز آل مبارك، الطبعة الثانية، 1412هـ. صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com