سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

شمائلِ محمدیہ ﷺ

98 احادیث

اللہ کے رسول ﷺ کو جب چھینک آتی، تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور اس سے اپنی آواز کو ہلکی یا پست کرتے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: كان رسولُ الله صلى الله عليه وسلم إذا عَطَس وضَعَ يَدَه -أو ثوبَهُ- على فيهِ، وخَفَضَ -أو غضَّ- بها صوتَهُ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے رسول ﷺ کو جب چھینک آتی، تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور اس سے اپنی آواز کو ہلکی یا پست کرتے۔
رواه أبو داود والترمذي وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جب چھینک آتی، تو سب س پہلے اپنے منہ پر ہاتھ یا کپڑا رکھتے، تاکہ منہ یا ناک سے کوئی ایسی چیز نہ نکلے، جس سے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو اذیت ہو۔ دوسرے نمبر پر آواز دھیمی کر لیتے۔

فوائد
  1. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے چھینکنے کے طریقے کا بیان اور اس میں آپ کی پیروی۔
  2. چھینکتے وقت منہ اور ناک پر کپڑا یا رومال وغیرہ رکھ لینا مستحب ہے، تاکہ اس سے کوئی ایسی چيز نہ نکلے کہ اس سے پاس بیٹھے ہوئے انسان کو اذیت ہو۔
  3. چھینکتے وقت آواز کو پست کر لینا چاہیے۔ یہ کمالِ ادب اور اعلیٰ اخلاق میں سے ہے۔
حوالہ

سنن أبي داود (7/ 375) (5029). سنن الترمذي (4/ 461) (2745). مسند أحمد (15/ 412) 9662). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 440). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص528). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 149). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 678). كنوز رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين (11/ 432).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دے دیتا"۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ -أَوْ: عَلَى أُمَّتِي- لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دے دیتا"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اگر آپ کو اپنی امت کے مشقت میں پڑنے کا خوف نہ ہوتا، تو ان پر ہر نماز کے وقت مسواک کو واجب کر دیتے۔

فوائد
  1. اپنی امت پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شفقت اور اس بات کا ڈر کہ کہیں انھیں مشقت کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے۔
  2. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا حکم اصلا وجوب پر دلالت کرتا ہے، جب تک کہ اس کے نفل ہونے کی کوئی دلیل نہ آ جائے۔
  3. ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا استحباب اور اس کی فضیلت۔
  4. ابن دقیق العید کہتے ہیں: نماز کے وقت مسواک کو مستحب قرار دیے جانے کے پیچھے حکمت یہ ہے کہ نماز اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی حالت ہے۔ اس لیے عبادت کا مقام ومرتبہ ظاہر کرنے کے لیے اسے کمال اور نظافت کی حالت میں ہونی چاہیے۔
  5. اس حدیث کے عموم کے اندر روزے دار کا مسواک کرنا بھی داخل ہے، خواہ زوال کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔ جیسے ظہر اور عصر کی نماز کے لیے مسواک کرنا۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 220) (252). صحيح البخاري (2/ 4) (887). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص46). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 50).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى الفَجْرَ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنًا، وَقَالَ: كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ أَوِ الغَدَاةَ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ.
جابر بن سَمُرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: نبی ﷺ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔، آپ ﷺ اپنی نماز کی اس جگہ سے جہاں آپ صبح کی نماز پڑھتے تھے، اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک کہ سورج طلوع نہ ہو جاتا، چنانچہ جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ ﷺ کھڑے ہو جاتے۔ صحابہ کرام باتیں کرتے اور دورِ جاہلیت کے امور کا تذکرہ شروع کر دیتے، تو وہ ہنستے اور آپ ﷺ تبسم فرماتے۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

نبی ﷺ کی سنت میں سے ہے کہ جب آپ فجر کی نماز سے فارغ ہو جاتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج بلند ہو جاتا، اور آپ ﷺ اپنی فجر کی نماز والی جگہ سے اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک کہ سورج طلوع نہ ہو جاتا۔ پھر جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ ﷺ اٹھ جاتے، صحابہ کرام -رضی اللہ عنہم- اسلام سے پہلے کے اپنے بعض معاملات کا تذکرہ کرنے لگتے اور آپ ﷺ خاموش رہتے، تو وہ ہنستے اور بسا اوقات آپ ﷺ بھی ان کے ساتھ تبسم فرما لیتے۔

فوائد
  1. صبح کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے تک ذکر کرنا، اور بغیر کسی عذر کے اپنی نشست کو لازم پکڑنا مستحب ہے۔
  2. یہ نبی ﷺ کے مکارمِ اخلاق اور نرم مزاجی کا بیان ہے کہ آپ اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے، ان کی گفتگو اور قصے سنتے اور ان پر تبسم فرماتے تھے۔
  3. مسجد میں گفتگو کرنا اور ایامِ جاہلیت کا ذکر کرنا جائز ہے۔
  4. ہنسی اور تبسم کی اجازت؛ کیونکہ ممانعت زیادہ ہنسنے کی آئی ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 464) (670). البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (14/ 407). المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (2/ 296).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com