عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے انسان تھے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اخلاقی اعتبار سے سب سے مکمل انسان تھے اور تمام اخلاق و محاسن، جیسے اچھی بات کرنا، دوسروں کا بھلا کرنا، ہنس کر ملنا، اذیت دینے سے بچنا اور کوئی اذیت دے تو صبر کرنا وغیرہ میں سب سے آگے تھے۔
فوائد
اخلاق میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مکمل ہونا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم حسن اخلاق کے معاملے میں مکمل نمونہ اور آئیڈیل ہیں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے آپ کو اچھے اخلاق سے مزین کرنے کی ترغیب۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 45) (6203).
صحيح مسلم (4/ 1805) (2310).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 670).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (1/ 524).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (9/ 57).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 556).
قال سعد بن هشام بن عامر -عندما دخل على عائشة رضي الله عنها-: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ.
سعد بن ہشام بن عامر جب عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، تو کہا : اے ام المؤمنین! مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیے، تو انھوں نے کہا : کیا تم قرآن نہيں پڑھتے؟ میں نے کہا : پڑھتا تو ہوں۔ فرمایا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اخلاق قرآن تھا۔
رواه مسلم في جملة حديثٍ طويلٍدرجہصحيح
تشریح
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا، تو انھوں نے نہایت ہی جامع الفاظ میں جواب دیا۔ انھوں نے سوال کرنے والے کو قرآن کا حوالہ دیا، جو ہر اعتبار سے ایک مکمل کتاب ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق قرآن کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔ جن چیزوں کا قرآن نے حکم دیا ان پر عمل کرتے اور جن چیزوں سے قرآن نے روکا ان سے دور رہتے تھے۔ اس طرح آپ کے اخلاق کی جو تصویر بنتی ہے، وہ ہے قرآن پر عمل کرنا، اس کے بیان کردہ حدود کے دائرے میں رہنا اور اس کی پیش کردہ مثالوں اور قصوں سے نصیحت حاصل کرنا۔
فوائد
اس میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قرآن میں پیش کردہ اخلاق کو اپنی شخصیت میں اتارنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کی تعریف اور یہ کہ آپ کے اخلاق وحی کے سرچشمے سے لیے گئے تھے۔
قرآن تمام اعلی اخلاق کا سرچشمہ ہے۔
اسلامی اخلاق کے اندر پورا دین یعنی تمام اوامر کی انجام دہی اور نواہی سے اجتناب داخل ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 512) (746).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (3/ 308).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 660).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخن وغيره (2/ 1253).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (21/ 556).
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، چنانچہ مسلمانوں میں سے جس کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت کی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔»
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
نبی ﷺ نے دعا فرمائی: اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، مجھے بھی اسی طرح غصہ آجاتا ہے جس طرح انسانوں کو آتا ہے۔ لہذا جس کسی مومن کو میں نے تکلیف دی ہو، یا اسے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت بھیجی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اس عمل کو اس کے لیے پاکیزگی، قربت، گناہوں سے صفائی، کفارہ اور ایسی رحمت بنا دے جس کے سبب تو اس پر رحم فرمائے۔
فوائد
اللہ کے نبی ﷺ کا عظیم اخلاق۔
ابن حجر کہتے ہیں: اس حدیث سے اپنی امت پر آپ ﷺ کی کمالِ شفقت، آپ کا حسنِ اخلاق اور آپ کی ذات کا کرم معلوم ہوتا ہے، کہ آپ ﷺ نے آپ سے سرزد ہونے والے فعل کے جواب میں دل جوئی اور تکریم کا قصد فرمایا۔
نووی کہتے ہیں: اگر یہ سوال کیا جائے کہ آپ ﷺ کسی ایسے شخص کو کیسے بد دعا دے سکتے ہیں، یا اسے برا بھلا کہہ سکتے ہیں، یا اس پر لعنت بھیج سکتے ہیں جو اس کا اہل نہ ہو؟ تو اس کا جواب وہی ہے جو علماء نے دیا ہے، اور اس کی دو توجیہات ہیں: پہلی توجیہ یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص حقیقت میں اللہ تعالی کے نزدیک اس کا اہل نہیں ہوتا، لیکن بظاہر وہ اس کا مستحق ہوتا ہے۔ چنانچہ نبی ﷺ کے سامنے کسی شرعی علامت کی بنا پر اس کا مستحق ہونا ظاہر ہو جاتا ہے، جب کہ درحقیقت وہ اس کا اہل نہیں ہوتا۔ جبکہ نبی ﷺ کو ظاہر پر حکم لگانے کا حکم دیا گیا ہے، اور باطنی امور اللہ کے سپرد ہیں۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کا کسی کو برا بھلا کہنا یا بد دعا دینا وغیرہ مقصود نہیں ہوتا تھا، بلکہ یہ عربوں کی عادت کے مطابق تکیہ کلام کے طور پر بغیر کسی نیت کے ہوتا تھا، جیسے ان کا کہنا: تَرِبَت يمينك (تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں)، عَقْرَى حَلْقَى (تو ہلاک ہو جا)۔ اور اسی حدیث میں آیا ہے: (لا كبرت سنك) (تیری عمر دراز نہ ہو)، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: (لا أشبع الله بطنك) (اللہ تیرا پیٹ نہ بھرے) وغیرہ۔ ان کلمات سے ان کا مقصد حقیقی بد دعا دینا نہیں ہوتا تھا۔ نبی ﷺ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں ان میں سے کوئی بات قبولیت کی گھڑی سے موافق نہ ہو جائے، چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے رب سبحانہ وتعالی سے سوال کیا اور درخواست کی کہ وہ اسے رحمت، کفارہ، قربت کا ذریعہ، پاکیزگی اور اجر بنا دے۔ ایسا آپ ﷺ سے کبھی کبھار ہی ہوتا تھا، اور نبی ﷺ نہ تو فحش گو تھے، نہ جان بوجھ کر فحش کلامی کرنے والے تھے، نہ بہت زیادہ لعنت کرنے والے تھے اور نہ ہی اپنی ذات کے لیے بدلہ لینے والے تھے۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 77) (6361).
صحيح مسلم (4/ 2007) (2601).
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (22/ 310).
إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري (9/ 207).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com