اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اخلاق قرآن تھا۔
قال سعد بن هشام بن عامر -عندما دخل على عائشة رضي الله عنها-: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ.
سعد بن ہشام بن عامر جب عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، تو کہا : اے ام المؤمنین! مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیے، تو انھوں نے کہا : کیا تم قرآن نہيں پڑھتے؟ میں نے کہا : پڑھتا تو ہوں۔ فرمایا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اخلاق قرآن تھا۔
رواه مسلم في جملة حديثٍ طويلٍدرجہصحيح
تشریح
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا، تو انھوں نے نہایت ہی جامع الفاظ میں جواب دیا۔ انھوں نے سوال کرنے والے کو قرآن کا حوالہ دیا، جو ہر اعتبار سے ایک مکمل کتاب ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق قرآن کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔ جن چیزوں کا قرآن نے حکم دیا ان پر عمل کرتے اور جن چیزوں سے قرآن نے روکا ان سے دور رہتے تھے۔ اس طرح آپ کے اخلاق کی جو تصویر بنتی ہے، وہ ہے قرآن پر عمل کرنا، اس کے بیان کردہ حدود کے دائرے میں رہنا اور اس کی پیش کردہ مثالوں اور قصوں سے نصیحت حاصل کرنا۔
فوائد
اس میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قرآن میں پیش کردہ اخلاق کو اپنی شخصیت میں اتارنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کی تعریف اور یہ کہ آپ کے اخلاق وحی کے سرچشمے سے لیے گئے تھے۔
قرآن تمام اعلی اخلاق کا سرچشمہ ہے۔
اسلامی اخلاق کے اندر پورا دین یعنی تمام اوامر کی انجام دہی اور نواہی سے اجتناب داخل ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 512) (746).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (3/ 308).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 660).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخن وغيره (2/ 1253).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (21/ 556).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com