سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

آپ ﷺ کا عدل

2 احادیث

تم اپنے شوہر کے نزدیک بے وقعت نہیں ہو، اگر چاہو تو میں تمہارے پاس تک رہ سکتا ہوں لیکن اگر میں تمہارے پاس سات دن رہوں تو دوسری بیویوں کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔

عن أمَّ سَلَمَة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لمَّا تزوَّجها أقام عندها ثلاثا، وقال: «إنه ليس بِكِ على أَهْلِكِ هَوَانٌ، إنْ شئْتِ سَبَّعْتُ لكِ، وإنْ سَبَّعْتُ لكِ، سَبَّعْتُ لِنِسائي».
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین رات قیام فرمایا اور کہنے لگے: تم اپنے شوہر کے نزدیک بے وقعت نہیں ہو، اگر چاہو تو میں تمہارے پاس تک رہ سکتا ہوں لیکن اگر میں تمہارے پاس سات دن رہوں تو دوسری بیویوں کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ام سلمہ رضی اللہ عنہا اس وقت کی بات ذکر کر رہی ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی تو انہیں اس بات کا اختیار دیا کہ ان کے پاس سات رات قیام فرمائیں، پھر ہر ایک بیوی کے پاس ایسے ہی سات رات قیام فرمائیں، اور اگر چاہیں تو تین رات قیام فرمائیں، اور ہر بیوی کے پاس اس کی باری ہی میں جائیں، اس سے پہلے کہ انہیں تین رات کے قیام پر اقتصار کے لیے اختیار دیں، معذرت کے لیے تمہید باندھی اور فرمایا: ”تم اپنے شوہر کے نزدیک بے وقعت نہیں ہو“ یعنی اس میں کسی قسم کی کوئی حقارت نہیں اور نہ تم میرے نزدیک کم ہو بلکہ میرے نزدیک تم بیش قیمتی اور اہمیت کی حامل ہو، لہذا اگر تین رات مکمل قیام کے بعد باری مقرر کی تو اس میں آپ کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایسا اس لیے کہ یہی صحیح ہے۔

حوالہ

صحيح مسلم المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ 2006 م فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي الطبعة : الأولى ، 1427 هـ ـ 1431 هـ بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية.الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب نبی ﷺ باہر تشریف لے جانا چاہتے (سفر کے لیے) تو اپنی ازواجِ مطہرات میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں آپ ﷺ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: «كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أراد أَنْ يَخْرُج أَقْرَعَ بَيْن نِسائه، فأيَّتُهُنَّ يَخْرُج سَهْمُها خَرَج بها النبي صلى الله عليه وسلم ، فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا في غَزْوَةٍ غَزَاها، فَخَرج فيها سَهْمِي، فخَرَجْتُ مع النبي صلى الله عليه وسلم بَعْد ما أُنْزِلَ الحِجابُ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ باہر تشریف لے جانا چاہتے (سفر کے لیے) تو اپنی ازواجِ مطہرات میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں آپ ﷺ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ایک غزوہ کے موقع پر آپ ﷺ نے ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی تو اس مرتبہ میرا نام آیا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ گئی، یہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ نبی ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان کمالِ عدل سے کام لیتے تھےچنانچہ جب کسی سفر کا اردہ فرماتے تو ان کے دلوں کی تسکین کے لیے ان کے مابین قرعہ اندازی کرتے تھے اور جس کے نام قرعہ نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ایسے ہی غزوۂ بنی مصطلق کے وقت آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کے مابین قرعہ اندازی کی اور قرعہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام نکلا چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ سفر کیا، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ واقعہ اللہ تعالی کی جانب سے پردے کے احکام نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ اور یہ بات معلوم ہی ہے کہ دوسرے سفر میں اپنی بقیہ دوسری بیویوں کے مابین قرعہ اندازی کرتے کیوں کہ پہلے سفر میں جس کے نام قرعہ نکلتا وہ اپنا حق پا چکی ہوتیں، اس طرح جب ایک ہی باقی بچتیں تو اگلے سفر میں بغیر قرعہ اندازی کے انہیں اپنے ساتھ سفر میں لے جاتے۔

حوالہ

صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ صحيح مسلم، تأليف مسلم بن الحجاج النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري, أحمد بن محمد بن أبى بكر بن عبد الملك القسطلاني القتيبي المصري, الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر, الطبعة: السابعة، 1323 هـ تاج العروس من جواهر القاموس, محمّد بن محمّد بن عبد الرزّاق الحسيني، أبو الفيض، الملقّب بمرتضى، الزَّبيدي, مجموعة من المحققين, الناشر: دار الهداية توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ 2006 م فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف : عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر : دار ابن الجوزي الطبعة : الأولى ، 1427 هـ ـ 1431 هـ بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر. دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية. الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م التيسير بشرح الجامع الصغير، للمناوي. دار النشر - مكتبة الإمام الشافعي - الرياض - 1408- 1988م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com