عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: ما سُئل رسول الله - صلى الله عليه وسلم- شيئا قطُّ، فقال: لا.
وعن أنس رضي الله عنه قال: ما سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم على الإسلام شيئا إلا أعطاه، ولقد جاءه رجل، فأعطاه غنما بين جبلين، فرجع إلى قومه، فقال: يا قوم، أسلموا فإن محمدا يعطي عطاء من لا يخشى الفقر، وإن كان الرجل ليسلم ما يريد إلا الدنيا، فما يلبث إلا يسيرا حتى يكون الإسلام أحب إليه من الدنيا وما عليها.
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ايسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی چيز کا سوال کيا گيا ہو اور آپ ﷺ نے (جواب ميں) ’’نہيں‘‘ فرمایا ہو۔
اور انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺ سے اسلام لانے پر کسی چيز کا سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے وہ ضرور دی۔ (ایک دفعہ) آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا تو آپ ﷺ نے دو پہاڑوں کے درميان موجود ساری بکریاں اسے دے دیں۔ وہ واپس اپنی قوم کے پاس گيا اور کہا: اے میری قوم والو! اسلام قبول کرلو، کیوں کہ محمد (ﷺ) اس شخص کی طرح عطا کرتے ہیں جسے فقر کا انديشہ نہیں ہوتا۔ يقيناً ايک آدمی صرف دنیا حاصل کرنے کی غرض سے اسلام قبول کرتا، ليکن تھوڑا ہی عرصہ گزرتا کہ اسلام اسے دنیا اور اس میں موجود تمام چيزوں سے زیادہ محبوب ہو جاتا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
حدیث کا مفہوم: ایسا کبھی نہ ہوا کہ نبی ﷺ سے کسی نے دنیوی امورمیں سے کچھ مانگا ہو اور آپ ﷺ نے “ نہيں” کہہ کر دینے سے انکار کر دیا ہو۔ بلکہ اگر وہ چيز آپ ﷺ کے پاس ہوتی تو آپ ﷺ اسے ضرور دے دیتے یا پھر اس مانگنے والے کو اللہ کے حکم ﴿وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ﴾ ”اور سوال کرنے والے کو نہ جھڑکيں۔) کی تعمیل میں کوئی اچھی بات کہہ دیتے“۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے الادب المفرد میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ بہت شفیق تھے۔ آپ ﷺ کے پاس جو بھی شخص (کوئی چيز مانگنے کے لئے) آتا تو آپ ﷺ اس سے دینے کا وعدہ کر لیتے اور اگر آپ ﷺ کے پاس وہ چيز ہوتی تو دے دیتے۔
اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا۔ آپ ﷺ نے اپنی ازواج کے پاس (اس کا کھانا منگانے کے لئے) ایک آدمی کو بھیجا۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو اس کو اپنے ساتھ لے جائے؟ یا یہ فرمایا کہ: کون ہے جو اس کی مہمان نوازی کرے؟ (بخاری)۔
اسی طرح صحیح بخاری میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس ایک چادر لے کر آئی... اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ آپ کو پہنانے کے لیے اپنے ہاتھ سے بنا ہے۔ نبی ﷺ نے اسے لے لیا اور آپ ﷺ کو اس کی ضرورت بھی تھی۔ آپ ﷺ ہمارے پاس آئے تو وہ چادر آپ ﷺ کی تہ بند تھی۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اسے مجھے پہنا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ نبی ﷺ اس مجلس میں (کچھ دیر) تشریف فرما رہے۔ پھر واپس چلے گئے اور اس چادر کو لپيٹ کر آپ ﷺ نے اس آدمی کے پاس بھیج ديا۔ لوگوں نے اس سے کہا: تم نے اچھا نہیں کیا، تم نے یہ چادر آپ ﷺ سے مانگ لی حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ آپ ﷺ کسی مانگنے والے کو منع نہیں کرتے ہيں۔ اس پر وہ آدمی کہنے لگا: اللہ کی قسم! میں نے آپ ﷺ سے صرف اس لیے مانگا کہ ميری وفات کے دن يہ میرا کفن بن جائے۔ سہل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہی چادر اس کا کفن بنى۔
آپ ﷺ کا مانگنے والے کے ساتھ یہی رویہ ہوا کرتا تھا۔ اگر وہ چيز آپ ﷺ کے پاس ہوتی تھی تو آپ ﷺ اسے عنایت کردیتے تھے اگرچہ آپ ﷺ کو اس کی ضرورت ہی ہوتی۔ اور اگر وہ آپ ﷺ کے پاس نہیں ہوتی تو پھر آپ ﷺ مانگنے والے سے معذرت کر لیتے یا پھر کسی اور وقت کا اس سے وعدہ کر لیتے یا پھر اس کے لیے اپنے صحابہ سے سفارش کرديتے تھے۔ یہ آپ ﷺ کا جود و کرم اور حسن اخلاق تها۔
حوالہ
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي.
تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان، تأليف: عبد الرحمن بن ناصر آل سعدي، تحقيق: عبد الرحمن بن معلا اللويحق، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى، 1420هـ.
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
دليل الفالحين، تأليف: محمد بن علان، الناشر: دار الكتاب العربي.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: علي بن سلطان القاري، الناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه مرفوعاً: أنَّ ناسًا من الأنصارِ سألوا رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - فأعطاهم، ثم سألوه فأعطاهم، حتى نَفِدَ ما عنده، فقال لهم حين أنفقَ كلَّ شيءٍ بيده: «ما يَكُنْ عندي من خيرٍ فلن أَدَّخِرَهُ عَنْكُم، ومَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفِّهُ اللهُ، ومَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللهُ، ومَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللهُ. وما أُعْطِيَ أَحَدٌ عطاءً خَيرًا وأَوسع من الصبرِ».
ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا۔ انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے انہیں پھر دیا۔ یہاں تک کہ جو مال آپ کے پاس تھا وہ ختم ہوگیا۔ جب آپ ﷺ اپنے پاس موجود سب کچھ دے چکے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں اسے تم سے ہرگز بچا کر نہیں رکھوں گا۔ (تاہم یاد رکھو کہ) جو شخص سوال کرنے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص بے نیاز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے اور جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے صبر عطا کرتا ہے۔ اور کسی کو بھی صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ بے پایاں بھلائی نہیں ملی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
انصار میں سے کچھ لوگوں نے نبی ﷺ سے مال مانگا تو آپ ﷺ نے انہیں دے دیا۔ انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے پھر انہیں دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس موجود مال ختم ہو گیا۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کچھ ان سے بچا کر رکھ لیں اور انہیں نہ دیں۔ بلکہ اب تو آپ ﷺ کے پاس کچھ بچا ہی نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے انہیں دستِ سوال دراز نہ کرنے، بے نیازی اختیار کرنے اور صبر کرنے کی ترغیب دی۔
آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ جو شخص اللہ کے پاس اس کے لیے جو کچھ ہے اس کی بنا پران اشیا سے بے نیازی اختیار کرتا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں تو اللہ عز و جل اسے بے نیاز کر دیتا ہے۔ اصل بے نیازی تو دل کی بے نیازی ہوتی ہے۔ جب بندہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے اس کی بنا پر لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے بے نیازی برتتا ہے تواللہ بھی اسے لوگوں سے بے نیاز کر دیتا ہے اوراسے عزت نفس رکھنے والا شخص بنا دیتا ہے جو مانگنے سے دور رہتا ہے۔جو بندہ ان عورتوں سے اپنے آپ کو باعفت رکھنے کی کوشش کرتا ہے جو اس پر حرام ہیں تو اللہ بھی اسے باعفت بنا دیتا ہے اور اسے اور اس کے اہلِ خانہ کی حفاظت فرماتا ہے۔ اور جو صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے اللہ صبر عطا فرماتا ہے۔ اللہ کی طرف سے کسی پر جو عنایات ہوتی ہیں جیسے رزق و غیرہ، ان میں سے کوئی بھی صبر سے بہتر اور اس سے بڑی نہیں ہے۔
حوالہ
1- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م.
2- شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426ه.
3- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي.
4- صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه.
5- صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
6- المعجم الوسيط، نشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت – لبنان، الطبعة: الثانية.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن سهل بن سعد رضي الله عنه : أن امرأةَ جاءت إلى رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِبُرْدَةٍ مَنسُوجَةٍ، فقالت: نَسَجتُها بيديَّ لأَكْسُوَكَها، فأخذها النبيُّ صلى الله عليه وسلم محتاجاً إليها، فخرجَ إلينا وإنها إزارُهُ، فقال فلانٌ: اكسُنِيها ما أحسَنَها! فقال: "نعم"، فجلسَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم في المجلسِ، ثم رجع فطَوَاها، ثم أرسلَ بها إليه، فقال له القومُ: ما أحسَنتَ! لبسها النبيُّ صلى الله عليه وسلم محتاجاً إليها، ثم سألته وعَلِمتَ أنه لا يَرُدَ سائلاً، فقال: إني واللهِ ما سألتُهُ لألبِسَها، إنما سألتُهُ لتكُونَ كَفَنِي. قال سهلٌ: فكانت كَفَنَهُ.
سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بنی ہوئی چادرلے کر آئی اور کہنے لگی: میں نے اسے اپنے ہاتھ سے بنا ہے تاکہ میں اسے آپ کو پہناؤں۔ نبی ﷺ نے اسے اپنی ضرورت کی چيز سمجھتے ہوئے لے لیا۔ پھر آپ ﷺ اسے تہ بند کے طور پر باندھ کر ہمارے پاس تشريف لائے۔ تو ايک صاحب نے کہا: يہ تو آپ مجھے پہناديں, کس قدر خوبصورت ہے يہ چادر! آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا۔ پھر آپ ﷺ مجلس میں بيٹھ گئے۔ پھر واپس گئے اور اس چادر کو لپیٹ کر اس شخص کی طرف بھیج دیا۔ پس لوگوں نے اس سے کہا: تو نے اچھا نہیں کیا۔ نبی ﷺ نے يہ چادر اپنی ضرورت سمجھ کر پہنی تھی، ليکن تو نے آپ ﷺ سے يہ مانگ لی اور تجھے يہ بھی معلوم ہے کہ آپ کسی سائل کو واپس نہیں کرتے۔ اس شخص نے جواب دیا : اللہ کی قسم! میں نے اسے پہننے کے لئے نہیں مانگی ہے بلکہ میں نے تو اسے اس لئے مانگی ہے تاکہ یہ میرا کفن بنے۔ سھل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پس يہ چادر اس کے کفن ہی کے کام آئی۔
امام بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں نبی ﷺ کے ایثار (اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دینے) کا تذکرہ ہے۔ کیوں کہ آپ ﷺ نے اس چادر کے معاملے میں اپنی ذات پر اس شخص کو ترجیح دی، جب کہ آپ ﷺ کو اس كى ضرورت تھی۔ آپ ﷺ اس چادر کو پہن كر نکلے، يہ اس بات کی دليل ہے کہ آپ ﷺ کو اس کی سخت ضرورت تھی۔ ایک عورت نے آکر نبی ﷺ کو ایک چادر ہدیہ كيا۔ تو ایک شخص نے آگے بڑھ کر کہا کہ یہ کتنی خوبصورت ہے!۔ اور اس نے نبی ﷺ سے اسے مانگ لی۔ رسول الله ﷺ نے چادر کو اتار کر لپیٹا اور اسے دے ديا۔
بعض شارحین کا کہنا ہے کہ اس حدیث سے ماخوذ فوائد ميں سے يہ بھی ہے کہ نیک لوگوں کے آثار سے تبرک جائز ہے۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ یہ تبرک تو آپ ﷺ کی ذات سے تھا ، فضیلت اور نیکی میں کسی اور کو آپ ﷺ پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازيں صحابۂ کرام آپ ﷺ کی حیات میں یا آپ کی وفات کے بعد کسی اور کے ساتھ ایسا نہیں کرتے تھے۔ اگر یہ اچھی بات ہوتی تو وہ ضرور اسے ہم سے پہلے کر چکے ہوتے۔
حوالہ
بهجة شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي.
تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبدالعزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ.
تيسير العزيز الحميد في شرح كتاب التوحيد؛ للإمام سليمان بن عبدالله بن محمد بن عبدالوهاب، تحقيق أسامة عطايا، دار الصميعي-الرياض، الطبعة الأولى، 1428هـ.
الجمع بين الصحيحين؛ للإمام محمد بن فتوح الحميدي، تحقيق د. علي البواب، دار ابن حزم.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
فتح الباري بشرح صحيح البخاري؛ للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار المعرفة-بيروت.
كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن جبير بن مطعم رضي الله عنه قال: بينما هو يسير مع النبي صلى الله عليه وسلم مَقْفَلَه من حُنَيْن، فَعَلِقَهُ الأعراب يسألونه، حتى اضطروه إلى سَمُرَة، فَخَطِفَت رداءه، فوقف النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «أعطوني ردائي، فلو كان لي عدد هذه العِضَاهِ نَعَمًا، لقسمته بينكم، ثم لا تجدوني بخيلًا ولا كذابًا ولا جبانًا».
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہے تھے، آپ کے ساتھ اور بہت سے صحابہ بھی تھے۔ وادیٔ حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ کچھ ( بدو ) لوگ آپ ﷺ سے لپٹ گیے اور مانگنا شروع کردیا۔ بالآخر آپ کو مجبوراً ایک ببول کے درخت کے پاس جانا پڑا۔ وہاں آپ کی چادر مبارک ببول کے کانٹوں میں الجھ گئی، فرمایا: ”میری چادر مجھے دے دو، اگر میرے پاس اِس درخت کے کانٹوں جتنے بھی اونٹ بکریاں ہوتیں تو میں اُن سب کو تم میں تقسیم کردیتا، مجھے تم بخیل نہیں پاؤ گے اور نہ جھوٹا اور بزدل پاؤگے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
رسول اللہ ﷺ جب غزوۂ حنین سے واپس آ رہے تھے اور یہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے۔ آپ ﷺ کے ساتھ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ کچھ لوگ رسو ل اللہﷺ سے لپٹ گیے اور آپ سے مال غنیمت میں سے مال مانگنے لگے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو ایک ببول کے درخت کے پاس پناہ لینے پر مجبور کردیا (ببول دیہاتوں میں ایک خاردار درخت ہوتا ہے)۔ آپ ﷺ کی چادر اس کے کانٹوں سے الجھ گئی، اور بدوؤں نے وہ چادر کھینچ لی۔ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: میری چادر مجھے دے دو، اگر میرے پاس درخت کے کانٹوں جتنے بھی (یہ بہت زیادہ خار دار درخت ہوتا ہے) اونٹ ،گائے اور بکریاں ہوتیں تو میں اُن سب کو تم میں تقسیم کردیتا۔ پھرفرمایا کہ: اگر اس وقت مجھے آزماؤ گے تو مجھے تم بخیل، جھوٹا اور بزدل نہیں پاؤگے۔
حوالہ
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ، 2007م.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1418 هـ، 1997م.
إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، أحمد بن محمد القسطلاني القتيبي، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، الطبعة: السابعة 1323 هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عمر رضي الله عنه قال: قَسَمَ رسول الله صلى الله عليه وسلم قَسْمًا، فقلت: يا رسول الله لَغَيْرُ هؤلاء كانوا أحق به منهم؟ فقال: «إنهم خَيَّرُونِي أن يسألوني بالْفُحْشِ، أو يُبَخِّلُونِي ولست بِبَاخِلٍ».
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے مال تقسیم کیا، تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ان کے علاوہ (جنہیں آپ نے عطا فرمایا) دوسرے لوگ اس کے زیادہ حقدار تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”انھوں نے مجھے ایک چیز اختیار کرنے پر مجبور کردیا کہ یا تو یہ مذموم طریقے (بےجا اصرار) سے سوال کریں یا مجھے بخیل بنادیں تو میں بخیل بننے والا نہیں ہوں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
آپ ﷺ نے آئے ہوئے مال کو کچھ لوگوں میں تقسیم کیا اور دوسروں کو چھوڑ دیا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کاش کہ آپ ان کو دیتے جنہیں آپ نے نہیں دیا ہے اس لیے کہ وہ زیادہ حقدار تھے؟ آپ ﷺ نے ان سے کہا انہوں نے اپنے کمزور ایمان کی وجہ سے مجھ سے مانگنے میں اصرار کیا اور اپنی خستہ حالی کی وجہ سے مجھ سے بے جا چیز کا سوال کیا یا پھر یہ کہ وہ بُخل کی طرف میری نسبت کریں۔
چانچہ آپ ﷺ نے عطا کرنے کو اختیار کیا، اس لیے کہ آپ کے اخلاق میں بُخل نہیں، بلکہ خاطر مدارات اور تالیفِ قلوب کے واسطے آپ نے انہیں دے دیا۔
حوالہ
المسند الصحيح (صحيح مسلم), تأليف: مسلم بن حجاج النيسابوري, تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقي, دار إحياء التراث العربي.
تاج العروس من جواهر القاموس, تأليف: محمد بن محمد الزبيدي, تحقيق: مجموعة من المحققين, الناشر: دار الهداية.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين, تأليف: مصطفى الخن ومصطفى البغا ومحي الدين مستو وعلي الشربجي ومحمد لطفي, مؤسسة الرسالة, ط 14 عام 1407 - 1987.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ القُرْآنَ، فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ المُرْسَلَةِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوا کرتے تھے، جب جبریل عليہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے۔ جبریل عليہ السلام آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے تھے اور قرآن کا دور کراتے تھے۔ لہذا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خير کے کاموں میں تيز ہوا سے بھی زیادہ تیز رفتار ہوا کرتے تھے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سب سے سخی انسان تھے اور آپ کی سخاوت کو ماہ رمضان میں اور زیادہ جلا مل جاتی تھی۔ جس کو جو دینا چاہیے، اس ماہ میں آپ خوب دیتے تھے۔ اس کے دو اسباب تھے:
1- جبریل سے آپ کی ملاقات ہوتے رہنا۔
2- قرآن کا دور کرنا یعنی اسے زبانی پڑھنا۔
جبریل آپ کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصے کا دور کرتے تھے اور اس دوران اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم فیاضی، داد و دہش، خیر کے کاموں اور لوگوں کو فیض یاب کرنے میں اس خوش گوار ہوا سے بھی تیز ہوا کرتے تھے، جسے اللہ بارش اور رحمت کے ساتھ بھیجتا ہے۔
فوائد
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اور فیاضی کا بیان، خاص طور پر رمضان میں؛ کیوں کہ یہ اطاعت کا مہینہ اور نیک اعمال کا موسم ہے۔
- ہر وقت فیاضی دکھانے کی ترغیب۔ لیکن ماہ رمضان کے اندر اس میں زیادہ سرگرم رہنا مستحب ہے۔
- ماہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا، لوگوں کو دینا، دوسروں کا بھلا کرنا اور قرآن پڑھنا چاہیے۔
- علم کی حفاظت کا ایک اہم ترین سبب طالب علموں اور علما کے ساتھ علم کے درس وتدریس میں لگا ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 8) (6).
صحيح مسلم (4/ 1803) (2308).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 275).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (2/ 870).
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 364).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين.
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com