سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

آپ ﷺ کا عفو و درگزر

2 احادیث

اس شخص نے مجھ پر میری تلوار کھینچی تھی، جب کہ میں سویا ہوا تھا میں بیدار ہوا تو یہ اس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تھی، اس نے کہا: اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ

عن جابر رضي الله عنه : أنه غزا مع النبي صلى الله عليه وسلم قِبَل نَجْد، فلما قَفل رسول الله صلى الله عليه وسلم قفل معهم، فأدركتهم القَائِلَةُ في وَادٍ كثير العِضَاه، فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم وتفرق الناس يَسْتَظِلُّونَ بالشجر، ونَزل رسول الله صلى الله عليه وسلم تحت سَمُرَة فعلق بها سيفه وَنِمْنَا نومةً، فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم يدْعونا وإذا عنده أعرابي، فقال: «إن هذا اخْتَرَطَ عليَّ سَيفِي وأنا نائم فاستيقظت وهو في يده صَلتًا، قال: من يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قلت: الله -ثلاثا-» ولم يُعاقِبْهُ وجلس، متفق عليه. وفي رواية قال جابر: كنَّا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بذَاتِ الرِّقَاعِ، فإذا أَتَيْنَا على شجرة ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لرسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء رجُل من المشركين وسيف رسول الله صلى الله عليه وسلم معَلَّقٌ بالشجرة فَاخْتَرطَهُ، فقال: تَخَافُنِي؟ قال: «لا»، فقال: فمن يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قال: «الله». وفي رواية أبي بكر الإسماعيلي في «صحيحه»، قال: من يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قال: «الله»، قال: فسقط السيف مِن يَدهِ، فأخذ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - السيف، فقال: « من يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟»، فقال: كُنْ خَيرَ آخِذٍ، فقال: «تَشهد أن لا إله إلا الله وَأَنِّي رسول الله؟» قال: لا، ولكني أُعَاهِدُكَ أن لا أُقَاتِلَكَ، ولا أكُون مع قوم يُقَاتِلُونَكَ، فَخَلَّى سَبيلَهُ، فأتى أصحابه، فقال: جئتُكُمْ من عندِ خير الناسِ.
جابر رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جہاد کے ليے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نجد کا سفر کیا، جب رسول اللہ ﷺ یہاں سے لوٹے، تو وہ بھی آپ ﷺ کے ہمراہ لوٹے وہ لوگ دوپہر کے وقت گھنے خار دار درختوں کی ایک وادی میں پہونچے، رسول ﷺ یہاں اتر پڑے، (صحابہ بھی اتر گئے) اور تمام لوگ سایہ کی تلاش میں پھیل گئے، رسول اللہ ﷺ کیکر کے ایک درخت کے نیچے فرو کش ہوئے اور آپ ﷺ نے اپنی تلوار اس سے لٹکا دی، ہم لوگ تھوڑی دیر ہی سوئے تھے کہ یکایک رسول اللہ ﷺ ہمیں پکارنے لگے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک اعرابی (بدو) آپ ﷺ کے پاس ہے، آپ نے فرمایا: اس شخص نے مجھ پر میری تلوار کھینچی تھی، جب کہ میں سویا ہوا تھا میں بیدار ہوا تو یہ اس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تھی، اس نے کہا: اب آپ (ﷺ) کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ، اور تین مرتبہ کہا کہ اللہ بچائے گا۔ آپ ﷺ نے اس دیہاتی کو کوئی سرزنش نہیں کی اور بیٹھ گئے۔ (متفق علیہ)۔ ايک دوسری روايت ميں جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں: جنگ ذات الرقاع میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے پس جب ہم ایک گھنے سائے والے درخت کے پاس آئے تو ہم نے اسے رسول اللہ ﷺ کے ليے چھوڑ دیا، مشرکین میں سے ایک شخص آیا اور رسول اللہ ﷺ کی درخت سے لٹکی ہوئی تلوار کھینچ لی اور کہا: تو مجھ سے ڈرتا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: نہیں، اس نے کہا: تجھے آج مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ!‘‘ اور صحیح ابو بکر اسماعیلی کی روايت میں اس طرح ہے: ديہاتی نے کہا: تجھ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمايا:اللہ، راوی کہتے ہیں ( اتنا سننا تھا) کہ کافر کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی، آپ ﷺ نے تلوار اٹھالی اور فرمايا: (تو بتلا) تجھے، مجھ سے کون بچاے گا؟، کافر کہنے لگا: آپ بہتر تلوار پکڑنے والے ہوئیے (یعنی احسان کیجیے)، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: کيا تو اس بات کی گواہی ديتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہيں اور ميں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے جواب ديا: نہيں، البتہ میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ میں آپ سے لڑوں گا نہ آپ سے لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا۔ آپ ﷺ نے اس کا راستہ چھوڑ ديا، وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا: میں تمہارے یہاں سب سے اچھے انسان کے پاس سے آ رہا ہوں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حديث ميں جابر رضي اللہ عنہ بيان فرما رہے ہيں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کیا، اور يہ جنگ سيرت لکھنے والوں کے يہاں ذات الرقاع کے نام سے معروف ومشہور ہے۔ جنگ سے لوٹتے وقت، آپ ﷺ دوپہر ميں ایسی جگہ اترے، جہاں گھنے کانٹے دار درخت تھے، اور لوگ بھی نبی ﷺ سے الگ ہوکر ایسی جگہ تلاشنے لگے جہاں سورج کی تپش سے بچ کر سایہ حاصل کر سکیں، اور رسول اللہ ﷺ ایک سایہ دار درخت کے نیچے فرو کش ہوئے جسے سمرۃ یعنی کیکر کہا جاتا ہے، اور آپ ﷺ نے اپنی تلوار اسی درخت سے لٹکا دی اور سو گئے، صحابۂ کرام بھي سو گئے پھر جن لوگوں سے اس غزوہ میں جنگ ہوئی تھی انہیں ميں سے ايک ديہاتی چپکے سے آپ کے پاس آيا اور لوگوں کو اس کی بھنک بھی نہ پڑی، اس نے آپ کی تلوار نہایت خاموشی سے اٹھا لی، آپ ﷺ جاگ گئے، تلوار اس کے ھاتھ میں تھی اور وہ آپ ﷺ کو ڈراتے ہوے کہہ رہا تھا: ’’اگر ميں تم کو قتل کرنا چاہوں تو تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمايا: ’’اللہ‘‘، اور يہ جملہ تین مرتبہ فرمايا، اس کا مطلب يہ ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ مجھے تجھ سے بچالے گا۔ آپ ﷺ نے يہ جملہ پورے اعتماد و توکل اور بھروسہ کے ساتھ کہا آپ کو اللہ کے وعدہ پر یقین تھا، کافر کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر گر گئی، آپ ﷺ نے تلوار اٹھالی اور فرمايا: ’’اب تجھے‘ مجھ سے کون بچاے گا؟‘‘ یعنی اگر میں تجھے قتل کرنا چاہوں۔ کافر کہنے لگا: (آپ اچھی طرح پکڑنے والے ہوئیے)، اس سے مراد عفو و در گذراور برائی کا بدلہ بھلائی سے دينے کے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمايا: کيا تو اس بات کی گواہی ديتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہيں اور ميں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے جواب ديا: نہيں، ليکن اس نے آپ سے نہ لڑنے اور اسی طرح آپ سے جنگ کرنے والوں کا ساتھ نہ دینے کا وعدہ کيا، آپ ﷺ نے اسے اس کی راہ پر چھوڑ ديا، اور وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس جاکر ان سے کہا: ميں آج (دنيا کے) سب سے افضل وبہتر شخص کے پاس سے آيا ہوں۔ اور حقيقت بھی يہی ہے کيوں کہ نبی ﷺ اخلاق و کردار میں سب سے بہتر تھے، اور اللہ نے بھی اپنے اس فرمان کے ذریعہ اس بات کی گواہی دی ہے: ’’اے نبی تم سب سے بڑے اور عمدہ اخلاق پر ہو۔‘‘

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت –بدون تاريخ. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا - الطبعة الأولى 1430ه. - شرح صحيح البخارى لابن بطال - تحقيق: أبو تميم ياسر بن إبراهيم مكتبة الرشد - السعودية، الرياض الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

آپ نہ بد زبان تھے، نہ گندی باتوں اور کاموں میں پڑتے تھے، نہ بازاروں میں چیخ اور چلا کر بات کرنے والے تھے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے، بلکہ آپ معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے

عَن أَبي عَبْدِ اللهِ الْجَدَلِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمِّ المؤْمنينَ رَضيَ اللهُ عنها عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ: لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ.
ابو عبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے کہا: "آپ نہ بد زبان تھے، نہ گندی باتوں اور کاموں میں پڑتے تھے، نہ بازاروں میں چیخ اور چلا کر بات کرنے والے تھے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے، بلکہ آپ معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے"۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابو عبد اللہ جدلی رحمہ اللہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے بتایا کہ آپ بڑے اونچے اخلاق کے مالک تھے۔ نہ بد زبان تھے کہ بری باتیں منہ سے نکالتے، نہ بہ تکلف اور نہ کم یا زیادہ بری باتوں اور کاموں میں پڑتے تھے اور نہ بازاروں میں چیخ کر باتیں کرکے بد خلقی کا مظاہرہ کرتے تھے، بلکہ ہر ایک کے ساتھ نرمی اور شفقت کا برتاو کرتے تھے۔ اگر کوئی بد سلوکی سے پیش آ بھی گیا، تو اس کے ساتھ بد سلوکی روا رکھنے کی بجائے معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے۔

حوالہ

سنن الترمذي (3/ 543) (2016). مسند أحمد (42/ 256) (25417). فتح الباري شرح صحيح البخاري، لابن حجر(6/ 575). إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، القسطلاني (9/ 30). معجم اللغة العربية المعاصرة (2/ 1629). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (9/ 3717).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com