سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

آپ ﷺ کا ہنسنا

1 احادیث

میں نے اللہ کے نبی ﷺ کو کبھی اس طرح قہقہہ مار کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ کے گلے کے کوے کو دیکھ سکوں۔ آپﷺ تو بس مسکرایا کرتے تھے۔

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنين رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا قَطُّ ضَاحِكًا، حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ.
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: میں نے اللہ کے نبی ﷺ کو کبھی اس طرح قہقہہ مار کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ کے گلے کے کوے کو دیکھ سکوں۔ آپﷺ تو بس مسکرایا کرتے تھے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ خبر دی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس طرح کھلکھلاکر نہيں ہنستے تھے کہ کوا دکھ جائے۔ بس مسکرا دیا کرتھے تھے۔ کوا حلق کے اوپری حصے میں موجود گوشت کے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔

فوائد
  1. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی چيز کو پسند فرماتے یا خوش ہوتے، تو بس مسکرا دیا کرتے تھے آپ کى ہنسى کى کیفیت بس یہی ہوا کرتى تھى۔
  2. ابن حجر (اس حدیث کا معنى بیان کرتے ہوئے) کہتے ہیں: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو اس طرح کھلکھلاکر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کا سراپا ہنسنے میں محو ہو جائے۔
  3. بہت زیادہ ہنسنا اور زور سے قہقہہ لگانا صالحین کی صفات میں سے نہیں ہے۔
  4. زیادہ ہنسنے سے لوگوں کے درمیان انسان کا وقار اور اس کی ہیبت ختم ہو جاتی ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 24) (6092). صحيح مسلم (2/ 616) (899).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com