سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

پیدائشی صفات

2 احادیث

میں نے کسی دراز گیسوؤں والے شخص کو سرخ لباس میں ملبوس کسی شخص کو رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھا.

عَنِ الْبَرَاءِ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَعْرُهُ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی دراز گیسوؤں والے شخص کو سرخ لباس میں ملبوس کسی شخص کو رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ کے بال شانوں کو چھوتے تھے، آپ ﷺ کا سینہ چوڑا تھا، نہ تو آپ ﷺ کا قد چھوٹا تھا اور نہ ہی لمبا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی ﷺ کا ایسے انداز میں حلیہ مبارک بیان کر رہے ہیں جو آپ ﷺ کے حسن و جمال پر دلالت کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ حسین کبھی کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جس کے بال اس کی کانوں کی لو تک آ رہے ہوں اور وہ سرخ جبے میں ملبوس ہو۔ پھر آپ ﷺ کا کچھ حلیہ مبارک بیان کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ آپ ﷺ کے شانے دور تھے (یعنی آپ ﷺ کا سینہ کشادہ تھا) اور آپ ﷺ نہ تو دراز قد تھے اور نہ ہی کوتاہ قد ۔

حوالہ

صحيح البخاري (4/ 188) (3551). صحيح مسلم (4/ 1818) (2337). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص730).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم کوئی موٹا اور باریک ریشم نہیں چھوا۔

عن أنس رضي الله عنه ، قَالَ: مَا مَسِسْتُ دِيبَاجاً وَلاَ حَرِيراً ألْيَنَ مِنْ كَفِّ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، وَلاَ شَمَمْتُ رَائِحَةً قَطُّ أطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، وَلَقَدْ خدمتُ رسول اللهِ صلى الله عليه وسلم عَشْرَ سنين، فما قَالَ لي قَطُّ: أُفٍّ، وَلاَ قَالَ لِشَيءٍ فَعَلْتُهُ: لِمَ فَعَلْتَه؟، وَلاَ لشَيءٍ لَمْ أفعله: ألاَ فَعَلْتَ كَذا؟.
انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم کوئی موٹا اور باریک ریشم نہیں چھوا، اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کی خوشبو سے زیادہ عمدہ کوئی خوشبو سونگھی۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال خدمت کی۔ آپ ﷺ نے کبھی مجھے اُف تک نہ کہا اور نہ ہی میرے کسی کیے گئے کام کے بارے میں مجھ سے یہ پوچھا کہ یہ تم نے کیوں کیا ہے؟ اور نہ ہی جس کام کو میں نے نہیں کیا اس پر آپ ﷺ نے یہ کہا کہ تم نے یہ کیوں نہیں کیا؟
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی دس سال خدمت کی، آپ ﷺ کے ہاتھ مبارک گداز تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ کی خوشبو بھی خوشگوار ہوتی تھی۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی خوشبو سے عمدہ کوئی خوشبو کبھی نہیں سونگھی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی دس سال تک خدمت کی، آپ ﷺ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا۔ یعنی خدمت کے دس سال کے دوران آپ ﷺ کبھی کبھی انہیں اُف تک نہ کہا یعنی انہیں کبھی ڈانٹا نہیں اور نہ ہی کسی کیے جانے والے کام کے بارے میں یہ پوچھا کہ یہ تم نے کیوں کیا ہے۔؟ حتی کہ وہ اشیاء جو انس بن مالک خود کرتے تھے اس پر بھی آپ ﷺ نہ تو ان کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے اور نہ یہ کہتے کہ تم نے ایسا کیوں کیا ہے؟ حالانکہ وہ ایک خادم تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے انہیں کسی نہ کیے جانے والے کام پر یہ بھی نہ کہا کہ تم نے یہ اور یہ کیوں نہیں کیا؟۔ یہ آپ ﷺ کے حسنِ اخلاق کا ایک مظہر ہے۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com