اللہ کے رسول ﷺ کو جب چھینک آتی، تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور اس سے اپنی آواز کو ہلکی یا پست کرتے۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: كان رسولُ الله صلى الله عليه وسلم إذا عَطَس وضَعَ يَدَه -أو ثوبَهُ- على فيهِ، وخَفَضَ -أو غضَّ- بها صوتَهُ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے رسول ﷺ کو جب چھینک آتی، تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور اس سے اپنی آواز کو ہلکی یا پست کرتے۔
رواه أبو داود والترمذي وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جب چھینک آتی،
تو سب س پہلے اپنے منہ پر ہاتھ یا کپڑا رکھتے، تاکہ منہ یا ناک سے کوئی ایسی چیز نہ نکلے، جس سے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو اذیت ہو۔
دوسرے نمبر پر آواز دھیمی کر لیتے۔
فوائد
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے چھینکنے کے طریقے کا بیان اور اس میں آپ کی پیروی۔
چھینکتے وقت منہ اور ناک پر کپڑا یا رومال وغیرہ رکھ لینا مستحب ہے، تاکہ اس سے کوئی ایسی چيز نہ نکلے کہ اس سے پاس بیٹھے ہوئے انسان کو اذیت ہو۔
چھینکتے وقت آواز کو پست کر لینا چاہیے۔ یہ کمالِ ادب اور اعلیٰ اخلاق میں سے ہے۔
حوالہ
سنن أبي داود (7/ 375) (5029).
سنن الترمذي (4/ 461) (2745).
مسند أحمد (15/ 412) 9662).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 440).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص528).
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 149).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 678).
كنوز رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين (11/ 432).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com