سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رسول اللہ ﷺ نے اپنی موت کے وقت نہ کوئی درہم ودینار چھوڑا‘ نہ کوئی غلام‘ نہ کوئی لونڈی اور نہ کوئی اور چیز۔ البتہ اپنا سفید خچر، اپنے ہتھیار اور ایک زمین چھوڑی جسے آپ نے صدقہ کر دیا تھا۔

عَنْ عَمْرِو بْنِ الحَارِثِ خَتَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخِي أُمِّ المؤمِنين جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُم، قَالَ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ دِرْهَمًا وَلاَ دِينَارًا وَلاَ عَبْدًا وَلاَ أَمَةً وَلاَ شَيْئًا، إِلَّا بَغْلَتَهُ البَيْضَاءَ، وَسِلاَحَهُ، وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً.
عمرو بن حارث، رسول اللہ ﷺ کے سالے اور امّ المؤمنین جویریہ بنت حارث کے بھائی، رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اپنی موت کے وقت نہ کوئی درہم ودینار چھوڑا‘ نہ کوئی غلام‘ نہ کوئی لونڈی اور نہ کوئی اور چیز۔ البتہ اپنا سفید خچر، اپنے ہتھیار اور ایک زمین چھوڑی جسے آپ نے صدقہ کر دیا تھا۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

نبی ﷺ نے وفات کے وقت نہ کوئی چاندی کا درہم چھوڑا نہ سونے کا دینار، نہ کوئی غلام نہ لونڈی، نہ بکری نہ اونٹ اور نہ ہی مال میں سے کوئی چیز چھوڑی، سوائے اپنے سفید خچر کے جس پر آپ ﷺ سواری کیا کرتے تھے، اپنے ہتھیار کے، اور اس زمین کے جسے آپ نے اپنی زندگی میں مسافروں کے لیے وقف کردیا تھا۔

فوائد
  1. انبیاء علیہم السلام وارث نہیں بناتے۔
  2. نبی ﷺ نے اپنی وفات کے بعد جو کچھ چھوڑا، اس کا بیان۔
  3. آپ علیہ الصلاة والسلام نے اپنی سخاوت، انفاق اور احسان کی وجہ سے وفات کے وقت کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں چھوڑی۔
  4. کرمانی نے فرمایا: اُن کے قول (وجعلها) میں ضمیر تینوں یعنی خچر، اسلحہ اور زمین کی طرف لوٹتی ہے، نہ کہ صرف زمین کی طرف۔
  5. الختن: بیوی کا بھائی، اور الأختان عورت کی طرف سے ہیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (4/ 2) (2739). النهاية في غريب الحديث والأثر (254). فتح الباري لابن حجر (5/ 360). عمدة القاري شرح صحيح البخاري (14/ 31).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
زہد اور تقوی

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com