سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

زہد اور تقوی

14 احادیث

مسکین وہ نہیں، جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے ہی واپس لوٹا دیتے ہیں، بلکہ مسکین تو وہ ہے، جو سوال نہیں کرتا۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه أَنَّ رسُولَ اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم- قَالَ: «لَيسَ المِسْكِين الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَة والتَّمْرَتَان، وَلا اللُّقْمَةُ واللُّقْمَتَان، إِنَّمَا المِسْكِين الَّذِي يَتَعَفَّف».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں، جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے ہی واپس لوٹا دیتے ہیں، بلکہ مسکین تو وہ ہے، جو سوال نہیں کرتا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

یہ حدیث مسکین کی حقیقت واضح کر رہی ہے کہ مساکین میں سے قابل تعریف، صدقے کا حق دار اور اس کا ضرورت مند وہ ہے، جو سوال نہیں کرتا۔ گھوم پھر کر مانگنے والے شخص سے آپ ﷺ نے مسکینیت کی نفی کی؛ کیوں کہ اس تک بقدر کفایت سامان وغیرہ پہنچتا رہتا ہے۔ بعض اوقات اسے زکوٰۃ مل جاتی ہے، جس سے اس کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ ضرورت تو اس شخص کی باقی رہتی ہے، جو مانگتا نہیں ہے اور بطور شفقت اسے کوئی کچھ دیتا بھی نہیں ہے۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه. تطريز رياض الصالحين للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425ه. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کےلیےجنت ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اللہ تعالی نے مومن کے لیے روز قیامت جو دائمی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں ان کی وجہ سے وہ دنیا میں قیدی ہے اور کافر کی جنت اس کی دنیا ہے کیونکہ روز قیامت اس کے لیے اللہ نے کبھی نہ ٹلنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2272) (2956). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 535). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 419). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 367). موسوعة فقه القلوب، لمحمد التويجري (4/ 3471). كتاب العلم، لابن عثيمين (ص37).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو میں یہ چاہوں گا کہ میرے اوپر تین راتیں اس حال میں نہ گزریں کہ میرے پاس اس (سونے) میں سے کوئی شے بچی پڑی ہو۔ سوا اس کے، جسے میں کسی قرض دینے کے لیے رکھ چھوڑوں۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لو كان لي مِثْلُ أحدٍ ذهبًا، لسرني أن لا تمر عليَّ ثلاث ليالٍ وعندي منه شيءٌ إلا شيء أرْصُدُهُ لِدَيْنٍ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو میں یہ چاہوں گا کہ میرے اوپر تین راتیں اس حال میں نہ گزریں کہ میرے پاس اس (سونے) میں سے کوئی شے بچی پڑی ہو۔ سوا اس کے، جسے میں کسی قرض دینے کے لیے رکھ چھوڑوں“۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔درجہصحیح
تشریح

اگر میرے پاس احد پہاڑ کی مقدار کے برابر بھی خالص سونے کی شکل میں مال ہوتا ہے تو میں اس سارے کے سارے مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کر دیتا اور کچھ نہ بچاتا ماسوا اس کے، جسے میں حقوق اور اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لیے رکھ چھوڑتا۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، أ.د. حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار، دار كنوز اشبيليا، الطبعة الأولى : 1430 هـ. منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، المؤلف: حمزة محمد قاسم، راجعه: الشيخ عبد القادر الأرناؤوط، عني بتصحيحه ونشره: بشير محمد عيون، الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية عام النشر: 1410 هـ - 1990 م. نزهة المتقين، د. مصطفى سعيد الخن، د. مصطفى البغا، محي الدين مستو، علي الشرجبي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى : 1397 هـ 1977 م، الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ 1987م. شرح رياض الصالحين، المؤلف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426 هـ. رياض الصالحين، د. ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م. صحيح مسلم، المؤلف: مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت. صحيح البخاري، المؤلف: محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي، المحقق: محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہ (فقیر) شخص اس (پہلے) شخص جیسے دنیا بھر کے لوگوں سے بہتر ہے۔

عن سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنه قال: مَرَّ رجلٌ على النبي صلى الله عليه وسلم فقال لرجل عنده جالسٌ: «ما رأيُك في هَذا؟»، فقال: رجل من أَشراف الناس، هذا والله حَرِيٌّ إن خَطب أن يُنْكَحَ، وإن شَفع أن يُشَفَّعَ، فَسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم مرَّ رجلٌ آخر، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما رأيُك في هذا؟» فقال: يا رسول الله، هذا رجلٌ من فقراء المسلمين، هذا حَرِيٌّ إن خَطب أن لا يُنْكَحَ، وإن شَفَعَ أن لا يُشَفَّعَ، وإن قال أن لا يُسمع لقوله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «هذا خَيرٌ من مِلءِ الأرض مثل هذا».
سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبیﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ ﷺ نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص سے پوچھا: اس کے بارے تمہاری کیا رائے ہے؟ اس شخص نے جواب دیا: یہ (آدمی) معزز لوگوں میں سے ہے۔ اللہ کی قسم! یہ اس قابل ہے کہ اگر کہیں پيغامِ نكاح بھیجے تو اس کا نکاح کر دیا جائے اور اگر كسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے۔ رسول اللہ ﷺ (یہ جواب سن کر) خاموش ہوگئے۔ پھر ایک اور آدمی (وہاں سے) گزرا تو آپ ﷺ نے پھر اسی شخص سے پوچھا: اس کے بارے تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! یہ شخص غریب مسلمانوں میں سے ہے۔ یہ اس لائق ہے کہ اگر نکاح کا پیغام دے تو اس سے کوئی نکاح نہ کرے، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے، اور اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات سنی نہ جائے۔ رسول کریم ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا۔ ”یہ (فقیر) شخص اس (پہلے) شخص جیسے دنیا بھر کے لوگوں سے بہتر ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

مفہوم حدیث: نبی ﷺ کے پاس سے دو آدمیوں کا گزر ہوا۔ ان میں سے ایک کا تعلق معزز لوگوں سے تھا جس کا ان میں اثرورسوخ تھا۔ یہ ایسا شخص تھا کہ اگر کہیں پیغام نکاح بھیجتا تو اس کا پیغام قبول کیا جاتا اور اگر کوئی بات کہتا تو اس کی بات سنی جاتی۔ جب کہ دوسرا شخص اس کے بالکل برعکس تھا۔ اس کا تعلق کمزور مسلمانوں میں سے تھا جس کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اگر وہ کہیں پیغام نکاح بھیجتا تو اسے قبول نہ کیا جاتا، اگر کوئی سفارش کرتا تو اس کی سفارش قبول نہ کی جاتی اور اگر کوئی بات کہتا تو اس کی بات سنی نہ جاتی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ (غریب) شخص اس (پہلے) شخص جیسے زمین بھر کے لوگوں سے بہتر ہے“ یعنی یہ شخص اللہ کے نزدیک اس شخص جیسے دنیا بھر کے لوگوں سے بہتر ہے جو اپنی قوم میں جاہ و منزلت رکھتا ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالی عزت و جاہ، حسب و نسب، مال و دولت، شکل و صورت، لباس، سواری اور گھر بار کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ دل اور عمل کو دیکھتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے: ”اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے مال و دولت کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے“۔ (صحیح مسلم) جب بندے اور اللہ کے مابین دل کی اصلاح ہوجاتی ہے، وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، اور وہ اللہ کا ذکر کرنے والا اور اس سے خوف کھانے والا ہو جاتا ہے، اور وہ اللہ عز وجل کو راضی کرنے والے اعمال کرتا ہے تو ایسا شخص ہی اللہ کے ہاں معزز اور صاحب منزلت ہے۔ اور یہی وہ شخص ہے جو اگر اللہ پر قسم کھا لے تو اللہ تعالی اس کی قسم کو پوری کردیتا ہے.

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، أ. د. حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار، دار كنوز اشبيليا، الطبعة الأولى، 1430هـ. بهجة الناظرين، الشيخ: سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي. نزهة المتقين، د. مصطفى سعيد الخن - د. مصطفى البغا - محي الدين مستو - علي الشرجبي - محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، بيروت الطبعة الأولى، 1397هـ - 1977م. شرح رياض الصالحين، المؤلف: محمد بن صالح بن محمد العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ. رياض الصالحين، د. ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة الأولى، 1428هـ - 2007م. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کوئی چیز نہیں مانگے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟۔

عن ثوبان رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من تَكَفَّلَ لي أن لا يسأل الناس شيئًا، وأَتَكَفَّلُ له بالجنة؟» فقلت: أنا، فكان لا يَسأل أحدًا شيئًا.
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہي کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟“، ثوبان نے کہا کہ میں (ضمانت دیتا ہوں)، چنانچہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے نبی ﷺ کے لیے لوگوں سے ان کے اموال مانگنا اور اپنے معاملات کے نپٹانے میں ان سے مدد مانگنا چھوڑ دے خواہ یہ مانگنا تھوڑی چیز کا ہو یا زیادہ کا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے اسے جنت کی ضمانت دی ہے۔ اس لیے کہ مخلوق سے نہ مانگنے میں اللہ کی ذات پر توکل ہوگا اور یہ اللہ کی ذات پر اعتماد اور اللہ سے قوی امید وابستہ رکھنے کی علامت ہے۔ چنانچہ اس کا بدلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ ثوبان رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو آپ ﷺ سے سننے کے بعد نبی ﷺ سے یہ وعدہ کیا کہ وہ لوگوں سے کچھ بھی نہیں مانگیں گے، چنانچہ ابنِ ماجہ کی روایت میں ان کے بارے میں منقول ہے کہ یہ سوار ہوتے ان کا کوڑا گر جاتا تو کسی سے نہ کہتے کہ مجھے میرا کوڑا دیدو، بلکہ خود اتر کر لے لیتے۔ یہ اس عہد کی پاسداری ہے جو انہوں نے آپ ﷺ سے کر کے اسے اپنے اوپر لازم کیا تھا۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى، 1430هـ. بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، نسخة الكترونية، لا يوجد بها بيانات نشر. سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السَِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا. السنن الصغرى، تأليف: أحمد بن شعيب النسائي، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، الناشر: مكتب المطبوعات الإسلامية، الطبعة الثانية، 1406هـ. سنن ابن ماجه، تأليف: محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: شعيب الأرناؤوط وغيره، الناشر: دار الرسالة العالمية، الطبعة الأولى، 1430هـ. رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل، الطبعة الأولى، 1428هـ. دليل الفالحين، تأليف: محمد بن علان، الناشر: دار الكتاب العربي، نسخة الكترونية، لا يوجد بها بيانات نشر. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: علي بن سلطان القاري، الناشر: دار الفكر، الطبعة الأولى، 1422هـ. التنوير شرح الجامع الصغير، تأليف: محمد بن إسماعيل الصنعاني، تحقيق: د. محمد إسحاق محمد إبراهيم، الناشر: مكتبة دار السلام، الطبعة الأولى، 1432هـ. صحيح الترغيب والترهيب، تأليف: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مكتبة المعارف، الطبعة الخامسة.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ کے رسول ﷺ ہمارے پاس سے گزرے جبکہ ہم اپنی جھونپڑی کی مرمت کر رہے تھے

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال: مرَّ علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نُعالج خُصًّا لنا، فقال: «ما هذا؟» فقلنا: قد وَهَى، فنحن نُصلحه، فقال: «ما أرى الأمر إلا أَعْجَل من ذلك».
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمارے پاس سے گزرے جبکہ ہم اپنی جھونپڑی کی مرمت کررہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'یہ کیا ہے؟' ہم نے کہا کہ یہ (گھر) کمزور ہو گیا تھا، ہم اس کو ٹھیک کر رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو معاملے (موت) کو اس سے بھی زیادہ قریب دیکھ رہا ہوں۔“
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ: پیغمبر ﷺ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرےجبکہ وہ اپنے گھر کا وہ حصہ ٹھیک کررہے تھے جو خراب ہوگیا تھا یا وہ اسے مضبوط کررہےتھے۔ ابو داؤد کی ایک روایت میں ”وأنا أطين حائطا لي“ کے الفاظ ہیں یعنی میں گھر کی ایک دیوار لیپ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں معاملہ اس سے بھی جلدی دیکھ رہا ہوں۔ یعنی تم اپنی موت کے آنے سےپہلے گھر کے گرنے کے خوف سے اس کے مرمت میں مصروف ہو۔لیکن موت اس سے بھی زیادہ قریب ہے، ہوسکتا ہے گھر کے گرنے سے پہلے ہی تمہاری موت آجائے۔ اس لئے تمہارا اپنے عمل کی اصلاح کرنا اپنے گھر کو درست کرنےسے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ گھر کی تعمیر کا کام ضروری نہیں تھا، بلکہ وہ گھر کو اور مضبوط کرنے کی امید یا اس کی زینت کی خاطر تھا۔ اس لئے آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ اُخروی امور میں مصروف ہونا ایسے کام میں مصروف ہونے سے بہتر ہے جو آخرت میں نفع بخش نہیں ہے۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، أ.د. حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار، دار كنوز اشبيليا، الطبعة الأولى : 1430 هـ. بهجة الناظرين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي. نزهة المتقين، د. مصطفى سعيد الخن، د. مصطفى البغا، محي الدين مستو، علي الشرجبي، محمد أمين لطفي، الرسالة، بيروت الطبعة الأولى : 1397 هـ 1977 م الطبعة الرابعة عشرة 1407 هـ 1987م. تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي المؤلف: أبو العلا محمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم المباركفوري، الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت. رياض الصالحين، د. ماهر بن ياسين الفحل الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م. صحيح مسلم، المؤلف: مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت. سنن ابن ماجه، المؤلف: ابن ماجه أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي. سنن أبي داود، المؤلف: أبو داود سليمان بن الأشعث الأزدي السِّجِسْتاني، المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت. سنن الترمذي، المؤلف: محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر (جـ 1، 2) ومحمد فؤاد عبد الباقي (جـ 3) وإبراهيم عطوة عوض المدرس في الأزهر الشريف (جـ 4، 5)، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر، الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م. شرح الطيبي على مشكاة المصابيح المسمى بـ (الكاشف عن حقائق السنن)، المؤلف: شرف الدين الحسين بن عبد الله الطيبي، المحقق: د. عبد الحميد هنداوي الناشر: مكتبة نزار مصطفى الباز (مكة المكرمة - الرياض)، الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1997 م. التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِيرِ، المؤلف: محمد بن إسماعيل الكحلاني ثم الصنعاني، المحقق: د. محمَّد إسحاق محمَّد إبراهيم، الناشر: مكتبة دار السلام، الرياض، الطبعة: الأولى، 1432 هـ - 2011 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے۔“

عَنْ أَبِي العَبَّاسِ سَهْلِ بْنِ سَعِدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ أَحَبَّنِي اللَّهُ وَأَحَبَّنِي النَّاسُ، فَقَالَ: «ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبُّكَ اللَّهُ، وَازْهَدْ فِيمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبُّكَ النَّاسُ».
ابو العباس سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جسے میں کرلوں تو اللہ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے۔“
اسے ابن ماجہ وغیرہ نے حسن اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے۔درجہنووی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
تشریح

ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے عرض کیا کہ آپ اسے کوئی ایسا عمل بتلا دیں جسے وہ کرنے لگے تو اللہ کی محبت حاصل ہو جائے اور لوگوں کی محبت ملنے لگے۔ لہذا اللہ کے رسول ﷺ نے اس سے فرمایا: اللہ کی محبت اس وقت حاصل ہوگی، جب تم دنیا کی زائد اور ایسی چیزوں کو چھوڑ دو، جو آخرت میں نفع بخش نہ ہوں اور جن سے دین کا نقصان ہو سکتا ہو۔ جب کہ لوگوں کی محبت اس وقت حاصل ہوگی، جب تم ان کے پاس موجود دنیا کی لالچ نہ کرو۔ کیوں کہ اپنے پاس موجود دنیا سے محبت فطری طور پر ہر انسان کو ہے۔ لہذا اس معاملے میں مزاحمت کرنے والے سے اسے نفرت ہوگی اور اس پر توجہ نہ دینے سے محبت ہوگی۔

فوائد
  1. زہد کی فضیلت۔ زہد یہ ہے کہ انسان ان تمام چيزوں سے صرف نظر کرے، جو آخرت میں سود مند نہ ہوں۔
  2. زہد کا مقام ومرتبہ ورع سے اعلى ہے، کیوں کہ ورع یہ ہے کہ نقصان دہ چیز کو ترک کردیا جائے اور زہد یہ ہے کہ اخروی اعتبار سے جو چیز فائدہ مند نہ ہو اسے بھی ترک کردیا جائے۔
  3. سندھی کہتے ہيں: دنیا لوگوں کو محبوب ہے۔ اس لیے جو شخص اس میں ان سے جس قدر مزاحمت کرتا ہے وہ اسی قدر ان کے نزدیک ناپسندیدہ ہوتا ہے۔ جو لوگوں کو بنا کسی مزاحمت کے ان کے محبوب کے ساتھ مشغول چھوڑ دیتا ہے، وہ اپنی کنارہ کشی کے بہ قدر ان کے یہاں محبوب ہوتا ہے۔
حوالہ

الأربعون النووية (ص118) (ح31). سنن ابن ماجه (5/ 225) (4102). التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية (ص73). فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين (ص111). الفوائد المستنبطة من الأربعين النووية، للشيخ عبد الرحمن البراك (ص87). الأحاديث الأربعون النووية وعليها الشرح الموجز المفيد، لعبد الله بن صالح المحسن (1/61).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اس میں سے یعنی بکری سے کیا باقی بچا ہے؟ (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے عرض کیا کہ بجز شانہ کے اور کچھ باقی نہیں رہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بجز شانہ کے اور سب باقی ہے۔

عن عائشة رضي الله عنها : أنهم ذبحوا شاة فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «ما بقي منها؟» قالت: ما بقي منها إلا كتفها. قال: «بقي كلها غير كتفها».
اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دفعہ صحابہ نے بکری ذبح کی۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ اس میں سے یعنی بکری سے کیا باقی بچا ہے؟ (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے عرض کیا کہ بجز شانہ کے اور کچھ باقی نہیں رہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بجز شانہ کے اور سب باقی ہے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے بکری ذبح کی پھر انہوں نے اس کو صدقہ میں دے دیا سوائے اس کے شانے کے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بکری کا ثواب اور اجر اللہ کے پاس ہے جسے ہم آخرت میں پائیں گے کیونکہ آپ ﷺ نے اسے صدقہ کر دیا تھا اور بکری کا وہ حصہ جسے صدقہ میں نہیں دیا گیا وہ درحقیقت باقی ہی نہیں بچا۔

حوالہ

سنن الترمذي -المؤلف: محمد بن عيسى بن سَوْرة بن موسى بن الضحاك، الترمذي، أبو عيسى (المتوفى: 279هـ) تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر (جـ 1، 2) ومحمد فؤاد عبد الباقي (جـ 3) وإبراهيم عطوة عوض المدرس في الأزهر الشريف (جـ 4، 5) الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر. السلسلة الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها, تأليف: أبو عبدالرحمن محمد ناصر الدين الألباني, الناشر: مكتبة المعارف, ط1 عام 1415. رياض الصالحين- المؤلف: أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي -تعليق وتحقيق: الدكتور ماهر ياسين الفحل رئيس -الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت -الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
14 میں سے 8
14 احادیث
  1. مسکین وہ نہیں، جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے ہی واپس لوٹا دیتے ہیں، بلکہ مسکین تو وہ ہے، جو سوال نہیں کرتا۔
  2. دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کےلیےجنت ہے۔
  3. اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو میں یہ چاہوں گا کہ میرے اوپر تین راتیں اس حال میں نہ گزریں کہ میرے پاس اس (سونے) میں سے کوئی شے بچی پڑی ہو۔ سوا اس کے، جسے میں کسی قرض دینے کے لیے رکھ چھوڑوں۔
  4. یہ (فقیر) شخص اس (پہلے) شخص جیسے دنیا بھر کے لوگوں سے بہتر ہے۔
  5. کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کوئی چیز نہیں مانگے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟۔
  6. اللہ کے رسول ﷺ ہمارے پاس سے گزرے جبکہ ہم اپنی جھونپڑی کی مرمت کر رہے تھے
  7. ”دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے۔“
  8. اس میں سے یعنی بکری سے کیا باقی بچا ہے؟ (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے عرض کیا کہ بجز شانہ کے اور کچھ باقی نہیں رہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بجز شانہ کے اور سب باقی ہے۔
  9. تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنی جان کی طرف سے بے خوف ہو، جسمانی اعتبار سے صحت مند ہو، ایک دن کی خوراک کا سامان اس کے پاس ہو، تو گویا اس کے لیے ساری دنیا جمع کردی گئی۔
  10. ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو انہیں کچھ خراج دیا کرتا تھا اور آپ اس کا خراج کھانے کے کام میں لاتے تھے۔
  11. {ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} (پھر تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤگے۔) [سورہ تکاثر : 8] نازل ہوئی
  12. آلِ محمد ﷺ نے ایک دن میں دو کھانے نہیں کھائے، اِلّا یہ کہ ان میں سے ایک کھجوریں ہوتیں۔
  13. محمد ﷺ کے اہل خانہ ، جب سے وہ مدینہ آئے، مسلسل تین راتیں گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ کی روح قبض کرلی گئی۔
  14. رسول اللہ ﷺ نے اپنی موت کے وقت نہ کوئی درہم ودینار چھوڑا‘ نہ کوئی غلام‘ نہ کوئی لونڈی اور نہ کوئی اور چیز۔ البتہ اپنا سفید خچر، اپنے ہتھیار اور ایک زمین چھوڑی جسے آپ نے صدقہ کر دیا تھا۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com