ابو العباس سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جسے میں کرلوں تو اللہ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، اللہ تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں گے۔“
اسے ابن ماجہ وغیرہ نے حسن اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے۔درجہنووی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
تشریح
ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے عرض کیا کہ آپ اسے کوئی ایسا عمل بتلا دیں جسے وہ کرنے لگے تو اللہ کی محبت حاصل ہو جائے اور لوگوں کی محبت ملنے لگے۔ لہذا اللہ کے رسول ﷺ نے اس سے فرمایا: اللہ کی محبت اس وقت حاصل ہوگی، جب تم دنیا کی زائد اور ایسی چیزوں کو چھوڑ دو، جو آخرت میں نفع بخش نہ ہوں اور جن سے دین کا نقصان ہو سکتا ہو۔ جب کہ لوگوں کی محبت اس وقت حاصل ہوگی، جب تم ان کے پاس موجود دنیا کی لالچ نہ کرو۔ کیوں کہ اپنے پاس موجود دنیا سے محبت فطری طور پر ہر انسان کو ہے۔ لہذا اس معاملے میں مزاحمت کرنے والے سے اسے نفرت ہوگی اور اس پر توجہ نہ دینے سے محبت ہوگی۔
فوائد
زہد کی فضیلت۔ زہد یہ ہے کہ انسان ان تمام چيزوں سے صرف نظر کرے، جو آخرت میں سود مند نہ ہوں۔
زہد کا مقام ومرتبہ ورع سے اعلى ہے، کیوں کہ ورع یہ ہے کہ نقصان دہ چیز کو ترک کردیا جائے اور زہد یہ ہے کہ اخروی اعتبار سے جو چیز فائدہ مند نہ ہو اسے بھی ترک کردیا جائے۔
سندھی کہتے ہيں: دنیا لوگوں کو محبوب ہے۔ اس لیے جو شخص اس میں ان سے جس قدر مزاحمت کرتا ہے وہ اسی قدر ان کے نزدیک ناپسندیدہ ہوتا ہے۔ جو لوگوں کو بنا کسی مزاحمت کے ان کے محبوب کے ساتھ مشغول چھوڑ دیتا ہے، وہ اپنی کنارہ کشی کے بہ قدر ان کے یہاں محبوب ہوتا ہے۔
حوالہ
الأربعون النووية (ص118) (ح31).
سنن ابن ماجه (5/ 225) (4102).
التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية (ص73).
فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين (ص111).
الفوائد المستنبطة من الأربعين النووية، للشيخ عبد الرحمن البراك (ص87).
الأحاديث الأربعون النووية وعليها الشرح الموجز المفيد، لعبد الله بن صالح المحسن (1/61).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com