اس میں سے یعنی بکری سے کیا باقی بچا ہے؟ (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے عرض کیا کہ بجز شانہ کے اور کچھ باقی نہیں رہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بجز شانہ کے اور سب باقی ہے۔
عن عائشة رضي الله عنها : أنهم ذبحوا شاة فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «ما بقي منها؟» قالت: ما بقي منها إلا كتفها. قال: «بقي كلها غير كتفها».
اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دفعہ صحابہ نے بکری ذبح کی۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ اس میں سے یعنی بکری سے کیا باقی بچا ہے؟ (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے عرض کیا کہ بجز شانہ کے اور کچھ باقی نہیں رہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بجز شانہ کے اور سب باقی ہے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے بکری ذبح کی پھر انہوں نے اس کو صدقہ میں دے دیا سوائے اس کے شانے کے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بکری کا ثواب اور اجر اللہ کے پاس ہے جسے ہم آخرت میں پائیں گے کیونکہ آپ ﷺ نے اسے صدقہ کر دیا تھا اور بکری کا وہ حصہ جسے صدقہ میں نہیں دیا گیا وہ درحقیقت باقی ہی نہیں بچا۔
حوالہ
سنن الترمذي -المؤلف: محمد بن عيسى بن سَوْرة بن موسى بن الضحاك، الترمذي، أبو عيسى (المتوفى: 279هـ) تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر (جـ 1، 2)
ومحمد فؤاد عبد الباقي (جـ 3) وإبراهيم عطوة عوض المدرس في الأزهر الشريف (جـ 4، 5) الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر.
السلسلة الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها, تأليف: أبو عبدالرحمن محمد ناصر الدين الألباني, الناشر: مكتبة المعارف, ط1 عام 1415.
رياض الصالحين- المؤلف: أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي -تعليق وتحقيق: الدكتور ماهر ياسين الفحل رئيس -الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت -الطبعة: الأولى، 1428 هـ - 2007 م.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com