سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

آلِ محمد ﷺ نے ایک دن میں دو کھانے نہیں کھائے، اِلّا یہ کہ ان میں سے ایک کھجوریں ہوتیں۔

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا أَكَلَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْلَتَيْنِ فِي يَوْمٍ إِلَّا إِحْدَاهُمَا تَمْرٌ.
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: آلِ محمد ﷺ نے ایک دن میں دو کھانے نہیں کھائے، اِلّا یہ کہ ان میں سے ایک کھجوریں ہوتیں۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کے اہل بیت نے ایک دن میں دو وقت کھانا نہیں کھایا، الا یہ کہ ان میں سے ایک کھانا کھجوریں ہوتیں۔

فوائد
  1. نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے اہل بیت کا تواضع یہ تھا کہ بسا اوقات انہیں دن میں صرف ایک وقت کا کھانا ہی میسر ہوتا۔
  2. ان کے ہاں کھجور دیگر چیزوں کی بنسبت زیادہ میسر تھی۔
  3. زہد وورع اور تھوڑی سی روزی پر گزر بسر کرنے کی فضیلت، نیز یہ کہ یہ نبیوں کے اخلاق اور سید المرسلین کی سیرت کا حصہ ہے۔
  4. دن میں دو مرتبہ کھانا کھانا مباح اور جائز امور میں سے ہے، اور یہ عربوں کی ایک معروف عادت ہے۔ وہ دن میں دو کھانے کھاتے تھے، دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 97) (6455). صحيح مسلم (4/ 2282) (2971). فتح الباري لابن حجر (11/ 292).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
زہد اور تقوی

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com