ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو انہیں کچھ خراج دیا کرتا تھا اور آپ اس کا خراج کھانے کے کام میں لاتے تھے۔
عن عائشةَ رضي الله عنها ، قالت: كانَ لأبي بكرٍ الصديق رضي الله عنه غُلامٌ يُخرِجُ له الخَرَاجَ، وكانَ أبو بكرٍ يأكلُ من خراجِهِ، فجاءَ يوماً بشيءٍ، فأكلَ منه أبو بكرٍ، فقالَ له الغلامُ: تَدرِي ما هذا؟ فقالَ أبو بكرٍ: وما هُو؟ قالَ: كُنتُ تَكَهَّنْتُ لإنسانٍ في الجاهليةِ وما أحسِنُ الكهانَةَ، إلا أني خدعتُهُ، فلَقِيَني، فأعطَانِي لِذلك، هذا الذي أَكَلْتَ منه، فأدخلَ أبو بكرٍ يدَهُ فقاءَ كلَّ شيءٍ في بطنِهِ.
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو انہیں کچھ خراج دیا کرتا تھا اور آپ اس کا خراج کھانے کے کام میں لاتے تھے۔ ایک دن وہ کوئی چیز لایا تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے کھا لیا۔ ان سے غلام نے کہا: آپ کو معلوم ہے یہ کیا چیز تھی؟ آپ نے فرمایا کیا تھی؟ اس نے کہا میں نے زمانہ جاہلیت میں آئندہ ہونے والی بات (کہانت) ایک آدمی کو بتادی تھی حالانکہ میں کہانت سے کوئی شد بد نہیں رکھتا تھا بلکہ میں نے اسے یونہی دھوکہ دیا تھا۔ تو (آج) وہ مجھ سے ملا اور (یہ چیز) اس نے مجھے اسی کے عوض دی ہے اور اسی کو آپ نے کھایا ہے۔اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی انگلی منہ میں ڈال کر پیٹ کی ہر چیز کو قے کر کے نکال دیا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ابوبکر رضی اللہ نے اپنے اس غلام کے ساتھ یہ طے کیا کہ وہ آپ کو روزانہ کچھ خوراک دیا کرے گا۔ ایک دن یہ غلام ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے کچھ کھانا لے کر آیا جسے آپ نے کھا لیا۔ وہ غلام کہنے لگا: کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیسا کھانا تھا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ کیسا کھانا تھا؟۔ اس نے جواب دیا کہ یہ اس کہانت کی اجرت ہے جو میں نے زمانہ جاہلیت میں کی تھی حالانکہ مجھے کہانت اچھی طرح نہیں آتی تھی اور میں نے اس آدمی کو دھوکہ دیا تھا۔ وہ مجھے آج ملا تو اس نے مجھے یہ کھانا دیا۔ کہانت کا عوض حرام ہے چاہے کاہن کو فن کہانت اچھی طرح آتا ہو یا نہ آتا ہو کیونکہ نبی ﷺ نے کہانت کی اجرت سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)
جب اس نے یہ بات ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہی تو آپ نے اپنے ہاتھ کو منہ میں ڈال کر اپنے پیٹ میں موجود وہ سب کچھ نکال دیا جو آپ نے کھایا تھا تاکہ آپ کے پیٹ میں حرام غذا نہ جائے۔ یہ حرام مال تھا کیونکہ یہ حرام شے کا عوض تھا۔ حرام فعل کی اجرت لینا بھی حرام ہوتا ہے۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير - دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ.
شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن - الرياض، 1426هـ.
صحيح البخاري، للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
عمدة القاري شرح صحيح البخاري، تأليف بدر الدين العيني، تحقيق عبدالله محمود، دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الأولى، 1421هـ.
كشف المشكل من حديث الصحيحين، لأبي الفرج ابن الجوزي، تحقيق د. علي البواب، دار الوطن - الرياض.
كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا - الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة - بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com