سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نماز میں آپ ﷺ کا طریقہ

11 احادیث

میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے دس رکعتیں محفوظ کی ہیں

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: حَفِظْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ: رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ المَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ العِشَاءِ فِي بَيْتِهِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ، وَكَانَتْ سَاعَةً لاَ يُدْخَلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَذَّنَ المُؤَذِّنُ وَطَلَعَ الفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَفِي لَفْظٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے دس رکعتیں محفوظ کی ہیں۔ دو رکعت ظہر سے پہلے، دو رکعت اس کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد گھر میں، دو رکعت عشا کے بعد گھر میں اور دو رکعت صبح کی نماز سے پہلے۔ دراصل یہ ایسا وقت تھا، جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے یہاں کوئی جاتا نہيں تھا۔ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ جب مؤذن اذان دیتا اور فجر طلوع ہو جاتا، تو آپ دو رکعت پڑھتے۔ جب کہ ایک روایت کے الفاظ ہيں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جمعہ کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔
متفق عليه بجميع رواياتهدرجہصحيح
تشریح

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے نوافل کی دس رکعتیں محفوظ کی ہیں، جنھیں سنن رواتب کہا جاتا ہے۔ دو رکعت ظہر سے پہلے اور دو رکعت ظہر کے بعد۔ دو رکعت مغرب کے بعد گھر میں۔ دو رکعت عشا کے بعد گھر میں۔ دو رکعت فجر سے پہلے۔ اس طرح کل دس رکعتیں ہوئیں۔ رہی بات جمعے کی نماز کی، تو اس کے بعد آپ دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔

فوائد
  1. ان سنن رواتب کا مستحب ہونا اور ان کی پابندی کرنا۔
  2. سنت نماز گھر میں پڑھنے کی مشروعیت۔
حوالہ

صحيح البخاري (2/ 58-59) (1180، 1181). صحيح مسلم (2/ 601) (882). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص112).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ سفر میں تھے۔ آپ ﷺ نے نمازِ عشاء ادا کی تو ایک رکعت میں ’وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ‘ پڑھی۔ میں نے آپ ﷺ سے زیادہ اچھی آواز والا یا آپ ﷺ سے اچھا پڑھنے والا کبھی نہیں سنا۔

عن الْبَرَاء بْن عَازِبٍ رضي الله عنهما «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان في سفر، فصلى العشاء الآخِرَةَ، فقرأ في إحدى الركعتين بِالتِّينِ وَالزَّيْتُون فما سمعت أحدًا أحسن صوتًا أو قراءة منه».
براء بن عازب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سفر میں تھے۔ آپ ﷺ نے نمازِ عشاء ادا کی تو ایک رکعت میں ’وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ‘ پڑھی۔ میں نے آپ ﷺ سے زیادہ اچھی آواز والا یا آپ ﷺ سے اچھا پڑھنے والا کبھی نہیں سنا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے نمازِ عشاء کی پہلی رکعت میں سورہ ’’تین‘‘ اور سورہ ’’زیتون‘‘ کی تلاوت فرمائی کیوں کہ آپ ﷺ سفر میں تھے اور سفر کی مشقت و کلفت کے پیش نظر اس میں تخفیف اور سہولت کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ نبی ﷺ سفر میں تھے لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے اس بات کو نہیں چھوڑا جو خشوع و خضوع پیدا کرتی ہے اور جس کی وجہ سےقرآن کی سماعت کرتے ہوئے دل یکسو ہوتا ہے اور یہ نماز میں خوبصورت آواز سےتلاوت سے عبارت ہے۔

حوالہ

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى، 1426هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى، 1381هـ. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ کے نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر کشادہ کرتے کہ آپ ﷺ کی دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ.
عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر کشادہ کرتے کہ آپ ﷺ کی دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب سجدہ کرتے تو سجدے کے دوران دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے اس قدر الگ رکھتے کہ دونوں بغلوں کی چمڑی کی سفیدی نظر آتی۔ یہ دراصل دونوں بازو‎ؤں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنے میں مبالغہ ہے۔

فوائد
  1. سجدے کی حالت میں دونوں بازوؤں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنا مستحب ہے۔
  2. جب مقتدی کے دونوں بازوؤں کو زیادہ کھولنے کی وجہ سے اس کے بغل والے انسان کو تکلیف ہونے لگے، تو یہ اس کے حق میں مشروع نہيں ہوگا۔
  3. سجدے کی حالت میں بازوؤں کو پہلوؤں سے الگ رکھنے کے پیچھے بہت سی حکمتیں اور اس کے بہت سے فائدے ہیں۔ جیسے نماز میں رغبت اور چستی دکھانا اور یہ کہ جب انسان سجدے کے تمام اعضا کو زمین پر رکھ دیتا ہے، تو ہر عضو عبادت میں محو ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس کی حکمت یہ بتاتے ہیں کہ یہ کیفیت تواضع سے زیادہ مشابہ اور چہرے اور ناک کو اچھے سے زمین پر رکھنے میں زیادہ معاون ہے۔ اس سے ہر عضو الگ الگ بھی نظر آتا ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 87) (390). صحيح مسلم (1/ 356) (495). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص162). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (2/ 207). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 134).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جس طرح رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے میں بالکل اسی طرح تمھیں نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا۔

عن أنس رضي الله عنه أنه قال: «إني لا آلُو أن أُصَلِّيَ بكم كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بنا، قال ثابت فكان أَنَس يصنع شيئا لا أراكم تصنعونه: كان إذا رفع رأسه من الركوع انْتَصَبَ قائما، حتى يقول القائل: قد نَسِيَ، وإذا رفع رأسه من السَّجْدَةِ مكث، حتى يقول القائل: قد نَسِيَ».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جس طرح رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے میں بالکل اسی طرح تمھیں نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا۔ ثابت نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ ایک ایسا عمل کرتے تھے جسے میں تمہیں کرتے نہیں دیکھتا۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں اور اسی طرح جب وہ سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے (تو دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک) ٹھرتے تھے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ وہ بھول گئے ہیں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

انس رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ تمہیں ویسے ہی نماز پڑھاؤں جیسے رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے تاکہ تم اس کی پیروی کرسکو اور اسی جیسی نماز پڑھو۔ ثابت بنانی کہتے ہیں کہ: انس رضی اللہ عنہ نماز کی خوبصورتی اور اتمام میں ایک ایسا عمل کرتے تھے جسے میں تمہیں کرتے نہیں دیکھتا، جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو دیر تک کھڑے رہتے تھے اور سجدوں کے بعد دیر تک بیٹھے رہتے۔ چنانچہ جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ آپ کے طولِ قیام کی وجہ سے کہنےوالا کہتا کہ آپ بھول گئے ہیں کہ آپ رکوع اور سجود کے درمیان کے قیام میں ہیں، اور اسی طرح جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو (دونوں سجدوں کے درمیان) اتنی دیر تک بیٹھے رہتے کہ آپ کے طولِ جلوس کی وجہ سے کہنے والا کہتا کہ بھول گئے ہیں۔

حوالہ

تيسير العلام، للبسام، الناشر: مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة العاشرة، 1426هـ - 2006م. تنبيه الأفهام، للعثيمين، طبعة مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة الأولى، 1426ه. الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، طبعة دار الفكر، دمشق، الأولى، 1381ه. صحيح البخاري، لأبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، القاهرة، مصر، الطبعة الأولى.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ سوار اور پیادہ (مسجدِ) قباء تشریف لاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے۔

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يزورُ قُبَاءَ راكبًا وماشيًا، فيُصَلِّي فيه ركعتين. وفي رواية: كان النبي صلى الله عليه وسلم يأتي مسجد قُبَاءَ كل سَبْتٍ راكبًا وماشيًا، وكان ابن عُمر يفعله.
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سوار اور پیادہ (مسجدِ) قباء تشریف لاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی ﷺ مسجد قباء میں ہر ہفتے کے دن سوار اور پیادہ تشریف لاتے۔ اور ابن عمر بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔درجہصحیح
تشریح

قباء کا علاقہ جس میں اسلام کی سب سے پہلی مسجد تعمیر کی گئی مدینہ کے بالائی حصے کے قریب واقع ایک چھوٹی سی بستی ہے۔ نبی ﷺ سوار اور پیادہ اس کی زیارت کے لیے تشریف لاتے۔ راوی کا یہ کہنا کہ "ہر ہفتے کے دن" تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے بعض ایام کو زیارت کے لیے مخصوص کر رکھا تھا۔ نبی ﷺ کی ہر ہفتے کے دن قباء آنے میں حکمت یہ تھی کہ آپ ﷺ کا انصاری لوگوں سے تعلق قائم رہے اور آپ ﷺ ان کا اور ان لوگوں کا حال جان سکیں جو آپ ﷺ کے ساتھ نمازجمعہ میں حاضر ہونے سے رہ جاتے تھے۔ اور بطور خاص ہفتے کے دن آنے میں یہی راز پنہاں تھا۔

حوالہ

رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. شرح رياض الصالحين، للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. فتح الباري شرح صحيح البخاري، للحافظ ابن حجر العسقلاني، قام بإخراجه وصححه وأشرف على طبعه: محب الدين الخطيب، رقم كتبه وأبوابه وأحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي، عليه تعليقات العلامة: عبد العزيز بن عبد الله بن باز، دار المعرفة، بيروت، 1379هـ. المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي، ط2، دار إحياء التراث العربي - بيروت، 1392هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ایک رات میں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز (تہجد) پڑھی۔ آپ نے سورۂ بقرۃ پڑھنی شروع کی۔

عن حذيفة بن اليمان رضي الله عنهما قال: صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فَافْتَتَحَ البقرة، فقلت: يركع عند المئة، ثم مضى، فقلت: يصلي بها في ركعة فمضى، فقلت: يركع بها، ثم افتتح النساء فقرأها، ثم افتتح آل عمران فقرأها، يقرأ مُتَرَسِّلًا: إذا مَر بآية فيها تَسبِيحٌ سَبَّحَ، وإذا مَر بسؤال سَأل، وإذا مَر بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثم ركع، فجعل يقول: «سبحان ربي العظيم» فكان ركوعه نحوًا من قِيَامِهِ، ثم قال: «سمع الله لمن حمده، ربنا لك الحمد» ثم قام طويلًا قريبا مما ركع، ثم سجد، فقال: «سبحان ربي الأعلى» فكان سجوده قريبًا من قيامه.
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک رات میں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز(تہجد) پڑھی۔ آپ نے سورۂ بقرۃ پڑھنی شروع کی۔ میں نے دل میں کہا کہ آپ ﷺ سو آیات پڑھ کر رکوع میں چلے جائیں گے، لیکن آپ پڑھتے رہے ۔ پھر میں نے دل میں کہا کہ آپ ﷺ اسے ایک رکعت میں ختم کریں گے ۔ مگر آپ ﷺ پڑھتے رہے ۔ میں نے سوچا کہ آپ ﷺ اسے پڑھ کررکوع کریں گے ۔ لیکن آپ ﷺ نے سورۃ النساء شروع کردی اور اسے پورا پڑھ ڈالا۔ پھر آپ ﷺ نے آل عمران شروع کی اور اسے بھی پورا پڑھ ڈالا۔ آپ ﷺ ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کررہے تھے۔ جب آپ ﷺ کا گزر کسی ایسی آیت پر ہوتا، جس میں تسبیح (اللہ کی پاکی) کا بیان ہوتا، تو آپ ﷺ تسبیح کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے، جس میں (اللہ سے ) مانگنے کا ذکر ہوتا، تو مانگتےاور اگر کسی ایسی آیت سے گزرتے، جس میں پناہ مانگنے کا ذکر ہوتا، تو پناہ مانگتے۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا اور ”سُبْحَانَ رَبِّي الْعَظِيم“ پڑھنے لگے۔ آپ ﷺ کا رکوع آپ ﷺ کے قیام کے بقدر تھا۔ پھر آپ نے «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ“ کہا اور طویل وقت تک قیام کیا، جو رکوع کے لگ بھگ تھا۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور”سُبْحَانَ رَبِّي الْأَعْلَى“ پڑھنے لگے۔ آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے بقدر تھا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ قیام اللیل پڑھنے کےلیے کھڑے ہوئے۔ نبی ﷺ نے نماز لمبی کر دی۔ ایک رکعت میں سورۃ البقرۃ پھر سورۃ النساء پھر سورۃ آل عمران پڑھی۔ آپ ﷺ اپنی قراءت کے درمیان جب کسی ایسی آیت سے گزرتے، جس میں (اللہ سے ) مانگنے کا ذکر ہوتا، تو مانگتے اور جب آپ ﷺ کا گزر کسی ایسی آیت سے ہوتا، جس میں تسبیح (اللہ کی پاکی) کا بیان ہوتا، تو تسبیح کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے، جس میں پناہ مانگنے کا ذکر ہوتا، تو پناہ مانگتے ۔ آپ ﷺ کی نماز لمبائی میں بالکل ترتیب وار تھی؛ رکوع کا طول قیام کے قریب اور سجدے کا طولرکوع کے قریب۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، أ.د. حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار، دار كنوز اشبيليا، الطبعة الأولى. بهجة الناظرين، الشيخ: سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي. نزهة المتقين، د. مصطفى سعيد الخن - د. مصطفى البغا - محي الدين مستو - علي الشرجبي - محمد أمين لطفي - مؤسسة الرسالة، بيروت - الطبعة الأولى، 1397هـ - 1977م. شرح رياض الصالحين، الشيخ: محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن للنشر، طبع عام 1426هـ. دليل الفالحين - محمد بن علان - دار الكتاب العربي. رياض الصالحين، النووي، تحقيق د. ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق، بيروت، الطبعة الأولى، 1428هـ - 2007م. صحيح مسلم، المؤلف: مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہوگیا۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ غلط خیال کیا تھا؟۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اورآپ ﷺ کا ساتھ چھوڑدوں۔

عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ليلة، فأطال القيام حتى هَمَمْتُ بأمْرِ سُوءٍ! قيل: وما هَمَمْتَ به؟ قال: هَمَمْتُ أن أجلس وأَدَعَه.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہوگیا۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ غلط خیال کیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اورآپ ﷺ کا ساتھ چھوڑدوں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے ساتھ ایک رات تہجد کی نماز پڑھی۔ آپ ﷺ نے بڑا لمبا قیام کیا۔ در اصل آپ ﷺ کی عادت مبارکہ یہی تھی۔ البتہ آپ ﷺ کا لمبا قیام ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر گراں گزرا، یہاں تک کہ انہوں نے ایک ایسا کام کرنے کا ارادہ کر لیا، جو ناگوار تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے کس بات کا ارادہ کیا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپ ﷺ کو قیام کی حالت میں چھوڑ دوں۔ انہیں لاحق ہونے والی مشقت کی وجہ سے انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، أ.د.حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار، دار كنوز اشبيليا، الطبعة الأولى. بهجة الناظرين، الشيخ: سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي. نزهة المتقين، د.مصطفى سعيد الخن - د.مصطفى البغا - محي الدين مستو - علي الشرجبي - محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى: 1397 هـ - 1977م، الطبعة الرابعة عشرة 1407هـ - 1987م. شرح رياض الصالحين، الشيخ: محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن للنشر، طبع عام 1426هـ. رياض الصالحين، د.ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة الأولى، 1428هـ - 2007م. صحيح البخاري، محمد بن اسماعيل البخاري، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، المؤلف: مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت. إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، المؤلف: أحمد بن محمد بن أبى بكر بن عبد الملك القسطلاني، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، الطبعة السابعة، 1323هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ رات کے شروع حصے میں سو جاتے اور رات کے آخری حصہ میں بیدار ہوکرنماز پڑھتے۔

عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يَنَام أول اللَّيل، ويقوم آخره فَيُصلِّي.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کے شروع حصے میں سو جاتے اور رات کے آخری حصہ میں بیدار ہوکرنماز پڑھتے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشا کی نماز کے بعد رات کے ابتدائی حصے میں سوتے اور آخری حصے یعنی دوسری تہائی میں قیام کرتے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہوتے، تو اپنے بستر پر سونے کے لیے آجاتے؛ تاکہ قیام اللیل کی وجہ سے جسم کی تھکاوٹ سے بدن کو آرام مل جائے۔ یہ رات کا آخری چھٹا حصہ ہوتا۔ اس میں کار فرما مصالح میں سے ایک مصلحت یہ ہوتی کہ نماز فجر اور صبح کے اذکار کا استقبال پوری چستی اور توجہ کے ساتھ کیا جائے۔ یہ ریا و نمود کی آلائشوں سے دور رہنے کا بھی ذریعہ ہے؛ کیوں کہ جو رات کے آخری چھٹے حصے میں سو جائے گا، وہ پوری تازگی اور توانائی کے ساتھ صبح کرے گا۔ ایسے میں اس کی رات کی عبادت مخفی رہے، اس کے امکانات زیادہ رہتے ہیں۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ پہلی اذان کا مقصد سونے والے کو جگانا اور قیام کرنے والے کو لوٹانا ہے۔ یعنی قیام کرنے والا نیند کی طرف لوٹ جائے؛ تاکہ اس کا جسم قوت و نشاط حاصل کرلے۔ نیز سونے والا بیدار ہو کر نماز کی تیاری کر لے۔ نیز وتر پڑھ لے، اگر شروع رات میں نہیں پڑھا ہے۔

حوالہ

1- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1418هـ - 1997م. 2- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م. 3- صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة الأولى، 1422هـ. 4- صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب، الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. 5- مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، عبيد الله بن محمد عبد السلام المباركفوري، إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء، الجامعة السلفية، بنارس الهند، الطبعة الثالثة، 1404هـ. 6- شرح سنن أبي داود، عبد المحسن بن حمد بن عبد المحسن العباد، نسخة إلكترونية.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
11 میں سے 8
11 احادیث
  1. میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے دس رکعتیں محفوظ کی ہیں
  2. نبی ﷺ سفر میں تھے۔ آپ ﷺ نے نمازِ عشاء ادا کی تو ایک رکعت میں ’وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ‘ پڑھی۔ میں نے آپ ﷺ سے زیادہ اچھی آواز والا یا آپ ﷺ سے اچھا پڑھنے والا کبھی نہیں سنا۔
  3. اللہ کے نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر کشادہ کرتے کہ آپ ﷺ کی دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی۔
  4. جس طرح رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے میں بالکل اسی طرح تمھیں نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا۔
  5. نبی ﷺ سوار اور پیادہ (مسجدِ) قباء تشریف لاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے۔
  6. ایک رات میں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز (تہجد) پڑھی۔ آپ نے سورۂ بقرۃ پڑھنی شروع کی۔
  7. میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ ﷺ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہوگیا۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ وہ غلط خیال کیا تھا؟۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اورآپ ﷺ کا ساتھ چھوڑدوں۔
  8. رسول اللہ ﷺ رات کے شروع حصے میں سو جاتے اور رات کے آخری حصہ میں بیدار ہوکرنماز پڑھتے۔
  9. اگر کسی تکلیف یا کسی اور عذر کی بنا پر رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز رہ جاتی تو آپ ﷺ دن میں بارہ رکعات پڑھتے تھے۔
  10. نبی ﷺ جمعے کے دن فجر کی نماز میں الٓم سجدہ اور سورۂ دھر پڑھا کرتے تھے۔
  11. میں نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا۔ آپ ﷺ کی نماز بھی درمیانی ہوتی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com