سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اگر کسی تکلیف یا کسی اور عذر کی بنا پر رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز رہ جاتی تو آپ ﷺ دن میں بارہ رکعات پڑھتے تھے۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم إذا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ الليلِ مِن وَجَعٍ أَوْ غَيْرِهِ، صَلَّى من النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں:اگر کسی تکلیف یا کسی اور عذر کی بنا پر رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز رہ جاتی تو آپ ﷺ دن میں بارہ رکعات پڑھتے تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ اگر کسی تکلیف یا کسی اور وجہ سے نماز تہجد نہ پڑھ سکتے تو آپ ﷺ دن کو بارہ رکعت پڑھتے تھے؛ کیونکہ آپ ﷺ گیارہ رکعت وتر پڑھا کرتے تھے۔لھٰذا اگر رات گزر جاتی اور نیند وغیرہ کی وجہ سے آپ ﷺ وتر نہ پڑھ سکتے تو پھر آپ ﷺ اس نماز کی قضا کرتے تھے۔ لیکن چونکہ وتر کا وقت نکل چکا ہوتا اس لئے اسے (ایک رکعت کا اضافہ کرکے) جفت بنانا مشروع ہو جاتا۔

حوالہ

دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م. شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426ه. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه. المعجم الوسيط، نشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت – لبنان، الطبعة: الثانية. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نفل نماز

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com