سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

خطبات میں آپ ﷺ کا طریقہ

2 احادیث

ایک کھجور کا تنا تھا، جس پر نبی کریم ﷺ دوران خطبہ ٹیک لگا کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ کے لیے منبر رکھ دیا گیا اور( آپ نے اس تنے پر ٹیک لگانا چھوڑ دیا) تو ہم نے اس کے رونے کی ایسی آواز سنی، جیسے دس مہینے کی گابھن اونٹنی آواز کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے منبر سے اتر کر اپنا ہاتھ اس پر رکھا، تو اسے سکون ہوا۔

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: كان جِذْعٌ يقوم إليه النبي صلى الله عليه وسلم يعني في الخطبة - فلما وُضعَ المنبر سمعنا للجِذْعِ مثل صوت العِشَارِ، حتى نزل النبي صلى الله عليه وسلم فوضع يده عليه فَسَكَنَ. وفي رواية: فلما كان يوم الجمعة قعد النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر، فصاحت النخلة التي كان يخطب عندها حتى كادت أن تَنْشَقُّ، وفي رواية: فصاحت صِيَاحَ الصبي، فنزل النبي صلى الله عليه وسلم حتى أخذها فَضَمَّها إليه، فجعلت تَئِنُّ أَنِينَ الصبي الذي يُسَكَّتُ حتى اسْتَقَرَّتْ، قال: «بَكَتْ على ما كانت تسمع من الذِّكْرِ».
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک کھجور کا تنا تھا، جس پر نبی کریم ﷺ دوران خطبہ ٹیک لگا کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ کے لیے منبر رکھ دیا گیا اور( آپ نے اس تنے پر ٹیک لگانا چھوڑ دیا) تو ہم نے اس کے رونے کی ایسی آواز سنی، جیسے دس مہینے کی گابھن اونٹنی آواز کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے منبر سے اتر کر اپنا ہاتھ اس پر رکھا، تو اسے سکون ہوا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جب جمعے کا دن آیا، تو نبی ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ اس پر اس کھجور کے تنے نے ایک چیخ ماری، جس کے پاس کھڑے ہو کر آپ ﷺ خطبہ دیا کرتے تھے اور قریب تھا کہ وہ پھٹ ہی جاتا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس نے بچے کی طرح چلانا شروع کر دیا ۔ اس پر نبی ﷺ نیچے اترے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔ وہ اس بچے کی طرح سسکیاں بھرنا شروع ہو گیا، جسے چپ کرایا جا رہا ہو، یہاں تک کہ پرسکون ہوگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اس ذکر (سے محروم ہونے) کی وجہ سے رویا ہے، جسے یہ سنا کرتا تھا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے کھجور کے ایک تنے کو اپنا منبر بنا رکھا تھا۔ جب آپ ﷺ نے اسے بدل لیا، تو تنے سے رونا کی آواز سنائی دی، کیوںکہ اب وہ اس ذکر سے محروم ہو گیا تھا، جو وہ سنا کرتا تھا۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ منبر سے اتر کر اپنا ہاتھ اس پر رکھا، تو وہ پر سکون ہو گیا، ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نیچے اترے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔ یہ خطبہ جمعہ کے وقت کی بات ہے۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه. - صحيح البخاري، للإمام محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418هـ. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة،1407هـ. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان بن البكري- اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان- الطبعة: الرابعة، 1425 هـ - 2004 م. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا۔ آپ ﷺ کی نماز بھی درمیانی ہوتی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔

عن أبي عبد الله جابر بن سمرة رضي الله عنهما قال: كنت أصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم الصلوات، فكانت صلاته قَصْدًا وخطبته قَصْدًا.
ابو عبد اللہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا۔ آپ ﷺ کی نماز بھی درمیانی ہوتی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ کی نماز اور خطبہ بہت زیادہ لمبا ہونے اور انتہائی مختصر ہونے کے بیچ بیچ ہوتا تھا۔ یعنی اس میں توسط اور اعتدال پایا جاتا تھا۔ مسلمانوں کے لیے عمومی طور پر اور ائمہ و خطیب حضرات کے لیے خاص طور پر یہی اسوہ اور قابل اقتدا نمونہ ہے۔ اس حدیث کو دلیل بنا کر نماز میں کوے کی طرح ٹھونگیں مارنا اور خطبے دینے میں بہت زیادہ تیزی اپنانا صحیح نہیں ہے اس لیے کہ نبیﷺ کی سنت تو اعتدال اور کبھی کبھار تھوڑی طوالت پر دلالت کرتی ہے جس سے پریشانی نہ ہو۔

حوالہ

المسند الصحيح (صحيح مسلم), تأليف: مسلم بن حجاج النيسابوري, تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقي, دار إحياء التراث العربي. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين, تأليف: سليم بن عيد الهلالي, دار ابن الجوزي.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com