ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : کہا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مشرکوں پر بد دعا کردیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہيں بھیجا گیا ہے۔ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
نبی ﷺ سے مشرکوں کے حق میں بد دعا کرنے کے لیے کہا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ کی طرف سے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ میں لوگوں کو بد دعا دوں اور انہیں اللہ کی رحمت سے دھتکار کر خیر سے محروم کر دوں۔ مجھے اس مقصد کے لیے مبعوث نہیں کیا گیا، بلکہ مجھے تو تمام لوگوں کے لیے بالعموم، اور مومنوں کے لیے بالخصوص، خیر ورحمت کا سبب بنا کر بھیجا گیا ہے۔
فوائد
آپ ﷺ کا کمالِ اخلاق۔
نبی ﷺ کی اقتدا میں زبان کو گالی گلوچ اور لعن طعن سے پاک رکھنے کی اہمیت۔
لعنت کرنے کی ممانعت۔
لوگوں پر رحم کرنے کی ترغیب۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 2006) (2599).
المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (6/ 582).
البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (40/ 683).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com