انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا : قیامت کب آئے گی؟ آپ نے کہا : "تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟" اس نے کہا : تیاری تو ویسے کچھ نہيں کی ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہوں۔ اس پر آپ نے کہا : "تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔" انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : ہمیں کسی چيز سے اتنی خوشی نہيں ملی، جتنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس قول سے ملی کہ تمھیں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اس محبت کی وجہ سے مجھے ان کا ساتھ نصیب ہوگا، گرچہ میں ان کے جیسا عمل نہ بھی کر سکوں۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
ریگستان میں رہنے والے ایک دیہاتی نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی؟
آپ نے اس کا جواب دینے کے بجائے اسی سے پوچھ لیا کہ تم نے اس کی تیاری کے طور پر کون کون سے اچھے اعمال کیے ہیں؟
اس نے جواب دیا : میں نے اس کی تیاری کے طور پر کوئی بڑا کام تو نہيں کیا ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہوں۔ اس نے کسی دوسری قلبی، بدنی یا مالی عبادت کا ذکر نہيں کیا۔ کیوں کہ یہ ساری عبادتيں اسی محبت کی شاخیں ہیں اور اسی کے نتیجے میں سامنے آتی ہيں۔ دوسری بات یہ ہے کہ سچی محبت انسان کو اچھے اعمال کی ترغیب دیتی ہے۔
اس کا جواب سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے کہا : بے شک تجھے جنت میں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تجھے محبت ہے۔
اس خوش خبری سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کو بڑی خوشی ہوئی۔
پھر انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتے ہيں اور امید کرتے ہیں کہ ان کو ان حضرات کا ساتھ نصیب ہوگا، خواہ ان کا اپنا عمل ان حضرات کے جیسا نہ بھی رہے۔
فوائد
رسول اللہ ﷺکا سائل کو جواب دینے میں حکمت کو ملحوظ رکھنا کہ آپ نے اس کی رہ نمائی اس چيز کی طرف کر دی، جو اس کے لیے اہم اور نجات کا باعث ہو۔ یعنی نفع بخش چیز اور عمل صالح کے ذریعہ آخرت کی تیاری کرنا۔
الله نے قیامت کا علم بندوں سے چھپا رکھا ہے، تاکہ انسان الله سے ملنے کے لیے مستعد اور تیار رہے۔
اللہ، اس کے رسول اور صالح مومنین سے محبت رکھتے کی فضیلت اور مشرکوں سے محبت رکھنے سے خبردار کرنا۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا "تمھيں اس کا ساتھ نصیب ہوگا، جس سے تمھیں محبت ہے" کہنے کا مطلب درجہ اور منزلت میں برابری بتانا نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں جنت میں اس طرح رہیں گے کہ ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے، خواہ جگہ دور ہی کیوں نہ ہو۔
مسلمان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس چیز پر توجہ دے، جو اس کے حق میں زیادہ بہتر اور نفع بخش ہو۔ غیر نفع بخش باتوں کے بارے میں نہ پوچھے۔
حوالہ
صحيح البخاري (5/ 12) (3688).
صحيح مسلم (4/ 2032) (2639).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 435).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (6/ 177).
المعجم الأوسط، للطبراني (1/ 131).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 342).
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «أن رجلا زَارَ أخًا له في قرية أخرى، فأَرْصَدَ الله تعالى على مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا، فلما أتى عليه، قال: أين تريد؟ قال: أريد أخًا لي في هذه القرية، قال: هل لك عليه من نعمةٍ تَرُبُّهَا عليه؟ قال: لا، غيرَ أني أَحْبَبْتُهُ في الله تعالى ، قال: فإني رسولُ الله إليك بأنَّ الله قد أَحَبَّكَ كما أَحْبَبْتَهُ فيه».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک شخص اپنے بھائی کی زیارت کے لیے دوسری بستی گیا، تو اللہ نے اس کے راستے پر ایک فرشتے کو بیٹھا دیا، جب وہ شخص اس جگہ پہنچا، تو فرشتے نے پوچھا کہ کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اس بستی میں میرا ایک بھائی رہتا ہے، اُسی سے ملنے جا رہا ہوں۔ فرشتے نے پوچھا کہ کیا تمھارے اوپر اُس کا کوئی احسان ہے، جسے تم چکا نا چاہتے ہو؟ اُس نے کہا: نہیں، میں محض اللہ کے لیے اس سے محبت رکھتا ہوں۔ فرشتے نے کہا کہ میں تمھارے پاس اللہ کا پیغام لے کر آیا ہوں کہ اللہ بھی تم سے ویسے ہی محبت کرتا ہے، جیسے تم اللہ کی خاطر اس سے محبت کرتے ہو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ سابقہ امتوں میں سے ایک آدمی کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ وہ ایک دوسری بستی میں اپنے بھائی کی زیارت کے لیے گیا۔ اللہ تعالی نے اس کے راستے میں اس کی حفاظت اور نگرانی کے لیے ایک فرشتہ متعین کر دیا۔ اس فرشتے نے اس سے پوچھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے؟ اس نے اسے بتایاکہ وہ اللہ کی خاطر اس بستی میں رہنے والے اپنے ایک بھائی سےملنے جا رہا ہے۔فرشتے نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ تمھارا غلام ہے یا بیٹا ہے یا تمھارا کوئی اور تعلّق دار ہے، جس کا نفقہ اور جس کے ساتھ شفقت بھرا سلوک کرنا تم پر واجب ہو یا پھر تمھیں اس سے کوئی کام ہے؟ اس شخص نے فرشتے کو بتایا کہ ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے؛ بلکہ میں تو محض اللہ کے لیے اس سے محبت کرتا ہوں اور اس زیارت سے میرا مقصود صرف اور صرف اللہ کی خوش نودی ہے۔ اس پر فرشتے نے اسے بتایا کہ اسے اللہ کی طرف سے اس کے پاس بھیجا گیا ہے، یہ بتانے کے لیے کہ اللہ بھی اس سے ویسے ہی محبت کرتا ہے، جیسے وہ اپنے بھائی سے اللہ کی خاطر محبت کرتاہے۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، الدمام، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى، 1415هـ.
تطريز رياض الصالحين، فيصل بن عبد العزيز المبارك، المحقق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى، 1423هـ - 2002م.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى، 1428هـ.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، الطبعة: الرابعة، 1428هـ.
شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، دار الوطن، الرياض، 1426هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : "اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ"۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لے آئے ہيں۔ پھر بھی کیا آپ کو ہمارے بارے میں ڈر ہے؟ آپ نے کہا : "ہاں! بے شک دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے بیچ میں ہیں۔ اللہ جیسے چاہتا ہے، ان کو پلٹتا ہے۔"
رواه الترمذي وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اکثر اس بات کی دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ آپ کو دین و طاعت گزاری پر ثابت قدم اور گمراہی و کج روی سے دور رکھے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعا اتنی زیادہ کیوں کرتے ہيں؟ لہذا آپ نے ان کو بتا دیا کہ انسان کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے بیچ میں ہیں۔ وہ ان کو جیسے چاہتا ہے، پلٹتا رہتا ہے۔ قلب ایمان اور کفر کا بسیرا ہے۔ قلب کو قلب اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بہت زیادہ الٹ پھیر کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ قلب ہانڈی میں موجود اس پانی سے بھی زیادہ الٹ پھیر کا شکار رہتاہے، جو تیز آنچ کی وجہ سے جوش مار رہا ہو۔ ایسے ميں اللہ جس شخص کے دل کو چاہتا ہے، ہدایت پر قائم اور دین پر ثابت رکھتا ہے۔ اس کے برخلاف جس کے دل کو چاہتا ہے، گمراہی کی طرف پھیر دیتا ہے۔
فوائد
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے رب کے سامنے جھکتے، اپنی ساری مرادیں اسی سے مانگتے اور امت کو بھی اس کی تعلیم دیتے تھے۔
دین پر مضبوطی سے قائم رہنے کی اہمیت اور یہ کہ اصل اعتبار خاتمہ کا ہوتا ہے۔
اسلام پر ثابت قدم رہنے کے معاملے میں انسان ایک لمحے کے لیے بھی اللہ کے فضل و کرم سے بے نیاز نہيں ہو سکتا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انسان کو کثرت سے یہ دعا پڑھنی چاہیے۔
اسلام پر استقامت سب سے بڑی نعمت ہے، جس کے لیے بندے کو کوشش کرنی چاہیے اور اس پر اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
حوالہ
سنن الترمذي (4/ 19) (2140).
مسند أحمد (19/ 160) (12107).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 476).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 567).
نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1014).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص808).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 41).
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : "جو شخص سچے دل سے اللہ سے شہادت مانگے گا، اللہ اسے شہیدوں کے مرتبوں تک پہنچا دے گا، اگرچہ اس کی وفات اپنے بستر پر ہی ہوئی ہو"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ جس شخص نے شہادت اور اللہ کی راہ میں ہونے والی موت طلب کی، اگر وہ اپنی اس نیت میں سچا اور اللہ عز و جل کی خوش نودی حاصل کرنے والا رہا، تو اسے اللہ اس کی سچی نیت کی بنا پر شہیدوں کا درجہ عطا کرے گا، اگرچہ اس کی موت بستر ہی پر کیوں نہ ہوئی ہو۔
فوائد
سچی نیت اور طاقت بھر کوشش ہو، تو اجر و ثواب مل ہی جاتا ہے۔ چاہے انسان مطلوبہ کام کو کرنے بھی نہ سکے۔
جہاد کرنے اور اللہ کی راہ میں شہادت طلب کرنے کی ترغیب۔
اس امت پر اللہ کی نوازش کہ وہ اسے تھوڑے سے عمل کے بدلے میں جنت کے اونچے درجات عطا کرتا ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (3/ 1517) (1909).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 123).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 87).
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه مرفوعاً: "ألا أخبركم بما هو أَخْوَفُ عليكم عندي من المسيح الدجال؟ قالوا: بلى يا رسول الله، قال: الشرك الخفي يقوم الرجل فيصلي فَيُزَيِّنُ صلاته لما يرَى من نَظَرِ رَجُلٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس کا خوف مجھے تم پر مسیح دجال سے بھی زیادہ ہے؟، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ! کیوں نہیں؟ (ضرور بتلائیں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شرک خفی“ کہ کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو اور اپنی نماز کو محض اس لیے سنوار کر پڑھے کہ کوئی دوسرا اسے دیکھ رہا ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح
صحابہ کرام باہم مسیح دجال کے فتنے کا ذکر کر رہے تھے اور اس سے خوف کا اظہار کر رہے۔ نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ ایک ایسی ممنوعہ شے ہے جس کا آپ ﷺ کو ان کے سلسلے میں دجال کے فتنے سے بھی زیادہ ڈر ہے ، اور وہ ہے نیت اور ارادے میں شرک کا ارتکاب کرنا۔ جو لوگوں کے سامنے ظاہر نہیں ہوتا۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسے عمل کو جس سے مقصود اللہ کی خوشنودی ہو لوگوں کو دکھانے لیے خوب سنوار کر کیا جائے۔
حوالہ
فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، مطبعة السنة المحمدية، القاهرة، مصر، الطبعة: السابعة، 1377هـ - 1957م.
القول المفيد على كتاب التوحيد، دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الثانية، 1424هـ.
الملخص في شرح كتاب التوحيد، دار العاصمة الرياض، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2001م.
الجديد في شرح كتاب التوحيد، مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الخامسة، 1424هـ - 2003م.
التمهيد لشرح كتاب التوحيد، دار التوحيد، تاريخ النشر: 1424هـ.
سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي.
صحيح الجامع، طبعة المكتب الإسلامي.
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالی کا ارشاد ہے : میں تمام شریکوں سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہوں۔ جو کوئی ایسا عمل کرے، جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کرے، میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا ہے کہ وہ تمام شریکوں سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہے۔ وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے۔ جب انسان نیکی کا کوئی کام کرتا ہے اور اسے اللہ اور غیراللہ دونوں کے لیے کرتا ہے، تو اسے اللہ قبول نہیں کرتا، بلکہ عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی کام کرتے وقت خالص اللہ کی رضامندی کا حصول سامنے رکھنا چاہیے، کیوں کہ اللہ اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جو خالص اسی کی رضامندی کے حصول کے لیے کیا جائے۔
فوائد
اس میں تمام طرح کے شرک سے متنبہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ شرک عمل کی قبولیت کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔
اللہ کی بے نیازی اور عظمت کا احساس عمل کے اندر اخلاص پیدا کرنے میں ممد و مددگار ہوتا ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 2289) (2985).
شرح النووي على مسلم (18/ 115).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص287).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص325).
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : ”نہ چھوت لگنا ہے اور نہ بدشگونی، نہ الو کی نحوست ہے اور نہ ماہ صفر کی۔ تم کوڑھ کے مریض سے اسی طرح بھاگو، جس طرح شیر سے بھاگتے ہو“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دور جاہلیت کی کچھ چيزوں کا ذکر، ان سے خبردار رکھنے اور یہ بتانے کے لیے فرمایا کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور کچھ بھی اس کے فیصلے اور تقدیر سے ہٹ کر نہيں ہوتا۔ اور وہ چیزیں درج ذیل ہیں:
1- دور جاہلیت کے لوگ سمجھتے تھے کہ مرض بذات خود متعدی ہوا کرتی ہے۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتا دیا کہ کوئی بیماری طبعی طور پر ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوتی۔ اس کائنات کا تصرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی بیماری اتارتا اور اٹھاتا ہے۔ یہ سب اس کے ارادے اور فیصلے کے مطابق ہوا کرتا ہے۔
2- دور جاہلیت کے لوگ جب سفر یا تجارت کے ارادے سے نکلتے، تو کسی پرندے کو بھگاتے۔ وہ اڑ کر دائيں طرف جاتا، تو خوش ہو جاتے۔ لیکن اگر بائیں طرف جاتا، تو برا شگون لیتے اور لوٹ جاتے۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح پرندہ اڑا کر برا شگون لینے سے منع فرمایا اور بتایا کہ یہ ایک غلط عقیدہ ہے۔
3- دور جاہلیت کے لوگ کہتے تھے: کسی گھر پر الو بیٹھ جائے، تو اہل خانہ مصیبت میں پڑ جاتے ہیں۔ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح برا شگون لینے سے منع فرمایا۔
4- آپ نے صفر مہینے سے برا شگون لینے سے منع فرمایا۔ صفر قمری سال کا دوسرا مہینہ ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ صفر ایک کیڑا ہے، جو جانور یا انسان کے پیٹ میں پیدا ہو جاتا ہے۔ عربوں کا عقیدہ تھا کہ یہ خارش کی بیماری سے بھی زیادہ متعدی بیماری ہے۔ چنانچہ آپ نے اس عقیدے کی نفی کر دی۔
5- آپ نے کوڑھ کے مرض کے شکار انسان سے اسی طرح بھاگنے کا حکم دیا ہے، جس طرح شیر سے بھاگا جاتا ہے۔ دراصل یہ حکم اپنے لیے احتیاط، طلب عافیت اور اللہ کے حکم کردہ اسباب پر عمل کرنے کے قبیل سے ہے۔ کوڑھ ایک بیماری ہے، جس کا شکار ہونے والے انسان کے جسم کے اعضا گلنے لگتے ہيں۔
فوائد
اللہ پر توکل و اعتماد اور مشروع اسباب اختیار کرنا واجب ہے۔
قضا و قدر اور اس بات پر ایمان رکھنا واجب ہے کہ اسباب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی ان کو مؤثر بناتا اور وہی انہیں بے اثر بناتا ہے۔
جو لوگ سیاہ و سرخ وغیرہ رنگوں، بعض ارقام، ناموں، اشخاص اور معذور افراد سے بد شگونی لیتے ہیں، ان کا یہ عمل باطل و بے بنیاد ہے۔
مجذوم اور اسی طرح متعدی امراض کے شکار لوگوں کے قریب جانے کی ممانعت دراصل ان اسباب میں سے ہے، جن کے بطن سے عموماً اللہ کے حکم سے مسببات پیدا ہوا کرتے ہيں۔ دیکھا جائے تو اسباب کا اپنا مستقل وجود نہيں ہوتا، بلکہ اللہ چاہے تو ان کی تاثیر ختم کر کے بے اثر بنا دے اور چاہے تو ان کے اثر کو باقی رکھ کر ان کو مؤثر رہنے دے۔
حوالہ
صحيح البخاري (7/ 126) (5707).
صحيح مسلم (4/ 1742) (2220).
فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، لعبد الرحمن التميمي (ص307).
القول المفيد على كتاب التوحيد، لابن عثيمين (1/ 565).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص228).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص253).
التمهيد لشرح كتاب التوحيد، لصالح آل الشيخ (ص77).
عن عَمْرُو بن تَغْلِبَ ـ رضي الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بمالٍ أو سَبْيٍ فَقَسَّمه، فأعطى رجالا، وترك رجالًا، فبَلغَه أن الَّذِين تَرَك عَتَبُوا، فحمد الله، ثم أثنى عليه، ثم قال: «أما بعد، فوالله إني لأُعطي الرجل وأدَعُ الرجلَ، والذي أدعُ أحبُّ إلي من الذي أُعطي، ولكني إنما أُعطي أقوامًا لما أرى في قلوبهم من الجَزَع والهَلَع، وَأَكِلُ أقواما إلى ما جَعَلَ الله في قُلُوبِهم من الغِنَى والخَيْر، منهم عَمْرُو بن تَغْلِبَ» قال عمرو بن تغلب: فوالله ما أُحبُّ أن لي بكلمة رسول الله صلى الله عليه وسلم حُمْرَ النَّعَم.
عمر بن تغلب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال یا قیدی لائے گئے، جسے آپ نے تقسیم کردیا۔ کچھ لوگوں کو آپ نے ان میں سے دیا اور کچھ کو نہیں دیا ۔ پھرآپ ﷺ تک یہ بات پہنچی کہ آپ ﷺ نے جن کو نہیں دیا، انہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا: اما بعد، اللہ کی قسم ! میں کسی شخص کو دیتا ہوں اور کسی کو چھوڑ دیتا ہوں۔ جب کہ جسے میں چھوڑ دیتا ہوں وہ مجھے اس شخص سے زیادہ محبوب ہوتاہے، جسے میں دیتا ہوں ۔میں کچھ لوگوں کے دلوں میں جو بے صبری پاتا ہوں، اس کی وجہ سے انہیں دیتاہوں اور کچھ لوگوں کو اس بے نیازی اور بھلائی کے سپرد کردیتا ہوں، جو اللہ نے ان کے دلوں میں رکھی ہے۔ عمرو بن تَغلِب انہی لوگوں میں سے ہیں۔ عمرو بن تَغلِب کہتے ہیں کہ : اللہ کی قسم! مجھے یہ پسند نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی اس بات کے بدلے میں مجھے سرخ اونٹ مل جائیں۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال یا قیدی لائے گئے۔ "سبی" سے مراد دشمن کے وہ قیدی ہیں، جنہیں جنگ میں گرفتار کرکے غلام باندی بنا لیا جاتاہے۔ آپ ﷺ نے انہیں تقسیم کردیا۔ کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ کو نہیں دیا؛ یعنی کچھ لوگوں کو ان کی تالیف قلب کے لیے دیا اور کچھ لوگوں کو اللہ تعالی نے جو قوت ایمانی اور یقین عطا کیا تھا، اس پر اعتماد کرتے ہوئے دیے بغیر ہی چھوڑ دیا۔ پھرآپ ﷺ تک یہ بات پہنچی کہ جن کو آپ ﷺ نے نہیں دیا تھا، انھوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ یعنی انھوں نے آپس میں آپ ﷺ کے اس عمل پرکچھ ناگواری کے انداز میں باتیں کیں، یہ گمان کرتے ہوئے کہ آپ ﷺ نے ان لوگوں کو ان کے کسی خاص دینی امتیاز کی وجہ سے دیا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے انھیں جمع کرکے خطبہ دیا۔ اللہ تعالی کے شایان شان حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں کسی شخص کو دیتا ہوں اور کسی کودیے بغیرہی چھوڑ دیتاہوں۔ جسے میں دیے بغیر چھوڑ دیتا ہوں، وہ مجھے اس شخص سے زیادہ محبوب ہے، جسے میں دیتاہوں“۔
یہ مراد نہیں کہ جب بعض لوگوں کو دوں اور بعض کو نہ دوں، تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ میں دوسروں کے مقابلے میں، ان سے محبت کرتا ہوں۔ بلکہ جن کو میں دیے بغیر چھوڑ دیتاہوں، وہ مجھے ان لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں، جنھیں میں دیتا ہوں۔
پھر آپ ﷺ نے بعض کودینے اور بعض کو نہ دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں بعض لوگوں کو ان کے دلوں میں پائی جانے والی بےصبری اور پریشانی کی وجہ سے دیتا ہوں، جو انہیں اس وقت لاحق ہوتی ہے، جب انھیں مال غنیمت میں سے حصہ نہ دیا جائے۔ چنانچہ میں ان کی تالیف قلب اور انھیں خوش کرنے کے لیے دیتا ہوں۔
”بعض لوگوں کو میں اس بے نیازی کے حوالے کردیتا ہوں، جو اللہ تعالی نے ان کے دلوں میں رکھی ہے“ یعنی کچھ لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالی نے جو قناعت اور بے نیازی رکھی ہے، انھیں اس کے سپرد کرتے ہوئے نہیں دیتا۔
”بھلائی“ سے مراد قوت ایمان و یقین ہے۔
”عمرو بن تغلب انہیں لوگوں میں سے ہیں“ یعنی وہ لوگ جن کے ایمان پر تکیہ کرتے ہوئے میں انھیں نہیں دیتا، ان میں سے ایک عمرو بن تغلب ہیں۔
ایک اور حدیث میں آتاہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کسی شخص کو دیتا ہوں، جب کے دوسرا شخص مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتاہے۔ ایسا میں اس اندیشے کی وجہ سے کرتا ہوں کہ کہیں وہ اوندھے منہ آگ میں نہ ڈال دیا جائے“۔ (صحیح مسلم)
عمرو رضی اللہ نے جب رسول اللہ ﷺ کو اپنی تعریف کرتے ہوئے سنا تو کہا: اللہ کی قسم! مجھے یہ پسند نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی اس بات کی بجائے مجھے سرخ اونٹ مل جائیں۔ یعنی اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس ثنا کی بدولت میری جو تکریم کی، اس کا کوئی بدیل مجھے پسند نہیں ہے، چاہے مجھے عرب کا سب سے نفیس مال، سرخ اونٹ ہی کیوں نہ دیے جائیں۔
حوالہ
كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، نسخة الكترونية، لا يوجد بها بيانات نشر
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشرة 1407 هـ
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ
رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل، الطبعة: الأولى، 1428 هـ
منار القاري، تأليف: حمزة محمد قاسم ، الناشر: مكتبة دار البيان، عام النشر: 1410 هـ
المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، تأليف: محيي الدين يحيى النووي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، الطبعة: الثانية 1392 هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com