مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جہاں بھی تم چلے اور جس وادی کو بھی تم نے طے کیا وہ ( ہر ایک کے اجر میں) تمہارے ساتھ تھے، انہیں مرض نے تمہارے ساتھ آنے سے روک رکھا تھا۔
عن أبي عبد الله جابر بن عبد الله الأنصاري رضي الله عنهما ، قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في غَزَاةٍ، فقال: «إن بالمدينة لَرِجَالًا ما سِرْتُم مَسِيرًا، ولا قَطَعْتُم وَادِيًا، إلا كانوا مَعَكُم حَبَسَهم المرضُ».
وفي رواية: «إلا شَرَكُوكُم في الأَجْرِ».
وعن أنس - رضي الله عنه - قال: رجعنا من غزوة تبوك مع النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «إن أقواما خلفنا بالمدينة ما سلكنا شِعْبَا، ولا واديا، إلا وهم معنا؛ حبسهم العذر».
ابو عبد اللہ جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک غزوہ میں ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جہاں بھی تم چلے اور جس وادی کو بھی تم نے طے کیا وہ ( ہر ایک کے اجر میں) تمہارے ساتھ تھے، انہیں مرض نے تمہارے ساتھ آنے سے روک رکھا تھا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ تمہارے ساتھ اجر میں شریک ہیں۔
انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ غزوۂ تبوک سے واپس آ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے پیچھے مدینہ میں کچھ لوگ ہیں۔ ہم جس گھاٹی اور وادی میں بھی اترے وہ ہمارے ساتھ تھے۔ انہیں عذر نے روک لیا تھا“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ ایسے لوگوں کے بارے میں بتا رہے ہیں جو کسی مرض یا اس طرح کی کسی اور مجبوری کی وجہ سے جہاد فی سبیل اللہ میں شریک نہ ہو سکے۔ آپ ﷺ بتا رہے ہیں کہ جہاد کرنے والے جتنا بھی چلے ہیں اور انہوں نے جس وادی اور گھاٹی کو بھی عبور کیا ہے ان کے اس عمل کا ثواب ان لوگوں کے لیے بھی لکھا گیا ہے۔
حوالہ
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م.
- كنوز رياض الصالحين، نشر: دار كنوز إشبيليا، الطبعة: الأولى، 1430هـ - 2009م.
- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي.
- تطريز رياض الصالحين، لفيصل الحريملي، نشر: دار العاصمة، الرياض، الطبعة: الأولى، 1423هـ - 2002م.
- صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ.
- صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com