سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میں تمھارے پاس اللہ کا پیغام لے کر آیا ہوں کہ اللہ بھی تم سے ویسے ہی محبت کرتا ہے، جیسے تم اللہ کی خاطر اس سے محبت کرتے ہو۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «أن رجلا زَارَ أخًا له في قرية أخرى، فأَرْصَدَ الله تعالى على مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا، فلما أتى عليه، قال: أين تريد؟ قال: أريد أخًا لي في هذه القرية، قال: هل لك عليه من نعمةٍ تَرُبُّهَا عليه؟ قال: لا، غيرَ أني أَحْبَبْتُهُ في الله تعالى ، قال: فإني رسولُ الله إليك بأنَّ الله قد أَحَبَّكَ كما أَحْبَبْتَهُ فيه».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک شخص اپنے بھائی کی زیارت کے لیے دوسری بستی گیا، تو اللہ نے اس کے راستے پر ایک فرشتے کو بیٹھا دیا، جب وہ شخص اس جگہ پہنچا، تو فرشتے نے پوچھا کہ کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اس بستی میں میرا ایک بھائی رہتا ہے، اُسی سے ملنے جا رہا ہوں۔ فرشتے نے پوچھا کہ کیا تمھارے اوپر اُس کا کوئی احسان ہے، جسے تم چکا نا چاہتے ہو؟ اُس نے کہا: نہیں، میں محض اللہ کے لیے اس سے محبت رکھتا ہوں۔ فرشتے نے کہا کہ میں تمھارے پاس اللہ کا پیغام لے کر آیا ہوں کہ اللہ بھی تم سے ویسے ہی محبت کرتا ہے، جیسے تم اللہ کی خاطر اس سے محبت کرتے ہو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ سابقہ امتوں میں سے ایک آدمی کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ وہ ایک دوسری بستی میں اپنے بھائی کی زیارت کے لیے گیا۔ اللہ تعالی نے اس کے راستے میں اس کی حفاظت اور نگرانی کے لیے ایک فرشتہ متعین کر دیا۔ اس فرشتے نے اس سے پوچھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے؟ اس نے اسے بتایاکہ وہ اللہ کی خاطر اس بستی میں رہنے والے اپنے ایک بھائی سےملنے جا رہا ہے۔فرشتے نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ تمھارا غلام ہے یا بیٹا ہے یا تمھارا کوئی اور تعلّق دار ہے، جس کا نفقہ اور جس کے ساتھ شفقت بھرا سلوک کرنا تم پر واجب ہو یا پھر تمھیں اس سے کوئی کام ہے؟ اس شخص نے فرشتے کو بتایا کہ ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے؛ بلکہ میں تو محض اللہ کے لیے اس سے محبت کرتا ہوں اور اس زیارت سے میرا مقصود صرف اور صرف اللہ کی خوش نودی ہے۔ اس پر فرشتے نے اسے بتایا کہ اسے اللہ کی طرف سے اس کے پاس بھیجا گیا ہے، یہ بتانے کے لیے کہ اللہ بھی اس سے ویسے ہی محبت کرتا ہے، جیسے وہ اپنے بھائی سے اللہ کی خاطر محبت کرتاہے۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، الدمام، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى، 1415هـ. تطريز رياض الصالحين، فيصل بن عبد العزيز المبارك، المحقق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى، 1423هـ - 2002م. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى، 1428هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، الطبعة: الرابعة، 1428هـ. شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، دار الوطن، الرياض، 1426هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
دل کے اعمال

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com