سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : "اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ"۔

عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: «يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ فَهَلْ تَخَافُ عَلَيْنَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، إِنَّ القُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللهِ يُقَلِّبُهَا كَيْفَ يَشَاءُ».
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : "اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ"۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لے آئے ہيں۔ پھر بھی کیا آپ کو ہمارے بارے میں ڈر ہے؟ آپ نے کہا : "ہاں! بے شک دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے بیچ میں ہیں۔ اللہ جیسے چاہتا ہے، ان کو پلٹتا ہے۔"
رواه الترمذي وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اکثر اس بات کی دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ آپ کو دین و طاعت گزاری پر ثابت قدم اور گمراہی و کج روی سے دور رکھے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعا اتنی زیادہ کیوں کرتے ہيں؟ لہذا آپ نے ان کو بتا دیا کہ انسان کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے بیچ میں ہیں۔ وہ ان کو جیسے چاہتا ہے، پلٹتا رہتا ہے۔ قلب ایمان اور کفر کا بسیرا ہے۔ قلب کو قلب اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بہت زیادہ الٹ پھیر کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ قلب ہانڈی میں موجود اس پانی سے بھی زیادہ الٹ پھیر کا شکار رہتاہے، جو تیز آنچ کی وجہ سے جوش مار رہا ہو۔ ایسے ميں اللہ جس شخص کے دل کو چاہتا ہے، ہدایت پر قائم اور دین پر ثابت رکھتا ہے۔ اس کے برخلاف جس کے دل کو چاہتا ہے، گمراہی کی طرف پھیر دیتا ہے۔

فوائد
  1. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے رب کے سامنے جھکتے، اپنی ساری مرادیں اسی سے مانگتے اور امت کو بھی اس کی تعلیم دیتے تھے۔
  2. دین پر مضبوطی سے قائم رہنے کی اہمیت اور یہ کہ اصل اعتبار خاتمہ کا ہوتا ہے۔
  3. اسلام پر ثابت قدم رہنے کے معاملے میں انسان ایک لمحے کے لیے بھی اللہ کے فضل و کرم سے بے نیاز نہيں ہو سکتا۔
  4. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انسان کو کثرت سے یہ دعا پڑھنی چاہیے۔
  5. اسلام پر استقامت سب سے بڑی نعمت ہے، جس کے لیے بندے کو کوشش کرنی چاہیے اور اس پر اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
حوالہ

سنن الترمذي (4/ 19) (2140). مسند أحمد (19/ 160) (12107). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 476). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 567). نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1014). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص808). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 41).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ماثور دعائیں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com