عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائيے، جو میں اللہ عز و جل سے مانگوں۔ آپ نے کہا : "اللہ سے عافیت مانگیے۔" جب کچھ دن بیت گئے تو میں دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا : "اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چيز سکھائيے، جو میں اللہ سے مانگوں۔ آپ نے فرمایا : "اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! اللہ سے دنیا اور آخرت کی عافیت مانگیے۔"
رواه الترمذي وأحمددرجہصحيح لغيره
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا عباس بن عبد المطلب نے آپ سے کوئی ایسی دعا سکھانے کی گزارش کی، جو وہ اللہ سے مانگا کریں۔ چنانچہ آپ نے سکھایا کہ وہ اللہ سے دین، دنیا و آخرت کی آفتوں اور کمیوں سے عافیت اور سلامتی مانگیں۔ عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہيں کہ کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ حاضر ہوئے اور کوئی ایسی دعا سکھانے کی گزارش کی، جو اللہ سے مانگا کریں، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے اپنائیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: اے عباس! اے اللہ کے رسول کے چچا جان! اللہ سے ہر برائی سے چھٹکارے، ہر خیر کے حصول اور دنیا و آخرت کے نفع کے لیے عافیت مانگا کریں۔
فوائد
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا عباس رضی اللہ عنہ سے دوبارہ سوال کرنے پر اسی جواب کو دوہرانا یہ ثایت کرتا ہے کہ عافیت سب سے بہترین چيز ہے، جو بندہ اپنے رب سے مانگ سکتا ہے۔
عافیت کی فضیلت اور اس بات کا بیان کہ عافیت دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں کا سرچشمہ ہے۔
صحابہ زیادہ سے زیادہ علم وخیر کے حصول کے خواہاں ہوا کرتے تھے۔
حوالہ
سنن الترمذي (5/ 491) (3514).
مسند أحمد (3/ 303) (1783).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين (2/ 1014).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 468).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 566).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل المبارك (ص815).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 40).
عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے:«اللَّهُم لَكَ أسْلَمْتُ وبِكَ آمنْتُ، وعليكَ توَكَّلْتُ، وإلَيكَ أنَبْتُ، وبِكَ خاصَمْتُ. اللَّهمَّ أعُوذُ بِعِزَّتِكَ، لا إلَه إلاَّ أنْتَ أنْ تُضِلَّنِي أنْت الْحيُّ الَّذي لاَ يَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ يمُوتُونَ»۔
ترجمہ: اے اللہ ! میں نے تیرے ہی سامنے سر جھکایا، تجھ ہی پر ایمان لایا، میں نے تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا ۔ میں نے تیری ہی مدد کے ساتھ مقابلہ کیا۔ میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں کہ تیسرے سوا کوئی دوسرا معبودِ برحق نہیں، یہ کہ تو مجھے گمراہ ہونے کے لیے چھوڑ دے، تو زندہ ہے، تجھے موت نہیں آئے گی جب کہ تمام جن و انس مر جائیں گے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ دعا میں اپنے رب کی پناہ اور اس کے قرب میں آ رہے ہیں۔ آپ ﷺ بیان فرما رہے ہیں کہ وہ اپنے رب کے مطیع وفرماں بردار ہیں اور آپ نے اپنے سارے امور اللہ کو سونپ دیے ہیں اور اس کے علاوہ آپ کو کسی پر بھروسہ نہیں ہے اور یہ کہ آپ ﷺ اپنے دل و جان کے ساتھ اس کی طرف لوٹ آئے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہیں اور اللہ ہی کی دی گئی قوت، اس کی مدد و نصرت اور آپ ﷺ کو جو دلائل اور حجتیں دی گئی تھیں ان سے آپ ﷺ نے اس کے دشمنوں کا مقابلہ کیا۔پھر نبی ﷺ اللہ کی غالبیت اور قوت کی پناہ لیتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ یہ نہ ہو کہ وہ ہدایت و راستگی کی توفیق نہ دے کر آپ ﷺ کو ہلاک کردے۔ ’’لا إله إلا أنت‘‘ کہہ کر آپ ﷺ اس کی مزید تاکید فرما رہے ہیں کہ پناہ صرف اللہ ہی سے طلب کی جاتی ہے۔ پھر نبی ﷺ بیان کر رہے ہیں کہ آپ ﷺ کے رب کی زندگی حقیقی زندگی ہے جس پر کبھی موت نہیں آتی جب کہ انسان اور جنات مر جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے بطور خاص انہیں ذکر کیا کیونکہ وہی مکلف ہیں اور احکامِ دین کی تبلیغ بھی انہیں کو مقصود ہے۔ گویا کہ وہ اصل ہوئے۔
حوالہ
صحيح البخاري (9/ 117) (7383).
صحيح مسلم (4/ 2086) (2717).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص72).
فتح رب البرية بتلخيص الحموية، لابن عثيمين (ص79).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 109).
مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، عبيد الله المباركفوري (8/ 223).
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : "اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ"۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لے آئے ہيں۔ پھر بھی کیا آپ کو ہمارے بارے میں ڈر ہے؟ آپ نے کہا : "ہاں! بے شک دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے بیچ میں ہیں۔ اللہ جیسے چاہتا ہے، ان کو پلٹتا ہے۔"
رواه الترمذي وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اکثر اس بات کی دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ آپ کو دین و طاعت گزاری پر ثابت قدم اور گمراہی و کج روی سے دور رکھے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعا اتنی زیادہ کیوں کرتے ہيں؟ لہذا آپ نے ان کو بتا دیا کہ انسان کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے بیچ میں ہیں۔ وہ ان کو جیسے چاہتا ہے، پلٹتا رہتا ہے۔ قلب ایمان اور کفر کا بسیرا ہے۔ قلب کو قلب اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بہت زیادہ الٹ پھیر کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ قلب ہانڈی میں موجود اس پانی سے بھی زیادہ الٹ پھیر کا شکار رہتاہے، جو تیز آنچ کی وجہ سے جوش مار رہا ہو۔ ایسے ميں اللہ جس شخص کے دل کو چاہتا ہے، ہدایت پر قائم اور دین پر ثابت رکھتا ہے۔ اس کے برخلاف جس کے دل کو چاہتا ہے، گمراہی کی طرف پھیر دیتا ہے۔
فوائد
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے رب کے سامنے جھکتے، اپنی ساری مرادیں اسی سے مانگتے اور امت کو بھی اس کی تعلیم دیتے تھے۔
دین پر مضبوطی سے قائم رہنے کی اہمیت اور یہ کہ اصل اعتبار خاتمہ کا ہوتا ہے۔
اسلام پر ثابت قدم رہنے کے معاملے میں انسان ایک لمحے کے لیے بھی اللہ کے فضل و کرم سے بے نیاز نہيں ہو سکتا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انسان کو کثرت سے یہ دعا پڑھنی چاہیے۔
اسلام پر استقامت سب سے بڑی نعمت ہے، جس کے لیے بندے کو کوشش کرنی چاہیے اور اس پر اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
حوالہ
سنن الترمذي (4/ 19) (2140).
مسند أحمد (19/ 160) (12107).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (17/ 476).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 567).
نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1014).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص808).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 41).
عن أنس رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رسُولُ الله صلى الله عليه وسلم : «ألِظُّوا بـ (يَاذا الجَلاَلِ والإكْرامِ)».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ (اپنی دعاؤں میں) کثرت کے ساتھ ”يَاذا الجَلاَلِ والإكْرامِ“ پڑھتے رہا کرو۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
حدیث میں ”ألِظُّوْا“ کے لفظ کے ساتھ حکم دیا گیا ہے جس کا معنی ہے پابندی اور کثرت کے ساتھ یہ دعا مانگو۔ مراد یہ ہے کہ اپنی دعا میں ہمیشہ یہ الفاظ کہو اور انہیں اپنی زبان پر جاری رکھو۔
ان الفاظ میں اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسم اعظم ہے کیونکہ وہ ربوبیت اور الوہیت سے متعلق تمام صفات پر مشتمل ہے۔
حوالہ
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
- كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا - الطبعة الأولى، 1430ه.
سنن الترمذي - محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر ومحمد فؤاد عبد الباقي وإبراهيم عطوة عوض - شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ - 1975م.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگتے تھے: ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی، اور لوگوں سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
یہ دعا تمام دعاؤں کا مجموعہ اور سب سے نفع مند دعا ہے کہ جو دین و دنیا کی تمام بھلائیوں پر مشتمل ہے۔ ’ہدی‘ (ہدایت)، علم نافع کو کہتے ہیں، ’تقویٰ‘ عملِ صالح اور ان چیزوں کو چھوڑنے کا نام ہے جن سے اللہ اور اس کے رسولﷺ نے روکا ہے۔ ’عفاف‘ (پاک دامنی) مخلوق اور برے معاملات سے رک جانے کا نام ہے۔ اور غنی یعنی اللہ اور اس کے دیے ہوئے رزق کو کافی سمجھنے، جو کچھ میسر ہو اس پر قناعت کرنے اور اُس پر قناعت کرنے اور جو رزق حاصل ہو، اس پر دل کے مطمئن ہونے کو کہتے ہیں۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 2087) (2721).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 146).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل المبارك (ص68).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 183).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 528).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 104).
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول: «اللَّهُمَّ لك أَسْلَمْتُ، وبِكَ آمَنتُ، وعَلَيكَ تَوَكَّلْت، وإِلَيكَ أَنَبْتُ، وبك خَاصَمْتُ، اللهم أعُوذ بِعزَّتك؛ لا إله إلا أنت أن تُضلَّني، أنت الحَيُّ الذي لا تموت، والجِنُّ والإنْسُ يَمُوتُونَ».
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (دعا کرتے ہوئے) فرمایا کرتے تھے ”اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ“ اے اللہ! میں تیرے لیے فرماں بردار ہو گیا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رجوع کیا اور تیری مدد سے (کفر کے ساتھ) مخاصمت کی۔ اے اللہ! میں اس بات سے تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں کہ تو مجھے سیدھی راہ سے ہٹا (گمراہ کر) دے ۔تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے جس کو موت نہیں آ سکتی اور جن و انس سب مر جائیں گے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ کہتے تھے: ”اللهم لك أسلمت“ (اے اللہ !میں تیرے لیے فرماں بردار ہو گیا) یعنی ظاہری طور پر تیرا فرماں بردار، تیرے علاوہ کسی اور کا نہیں۔”وبك آمنت“ (اورتجھ پرایمان لایا) یعنی باطنی طور پر تصدیق کی۔ ”وعليك توكلت“ (اورتجھ پر بھروسہ کیا) یعنی اپنے تمام امور کی تدبیر تیرے سپرد کر دی اور میں اپنے کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔”وإليك أنبت“ (تیری طرف رجوع کیا) یعنی میں نے نافرمانی سے اطاعت کی طرف اور غفلت سے ذکر کی طرف رجوع کرلیا۔ ”وبك“ یعنی تیری مدد کے ساتھ۔ ”خاصمت“ (مخاصمت کی) یعنی تیرے دشمنوں سے جنگ کی۔ ”اللهم إني أعوذ بعزتك“ (اے اللہ میں تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں) یعنی تیرے غلبے کے ساتھ کیوں کہ عزت ساری کی ساری اللہ کے لیے ہے۔ ”لا إله إلا أنت“ (تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں) یعنی تیرے علاوہ معبود برحق کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا ہے جس سے سوال کیا جائے اور تیرے علاوہ کسی کی پناہ بھی نہیں لی جا سکتی۔ ”أن تضلني“ (یہ کہ تو مجھے سیدھی راہ سے ہٹا دے) یعنی میں اس بات سے پناہ چاہتا ہوں کہ ہدایت کے بعد تو مجھے گمراہ کر دے جب کہ تو نے مجھے ظاہری و باطنی طور پر اپنے حکم و قضاء کی فرماں برداری اور اپنی جناب میں جھکنے، دشمن سے مخاصمت اور ہر حال میں اپنی عزت و نصرت کی التجاء کرنے کی توفیق بخشی۔ ”أنت الحي الذي لا يموت والجن والإنس يموتون“ تو ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے جس کو موت نہیں آ سکتی اور جن و انس سب مر جائیں گے۔
حوالہ
- صحيح البخاري -الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
- صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
- كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه.
- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، تحقيق خليل مأمون شيحا-دار المعرفة-بيروت-الطبعة الرابعة1425ه.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ.
قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرماتے: ”اے اللہ! مجھے برے اخلاق، برے اعمال، بری خواہشات اور بری بیماریوں سے بچا“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں بہت ہی بہترین دعائیں مذکور ہیں جنہیں نبی ﷺ مانگا کرتے تھے اور وہ یہ کہ اللہ تعالی آپ ﷺ کو چار چیزوں سے دور رکھے:
اول: مذموم اور برے اخلاق
دوم: گناہ
سوم: مہلک خواہشات جن کی طرف نفوس راغب ہوتے ہیں۔
چہارم: دائمی ناقابل علاج بیماریاں۔
حوالہ
سنن الترمذي (5/ 544) (3591).
فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (6/ 389).
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 248).
توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام (7/ 436).
عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه قَال: عَادَنِي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْداً، اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْداً، اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْداً».
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ ! سعد کو شفا دے، اے اللہ ! سعد کو شفا دے ۔ اے اللہ ! سعد کو شفا دے۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔درجہصحیح
تشریح
سعد بن ابی وقاص کی حدیث یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سعد رضی اللہ عنہ جب بیمار تھے تو ان کی عیادت کی اور دعا فرمائی کہ ”اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے، اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے، اے اللہ ! تو سعد کو شفا دے“ ایسا آپ ﷺ نے تین دفعہ کہا۔ اس حدیث میں دلیل ہے کہ آدمی کا کسی مسلمان مریض کی عیادت کے لیے جانا سنت ہے۔اس حدیث میں آپ ﷺ کے اپنے صحابہ کے ساتھ حسنِ سلوک اور انداز معاملت کی بھی وضاحت ہے۔ آپ ﷺ اپنے صحابہ میں سے جو مریض ہوتے ان کی عیادت کے لیے جاتے اور ان کے لیے دعا کیا کرتے تھے ۔ اس حدیث میں اس طرح کی دعا مانگنے کے استحباب کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ”اے اللہ ! فلاں شخص کو شفا عطا فرما “، تین دفعہ نام لے کر ایسا کہیں گے ۔ مریض کے شفایاب ہونے کے اسباب میں سے یہ بھی ایک سبب ہے۔
حوالہ
صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد بن علان الصديقي, دار الكتاب العربي.
شرح رياض الصالحين لابن عثيمين , دار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة: 1426 هـ.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشر, 1407ه.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com