سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی، اور لوگوں سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں۔

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضيَ اللهُ عنهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى، وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى».
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگتے تھے: ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی، اور لوگوں سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

یہ دعا تمام دعاؤں کا مجموعہ اور سب سے نفع مند دعا ہے کہ جو دین و دنیا کی تمام بھلائیوں پر مشتمل ہے۔ ’ہدی‘ (ہدایت)، علم نافع کو کہتے ہیں، ’تقویٰ‘ عملِ صالح اور ان چیزوں کو چھوڑنے کا نام ہے جن سے اللہ اور اس کے رسولﷺ نے روکا ہے۔ ’عفاف‘ (پاک دامنی) مخلوق اور برے معاملات سے رک جانے کا نام ہے۔ اور غنی یعنی اللہ اور اس کے دیے ہوئے رزق کو کافی سمجھنے، جو کچھ میسر ہو اس پر قناعت کرنے اور اُس پر قناعت کرنے اور جو رزق حاصل ہو، اس پر دل کے مطمئن ہونے کو کہتے ہیں۔

حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2087) (2721). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 146). تطريز رياض الصالحين، لفيصل المبارك (ص68). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 183). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 528). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 104).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ماثور دعائیں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com