اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ تمام بنی آدم کے دل رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں۔ انھیں وہ جیسے چاہتا ہے پھیرتا ہے۔ اگر چاہے تو حق پر قائم رکھے اور چاہے تو حق سے پھیر دے۔ اس کے لیے تمام دلوں میں تصرف کرنا بس ایک ہی دل میں تصرف کرنے کی طرح ہے۔ ایسا نہيں کہ ایک میں تصرف کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا فرماتے ہوئے کہا: اے اللہ! دلوں کو کبھی نیکی کی طرف، کبھی بدی کی طرف اور کبھی غفلت کی طرف پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔
- تقدیر کا اثبات۔ دراصل اللہ بندوں کے دلوں کو ان کے حق میں لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق مختلف رخ دیتا رہتا ہے۔
- ایک مسلمان کو ہمیشہ اپنے رب سے حق اور ہدایت پر قائم رہنے کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔
- صرف ایک اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اسی سے تعلق قائم رکھنا چاہیے۔
- آجری کہتے ہيں: اہل حق اللہ عز و جل کے وہی اوصاف بیان کرتے ہیں جو خود اللہ تبارک و تعالی اپنے لیے یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کے لیے بیان کیے ہیں۔ یہی اتباع سنت کے علم بردار اور بدعت سے گریزاں رہنے والے علما کا مسلک ہے۔ اہل سنت اللہ تبارک و تعالی کے انھیں اسما وصفات کو ثابت کرتے ہیں جنھیں خود اللہ نے اپنے لیے ثابت کیا ہے، بغير كسی تحریف، تعطلیل، تکییف اور تمثیل کے۔ اللہ کی ذات سے ان اسما وصفات کی نفی کرتے ہیں، جن کی نفی اس نے خود کی ہے اور جن اسما وصفات کے بارے میں نفی واثبات وارد نہ ہوا ہو، ان کے بارے میں خاموش رہتے ہيں۔ اللہ تعالی نے کہا: "اس کے جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے"۔
صحيح مسلم (4/ 2045) (2654). المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي (16/ 204). فيض القدير شرح الجامع الصغير، للمناوي (2/ 379).