سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی دعا سکھا دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي“ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے اور اپنی شرم گاہ کے شر سے۔

عن شكل بن حميد رضي الله عنه قال: قلت: يا رسول الله، عَلِّمْنِي دعاء، قال: (قل: اللهم إني أعوذ بك من شر سمعي، ومن شر بصري، ومن شر لساني، ومن شر قلبي، ومن شر مَنِيِّي).
شکَل بن حمید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی دعا سکھا دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي“ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے اور اپنی شرم گاہ کے شر سے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں ہے کہ شکل بن حمید رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس دنیا و آخرت کی بھلائی کی تلاش میں آتے ہیں۔ وہ نبی ﷺ سے نہ تو اس دنیائے فانی کی کسی شے کا سوال کرتے ہیں اور نہ مٹھی بھر مال یا غلے کا ایک صاع مانگتے ہیں، بلکہ دعا کے بارے میں پوچھنے کے لیے آتے ہیں۔ وہ نبی ﷺ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ ﷺ انھیں کوئی ایسی دعا سکھا دیں، جو انھیں ان کے دین و دنیا میں فائدہ دے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ایسے ہی ہوا کرتے تھے۔ وہ اللہ تعالی کے فضل اور اس کی رضا کے جویا رہا کرتے تھے۔ نبی ﷺ نے ان کی راہ نمائی اس عظیم الشان دعا کی طرف فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہو: ”اللهم“ اس میں اللہ کے اس نام سے دعا مانگی جارہی ہے اور اس کی طرف متوجہ ہوا جا رہا ہے، جو اس کے تمام اسمائے حسنی کو جامع ہے، یعنی اللہ۔ ”أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي“ 'أعوذ' یعنی میں اللہ تعالی کے ذریعے سماعت کے شر سے اپنے آپ کو بچاتا ہوں۔ اس سے مراد وہ تمام حرام باتیں ہیں، جو انسان کے کان میں پڑتی ہیں، جیسے جھوٹی گواہی، کفر و بہتان پر مشتمل کلام اور دین کی تحقیر اور وہ ساری حرام باتیں جو انسان کی سماعت سے ٹکراتی ہیں۔ ”وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي“ آنکھ کے شر سے مراد یہ ہے کہ انسان اسے حرام اشیا کو دیھکنے میں لگائے، جیسے حیا باختہ فلمیں اور برے مناظر۔ ”وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي“ یعنی زبان سے نکلنے والی ہر حرام بات سے، جیسے جھوٹی گواہی، گالی گلوج، لعنت، دین اور دین دار لوگوں کی توہین و تحقیر، لایعنی باتوں میں لگنا اور سود مند باتوں کو چھوڑنا وغیرہ۔ ”وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي“ دل کے شر سے مراد یہ ہے کہ انسان) دل کو اللہ کے ذکر کی بجائے دوسری اشیا سے آباد کرے یا پھر قلبی عبادات جیسے امید و بیم اور خوف و تعظیم کے ساتھ اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کا رخ کرے یا پھر رب تعالی کے حضور جن قلبی عبادات کا بجا لانا اس پر واجب ہو انھیں ادا نہ کرے۔ "ومن شر منيي": یعنی شرم گاہ کے شر سے۔ مراد یہ کہ کسی ایسی شے میں واقع ہونے سے (اللہ کی پناہ مانگنا) جسے اللہ نے اس کے لیے حرام کیا ہو یا (پھر معنی یہ ہیں کہ) مجھے زنا کے مقدمات جیسے دیکھنا، چھونا، اس کی طرف چل کر جانا اور ارادہ کرنا وغیرہ سے محفوظ رکھ۔ اس دعا میں اعضا کی حفاظت کا سوال ہے، جو کہ اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں۔ نبی ﷺ نے انھیں یہاں اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالی سے اس نعمت کے شر سے پناہ مانگیں، نہ کہ خود اس نعمت سے، بایں طور کہ وہ یوں کہیں کہ میں اللہ سے اپنی سماعت کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ کیوں کہ یہ اعضا تو نعمتیں ہیں اور انہی کے ذریعے اللہ کی عبادت ہوتی ہے۔ یہ کوئی شر محض نہیں کہ ان سے پناہ مانگی جائے، بلکہ پناہ تو ان سے جنم لینے والے شر سے مانگی جائے گی۔ (واضح رہے کہ) ان کی حفاظت اس طرح سے ہوتی ہے کہ ان امور کی رعایت کی جائے جن کے لیے انھیں پیدا کیا گیا ہے، ان سے نہ کوئی معصیت کا کام کیا جائے اور نہ ان کے ذریعے سے کسی برائی کو فروغ دیا جائے۔ کیوں کہ روز قیامت انسان سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا، اللہ تعالی کے اس فرمان کے بمصداق کہ :﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا﴾ ”جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو، اس کے پیچھے مت پڑ۔ کیوں کہ کان، آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے“۔ (سورہ بنی اسرائیل: 36)

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه. الترمذي، تحقيق وتعليق:أحمد محمد شاكر ، وآخرون، مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، ط2، مصر، 1395 ه. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد علي بن محمد بن علان، دار الكتاب العربي ، بيروت لبنان. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428 هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. سنن أبي داود، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، المكتبة العصرية، بيروت. صحيح الأدب المفرد للإمام البخاري، حقق أحاديثه وعلق عليه: محمد ناصر الدين الألباني، ط4، دار الصديق للنشر والتوزيع، 1418 هـ. صحيح أبي داود للألباني ، ط1، مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت، 1423هـ. صحيح وضعيف الترمذي للألباني، ط1، مكتبة المعارف، الرياض، 1420ه. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ. السنن للنسائي، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، ط2، مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، 1406ه. مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، ط1، مؤسسة الرسالة، 1421 هـ. المعجم الوسيط، مجمع اللغة العربية بالقاهرة، ط2، دار إحياء التراث العربي، بيروت لبنان. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ماثور دعائیں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com