اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے درج ذیل چیزوں سے پناہ مانگی ہے: 1- "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ"۔ اے اللہ! میں صرف اور صرف تیری پناہ مانگتا ہوں قرض کے دباؤ، بوجھ، غم اور بے چینی سے۔ میں تیری مدد مانگتا ہوں اس بات پر کہ اسے ادا کر سکوں۔ 2- "وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ"۔ دشمن کے قہر و تسلط سے۔ دعا ہے کہ تو اس کے ظلم و ستم کو روک لے اور مجھے اس پر فتح یاب کر۔ 3- "وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ"۔ مسلمانوں کے اوپر آنے والی بلا و مصیبت پر دشمنوں کے خوش ہونے سے۔
- ان تمام چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے کی ترغیب، جو انسان کے پاس نیکی کے کاموں کے لیے موقع نہیں چھوڑتیں اور غم و اندوہ کا باعث بنتی ہیں۔ جیسے قرض وغیرہ۔
- مطلق قرض میں کوئی حرج نہيں ہے۔ حرج اس وقت ہے، جب انسان کے پاس قرض چکانے کی طاقت نہ ہو۔ اسی قرض کا ذکر اس حدیث میں ہے۔
- انسان کو ایسی چيزوں سے دور رہنا چاہیے، جن سے اس کی جگ ہنسائی ہو اور اس پر انگلی اٹھے۔
- اہل ایمان سے کافروں کی عداوت اور ان پر مصیبت آنے پر ان کے خوش ہونے کا بیان۔
- مصیبت کے وقت دشمنوں کے ہنسنے سے مصیبت دو چند ہو جاتی ہے۔
سنن النسائي (8/ 265) (5475). مسند أحمد (11/ 189) (6618). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبد الله البسام (7/ 569). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 450). فتح ذي الجلال والإكرام، لابن عثيمين (6/ 497).