سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“۔

عن أنس رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں بتا رہے ہيں کہ کوئی مسلمان اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں بن سکتا، جب تک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت کو اپنی ماں، اپنے باپ، اپنے بیٹے، اپنی بیٹی اور دیگر تمام لوگوں کی محبت سے آگے نہ رکھے۔ اس محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت و نصرت کی جائے اور آپ کی معصیت سے گریز کیا جائے۔

فوائد
  1. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھنا اور آپ کی محبت کو دیگر مخلوقوں کی محبت سے آگے رکھنا واجب ہے۔
  2. کمال محبت کی علامتوں میں سنت رسول کی نصرت اور اس راہ میں جان و مال کی قربانی دینا بھی داخل ہے۔
  3. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کے حکموں کی تعمیل کی جائے، آپ کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کی جائے، آپ کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہا جائے، آپ کی اتباع کی جائے اور بدعتوں سے اجتناب کیا جائے۔
  4. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا حق تمام لوگوں کے حق سے زیادہ بڑا اور زیادہ اہم ہے۔ کیوں کہ آپ کے ذریعے سے ہی ہمیں گمراہی سے ہدایت ملی اور جہنم سے نجات اور جنت سے سرفرازی کا راستہ ملا۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 12) (15). صحيح مسلم (1/ 67) (44). فتح الباري لابن رجب (1/ 48). الجديد في شرح كتاب التوحيد، للقرعاوي (ص281). الملخص في شرح كتاب التوحيد، للفوزان (ص252). القول المفيد على كتاب التوحيد، لابن عثيمين (2/ 50).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
دل کے اعمال

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com