اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ ایک مسلمان کی وفات اللہ سے حسن ظن رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔ موت کے وقت امید کا پہلو غالب رہنا چاہیے اور دل میں یہ بات ہونی چاہیے کہ اللہ اس پر رحم کرے گا اور عفو ودرگزر فرمائے گا۔ کیوں کہ دراصل خوف مطلوب ہے عمل کو بہتر بنانے کے لیے اور وہ وقت عمل کا وقت نہیں ہے۔ لہذا وہاں امید کا پہلو غالب ہونا چاہیے۔
- امت کی رہنمائی کے تئیں نبیﷺ کی حرص اور ان کے تمام احوال میں نہایت مہربانی وشفقت کا رویہ، حتی کہ اپنے مرض الموت میں امت کو نصیحت کرنا اور نجات کی راہوں کی طرف رہنمائی کرنا۔
- طیبی کہتے ہیں: ابھی اپنے اعمال کو بہتر بنا لو، تاکہ تم موت کے وقت اللہ سے اچھا گمان رکھ سکو۔ کیوں کہ جس کا عمل موت سے پہلے برا ہوگا، وہ موت کے وقت اللہ سے اچھا گمان نہيں رکھ سکے گا۔
- بندے کے لیے کامل ترین حالت امید اور خوف کے درمیان توازن اور محبت کا غلبہ ہے۔ محبت گاڑی ہے، امید سواری ہے، خوف ڈرائیور ہے اور اللہ اپنے فضل وکرم سے منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔
- جب کسی کی موت کا وقت آ جائے، تو اس کے پاس بیٹھے لوگوں کو چاہیے کہ امید کا پہلو غالب رکھے اور اللہ سے حسن ظن کی تلقین کرے۔ کیوں کہ اس حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اپنی موت سے تین دن پہلے کہی۔
صحيح مسلم (4/ 2205) (2877). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 333). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 509). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 398).