حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جہنم کی آگ اس آنکھ کو نہیں چُھوتی جو اللہ کے خوف سے روتی ہے، یعنی جب انسان اللہ کی عظمت اور بندوں پر اس کی قدرت کو یاد کرتا ہے اور اپنی حالت اور اللہ تعالیٰ کے حق میں اپنی کوتاہی دیکھتا ہے، تو اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہوئے اور اس کے عذاب اور ناراضگی سے ڈرتے ہوئے روتا ہے، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ یہ آنکھ جہنم کی آگ سے نجات پائے گی۔ دوسری آنکھ جسے جہنم کی آگ نہیں چُھوئے گی وہ ہے جو اللہ کے راستے میں سرحدوں پر اور لڑائی کے موقعوں پر اہل اسلام کی حفاظت پر مامور ہو کر پہرہ دیتی ہے۔ ”لا تمسهما النار“ یہ جملہ جُزْ بول کر کُلْ مُراد لینے کی قبیل سے ہے۔ اس سے مُراد یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے خوف سے روتا ہے اور اللہ کے راستے میں پہرہ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ ان کے جسموں پر جہنم کی آگ حرام کر دیتا ہے۔
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه . - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. سنن الترمذي، لمحمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر ومحمد فؤاد عبد الباقي وإبراهيم عطوة عوض -شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م مشكاة المصابيح، لمحمد بن عبد الله الخطيب العمري أبو عبد الله ولي الدين التبريزي، المحقق: محمد ناصر الدين الألباني المكتب الإسلامي – بيروت- الطبعة: الثالثة، 1985.