کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس کا خوف مجھے تم پر مسیح دجال سے بھی زیادہ ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ! کیوں نہیں؟ (ضرور بتلائیں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شرک خفی“ کہ کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو اور اپنی نماز کو محض اس لیے سنوار کر پڑھے کہ کوئی دوسرا اسے دیکھ رہا ہے۔
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه مرفوعاً: "ألا أخبركم بما هو أَخْوَفُ عليكم عندي من المسيح الدجال؟ قالوا: بلى يا رسول الله، قال: الشرك الخفي يقوم الرجل فيصلي فَيُزَيِّنُ صلاته لما يرَى من نَظَرِ رَجُلٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس کا خوف مجھے تم پر مسیح دجال سے بھی زیادہ ہے؟، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ! کیوں نہیں؟ (ضرور بتلائیں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شرک خفی“ کہ کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو اور اپنی نماز کو محض اس لیے سنوار کر پڑھے کہ کوئی دوسرا اسے دیکھ رہا ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح
صحابہ کرام باہم مسیح دجال کے فتنے کا ذکر کر رہے تھے اور اس سے خوف کا اظہار کر رہے۔ نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ ایک ایسی ممنوعہ شے ہے جس کا آپ ﷺ کو ان کے سلسلے میں دجال کے فتنے سے بھی زیادہ ڈر ہے ، اور وہ ہے نیت اور ارادے میں شرک کا ارتکاب کرنا۔ جو لوگوں کے سامنے ظاہر نہیں ہوتا۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسے عمل کو جس سے مقصود اللہ کی خوشنودی ہو لوگوں کو دکھانے لیے خوب سنوار کر کیا جائے۔
حوالہ
فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، مطبعة السنة المحمدية، القاهرة، مصر، الطبعة: السابعة، 1377هـ - 1957م.
القول المفيد على كتاب التوحيد، دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الثانية، 1424هـ.
الملخص في شرح كتاب التوحيد، دار العاصمة الرياض، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2001م.
الجديد في شرح كتاب التوحيد، مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الخامسة، 1424هـ - 2003م.
التمهيد لشرح كتاب التوحيد، دار التوحيد، تاريخ النشر: 1424هـ.
سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي.
صحيح الجامع، طبعة المكتب الإسلامي.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com