عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ (روز قیامت) اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا تو ہر عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ فلان بن فلاں کی عہد شکنی (کا نشان) ہے۔“
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
جب روز قیامت اللہ اگلے اور پچھلے سب لوگوں کو جمع کرے گا تو ہر عہد شکن کو لایا جائے گا جس کے ساتھ اس کی عہدشکنی کی نشانی کے طور پر ایک جھنڈا ہو گا، جس سے وہ لوگوں میں رسوا ہوگا۔
حوالہ
صحيح البخاري (4/ 104) (3188)
صحيح مسلم (3/ 1359) (1735).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص745).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (2/ 188).
عن أبي بكرة رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟» ثَلَاثًا، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ» وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَقَالَ: «أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ»، قَالَ: فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا: لَيْتَهُ سَكَتَ.
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’کیا میں تم کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟" یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ دہرائی۔ لوگوں نے کہا : "اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔" آپ ﷺ پہلے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، لیکن سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور پھر فرمایا : "خبردار! جھوٹی بات کہنا"۔ آپ ﷺ اس بات کو اتنی مرتبہ دہراتے رہے کہ ہم نے کہا : کاش آپ ﷺ خاموش ہوجائیں‘‘۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھیوں کو سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ان تین گناہوں کا ذکر کیا :
1- اللہ کا شریک ٹھہرانا : شرک نام ہے کوئی بھی عبادت اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے کرنے اور غیراللہ کو الوہیت، ربوبیت اور اسماء و صفات میں اللہ کے برابر لا کھڑا کرنے کا۔
2- ماں باپ کی نافرمانی : یعنی قول و فعل کے ذریعہ یا ان کی خدمت میں کوتاہی کرکے ان کو کسی طرح کی تکلیف دینا۔
3- جھوٹ بولنا، جس میں جھوٹی گواہی دینا بھی شامل ہے: اس سے مراد ہر وہ گھڑی ہوئی اور جھوٹی بات ہے، جس کا مقصد کسی کا مال ہڑپنا یا کسی کو بے عزت کرنا وغیرہ ہو۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جھوٹ بولنے سے بار بار خبردار کرکے یہ بتایا ہے کہ جھوٹ ایک بری چیز ہے اور سماج پر اس کے بڑے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آپ نے جھوٹ بولنے سے اتنی بار خبردار کیا کہ صحابہ نے آپ کی پریشانی کو دیکھ کر کہا کہ کاش آپ خاموش ہو جاتے۔
فوائد
سب سے بڑا گناہ اللہ کا شریک ٹھہرانا ہے، کیوں کہ اللہ نے اسے سب سے پہلا اور سب سے بڑا کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔ اس کی تاکید اللہ تعالی کا یہ قول بھی کرتا ہے : "یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جس کے لئے جو چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔"
والدین کے حقوق کی اہمیت، کیوں کہ اللہ تعالی نے ان کا حق اپنے حق کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے۔
گناہ کی دو قسمیں ہيں؛ صغیرہ گناہ اور کبیرہ گناہ۔ کبیرہ گناہ سے مراد ہر وہ گناہ ہے، جس کی کوئی دنیوی سزا متعین ہو، جیسے حدود اور لعنت وغیرہ یا جس پر کوئی اخروی وعید سنائی گئی ہو، جیسے جہنم میں داخلے کی وعید۔ کبیرہ گناہوں میں سے بھی کچھ گناہوں کی حرمت دیگر کبیرہ گناہوں کے مقابلے میں زیادہ شدید ہے۔ جب کہ صغیرہ گناہوں سے مراد کبیرہ گناہ کے علاوہ دیگر گناہ ہیں۔
حوالہ
صحيح البخاري (3/ 172) (2654)، (8/ 4) (5976)، (8/ 62) (6273-6274).
صحيح مسلم (1/ 91) (87).
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم (ص257) (380).
شرح النووي على مسلم (2/ 81).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري (2/ 149).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام (ص703).
أعلام السنة المنشورة لاعتقاد الطائفة الناجية المنصورة، لحافظ بن أحمد الحكمي (ص111).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو قبروں کے پاس سے گزرے، تو فرمایا : "ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور وہ بھی عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا ہے۔ دونوں میں سے ایک شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا۔" پھر ایک تازہ شاخ لی، اسے آدھا آدھا پھاڑا اور ایک ایک حصہ دونوں قبروں پر گاڑ دیا۔ صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ نے جواب دیا: "شاید ان دونوں کا عذاب اس وقت تک کے لیے ہلکا کر دیا جائے، جب تک یہ دونوں شاخیں سوکھ نہ جائیں۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ان قبروں میں دفن دونوں شخص عذاب کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ عذاب ایسے کاموں کی وجہ سے جھیل رہے ہیں، جو تمھاری نظروں میں تو بڑے نہیں ہیں، لیکن اللہ کی نظر میں بڑے ہيں۔ ان دونوں میں سے ایک شخص قضائے حاجت کے وقت اپنے جسم اور کپڑوں کو پیشاب سے بچانے پر دھیان نہيں دیتا تھا۔ جب کہ دوسرا شخص لوگوں کے بیچ لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا۔ وہ نقصان پہنچانے اور اختلاف پیدا کرنے کے ارادے سے ایک شخص کی بات دوسرے شخص کو پہنچایا کرتا تھا۔
فوائد
لگائی بجھائی کرنا اور پیشاب سے بچنے پر دھیان نہ دینا کبیرہ گناہ اور عذاب قبر کا سبب ہے۔
اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے کچھ غیب کی چیزیں کھول دیں، تاکہ یہ آپ کے نبی ہونے کی ایک دلیل بن سکے۔
ایک شاخ لینے اور اسے پھاڑ کر قبر پر رکھنے کا یہ عمل اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ خاص ہے۔ کیوں کہ اللہ نے آپ کو ان دونوں قبروں میں دفن لوگوں کا حال بتا دیا تھا۔ اس سلسلے میں آپ پر کسی کو قیاس اس لیے نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی قبر میں دفن لوگوں کا حال جان نہیں سکتا۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 53) (218).
صحيح مسلم (1/ 240) (292).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص43).
خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص22).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (1/ 29).
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «أتدرون من المفلس؟» قالوا: المُفْلِس فينا من لا دِرهَمَ له ولا مَتَاع، فقال: «إن المفلس من أمتي من يأتي يوم القيامة بصلاة وصيام وزكاة، ويأتي وقد شَتَمَ هذا، وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسَفَكَ دم هذا، وضرب هذا، فيعطى هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإن فنيت حسناته قبل أن يُقْضَى ما عليه، أخذ من خطاياهم فَطُرِحتْ عليه، ثم طُرِحَ في النار».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم جانتے ہو مفلس کون ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ کچھ سامان۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں سے مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوۃ (کی صورت میں اعمال) لے کر آئے گا لیکن اس نے دنیا میں کسی شخص کو گالی دی ہوگی، کسی پر بدکاری کی تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال نا حق کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔ ان لوگوں کو (یعنی جن کو اس نے دنیا میں ستایا ہوگا) اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں اس پر آنے والے ہرجانہ کی ادائیگی سے پہلے ختم ہوگئیں تو ان لوگوں کے گناہ لے کر اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے؟۔ انہوں نے آپ ﷺ کو مفلس کا وہی معنی بتایا جو لوگوں کے مابین معروف ہے یعنی وہ فقیر شخص جس کے پاس نہ تو کچھ نقدی ہو اور نہ سامان۔
نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ اس امت میں سے مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن بڑی بڑی نیکیاں لے کر آئے گا اور نماز، روزہ اور زکوۃ کی شکل میں اس کے بہت سے نیک اعمال ہوں گے لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی کو مارا ہو گا، کسی کا ناحق مال ہتھیایا ہو گا، کسی پر تہمت لگائی ہو گی اور کسی کا خون بہایا ہو گا اور لوگ اس سے اپنا بدلہ لینا چاہیں گے۔ جو وہ دنیا میں نہ لے سکے اسے آخرت میں وصول کریں گے۔ چنانچہ اللہ تعالی اس سے ان کا بدلہ لے گا اور یوں یہ لوگ پورے انصاف کے ساتھ بطور بدلہ اس کی نیکیاں لے لیں گے۔ اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو پھر ان کے گناہ لے کر اس کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔
حوالہ
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه .
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
- صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو“۔ صحابۂ کرام نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول! وہ کيا ہيں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے میدان سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور بھولی بھالی پاک دامن مؤمنہ عورتوں پر تہمت لگانا“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اپنی امت کو سات ہلاک کرنے والے جرائم اور گناہوں سے دور رہنے کا حکم دے رہے ہيں۔ جب آپ سے پوچھا گیا کہ وہ سات جرائم اور گناہ کیا ہیں؟ تو فرمایا :
1- شرک کرنا۔ یعنی کسی کو کسی بھی طرح سے اللہ کے جیسا قرار دینا اور کوئی بھی عبادت غیراللہ کے لیے کرنا۔ شرک سے آغاز اس لیے کیا کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔
2- جادو کرنا۔ جادو نام ہے اس طرح گرہ لگانے، دم کرنے اور دواؤں وغیرہ کے استعمال کا، جو جادو کیے ہوئے شخص کے جسم میں اثر انداز ہوکر اس کی جان لے لے، یا اسے بیمار کر دے یا میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دے۔ یہ ایک شیطانی عمل ہے۔ اس کے بیش تر حصے کے لیے شرک کرنے اور ناپاک ارواح کو خوش کرنے والے کچھ کام کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔
3- کسی ایسی جان کا قتل کرنا، جسے کسی شرعی سبب کے بغیر قتل کرنے سے اللہ نے منع کیا ہو اور شرعی سبب کے پائے جانے پر بھی قتل کرنے کا کام حاکم کا ہو۔
4- سود لینا، چاہے اسے کھایا جائے اور اس سے کسی اور طرح سے فائدہ اٹھایا جائے۔
5- ایسے نابالغ بچے کا مال ہڑپ لینا، جس کا باپ مر گیا ہو۔
6- کفار کے ساتھ ہو رہی جنگ کے میدان سے بھاگ کھڑا ہونا۔
7- پاک دامن آزاد عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔ اسی طرح مردوں پر بھی زنا کی تہمت لگانا۔
فوائد
یاد رہے کہ بڑے گناہ صرف سات ہی نہیں ہیں۔ البتہ ان سات کا ذکر ان کی خطرناکی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
قصاص، ارتداد اور محصن (شادی شدہ) ہونے کے باوجود زنا کرنے پر جان کو قتل کرنا جائز ہے اور یہ کام شرعی حاکم کرے گا۔
حوالہ
صحيح البخاري (4/ 10) (2766).
صحيح مسلم (1/ 92) (89).
شرح صحيح البخارى لابن بطال (8/ 489).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح الفوزان (ص201).
سلیمان بن صُرَد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور (قریب ہی) دو آدمی آپس میں گالی گلوج کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک شخص کا چہرہ (مارے غصے کے) سرخ ہو گیا تھا اور اس کی رگیں پھول گئیں تھیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے پڑھ لے، تو اس کا غصہ دور ہو جائے"۔ فرمایا: "اگر یہ شخص کہے: ”أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرجیم“ (میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں) تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا"۔ چنانچہ لوگوں نے اس سے کہا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرو، تو اس نے کہا: کیا مجھے جنون لاحق ہے؟
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
دو لوگ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ایک دوسرے کو گالی گلوج کر رہے تھے۔ ایک کی حالت تو یہ تھی کہ چہرہ سرخ ہو چکا تھا اور گردن کی رگیں پھول چکی تھیں۔
یہ منظر دیکھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: مجھے ایک کلمہ معلوم ہے کہ اگر اس غصے والے شخص نے اسے کہہ لیا، تو اس کا غصہ دور ہو جائے گا۔ اسے "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" کہہ لینا چاہیے۔
چنانچہ صحابہ نے اس سے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے تجھے "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" پڑھنے کے لئے کہا ہے۔
لیکن اس نے جواب دیا: کیا میں مجنوں ہوں؟ اسے لگتا تھا کہ اللہ کی پناہ وہی مانگتا ہے، جسے جنون لاحق ہو۔
فوائد
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب کسی چیز کا سبب پایا جاتا تو اس تعلق سے رہنمائی اور نصیحت کرنے کا اہتمام کرتے۔
غصہ دلانے کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہوتا ہے۔
غصہ آنے پر شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم۔ ارشاد باری تعالی ہے : "اور اگر آپ کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجیے۔"
گالی گلوج اور لعنت وملامت سے خبردار کرنا اور نفرت دلانا۔ کیوں کہ ان چیزوں سے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔
جو شخص نصیحت نہ سن سکے، اس تک نصیحت پہنچانی چاہیے، تاکہ وہ بھی اس سے مستفید ہوسکے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے غصہ سے خبردار کیا، کیوں کہ غصہ برائی اور انجام کی لاپرواہی کا پیش خیمہ ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ صرف اسی وقت آتا تھا، جب اللہ کی حرمتوں کو پامال کیا جائے۔ یہ قابل تعریف غصہ ہے۔
نووی اس حدیث کے الفاظ "کیا مجھے جنون لاحق ہے؟" کے بارے میں کہتے ہيں: ہو سکتا ہے کہ یہ بات کہنے والا شخص منافق تھا یا دیہات کا رہنے والا کوئی غیر شائستہ شخص۔
حوالہ
صحيح البخاري (4/ 124) (3282).
صحيح مسلم (4/ 2015) (2610).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 110).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص50).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 270).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 78).
عن وَاثِلَةَ بن الأَسْقَعِ ـ رضي الله عنه ـ مرفوعاً: «إن من أعظم الفِرَى أن يَدَّعِيَ الرجلُ إلى غير أبيه، أو يُرِي عَيْنَهُ ما لم تَرَ، أو يقول على رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم يَقْلْ».
واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، یا اپنی آنکھ کو وہ کچھ دکھائے جو اس نے نہیں دیکھا(یعنی بغیر کچھ دیکھے من گھڑت خواب بیان کرے)، یا رسول اللہ ﷺ کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو آپ نے نہ فرمائی ہو“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
یہ اللہ تعالیٰ پر سخت ترین جھوٹ ہے کہ: آدمی خود کو اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے یا پھر کوئی دوسرا شخص اسے اس کے باپ کے علاوہ کسی غیر کی طرف منسوب کرے اور وہ اس پر صاد کرے۔ یہ جھوٹ کی بد ترين قسموں ميں سے ہے۔ اسی طرح اللہ کے نزدیک بد ترین اور سنگین ترین جھوٹ یہ بھی ہے کہ انسان دعوی کرے کہ اس نے خواب میں کچھ دیکھا ہے حالانکہ اس نے اسے بالکل نہیں دیکھا۔ نیز اللہ کے نزدیک یہ بھی بد ترین اور سخت ترین جھوٹ ہے کہ آدمی رسول اللہ ﷺ کی طرف کسی قول یا فعل یا تقریر کی نسبت کرے حالانکہ آپ ﷺ سے اس کا کوئی ثبوت نہ ہو۔
حوالہ
- صحيح البخاري، للإمام محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد الناصر، دار طوق النجاة.
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه.
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ.
- كنوز رياض الصالحين»، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه.
- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان بن إبراهيم البكري الصديقي الشافعي اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة .
- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ: میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا: آپ کے لئے صفیہ کا ایسا ایسا ہونا ہی کافی ہے۔ بعض راویوں نے کہا کہ: ان کی مراد یہ تھی کہ وہ پستہ قد ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر وہ سمندر کے پانی میں گھول دی جائے تو وہ اس کا ذائقہ بدل ڈالے“۔ وہ کہتی ہیں: میں نے ایک شخص کی نقل اتاری تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل اتاروں چاہے اس کے بدلے مجھے اتنا اتنا مال ملے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا نےصفیہ رضی اللہ عنہا کی غیر موجودگی میں ان کے تعلق سے کچھ ایسی بات کہی جو انہیں عیب دار اور برا بنا دے، اور وہ یہ ہےکہ وہ پستہ قد ہیں، رضی اللہ عنہا۔ ایسا انہوں نے ان کو نبی ﷺ کے سامنے نیچا اور کمتر دکھانے کے لئے کیا، ان کی نسوانی غیرت نے انھیں اس بات کے کہنے پر اکسایاتھا، تو نبی ﷺ نےفرمایا: تیری کہی ہوئی بات کو اگر سمندر کے پانی میں ملا دیا جایے تو وہ اس کا رنگ مزہ اور بو بدل ڈالے، اس کی خطرناکی اور بڑے نقصان کی وجہ سے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے سامنے ایک آدمی کی نقل اتاری یعنی اس کو نیچا دکھانے کے لئے میں نے بھی ہو بہو ویسا ہی کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے کسی کے عیب کو بیان کرنے سے خوشی نہیں ملتی، یا مجھے اس سے خوشی نھیں ملتی کہ کسی کو نیچا اور کمتر دکھانے کے لیے، ہو بہو اسی جیسا کروں یا ہو بہو اسی جیسا کروں، چاہے اس کے بدلے مجھے دنیا کا اتنا اور اتنا (مال) دے دیا جائے۔
حوالہ
سنن أبي داود (7/ 237) (4875).
سنن الترمذي (4/ 275) (2502).
مسند أحمد (41/ 433) (24964).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (3/ 25).
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للقاري (7/ 3046).
التيسير بشرح الجامع الصغير، للمناوي (2/ 339).
فيض القدير شرح الجامع الصغير، للمناوي (5/ 411).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com