عن ابن عمر رضي الله عنهما: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْقَزَعِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنما سے روایت ہے کہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سر کے کچھ جصے کا بال مونڈنے اور کچھ حصے کا بال چھوڑ دینے سے منع فرمایا ہے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سر کے کچھ جصے کا بال مونڈنے اور کچھ حصے کا بال چھوڑ دینے سے منع فرمایا ہے۔ یہ ممانعت چھوٹے بڑے سبھی مردوں کے لیے ہے۔ رہی بات عورتوں کی، تو ان کوسر کے بال مونڈنے کی اجازت نہیں ہے۔
فوائد
- شریعت اسلامیہ انسان کی ظاہری شکل و صورت پر بھی توجہ دیتی ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (7/ 163) (5921). صحيح مسلم (3/ 1675) (2120). نزهة المتقين (2/ 1126). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (19/ 380). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 381).