سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نومولود بچے سے متعلق احکام

8 احادیث

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سر کے کچھ جصے کا بال مونڈنے اور کچھ حصے کا بال چھوڑ دینے سے منع فرمایا ہے۔

عن ابن عمر رضي الله عنهما: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْقَزَعِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنما سے روایت ہے کہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سر کے کچھ جصے کا بال مونڈنے اور کچھ حصے کا بال چھوڑ دینے سے منع فرمایا ہے۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سر کے کچھ جصے کا بال مونڈنے اور کچھ حصے کا بال چھوڑ دینے سے منع فرمایا ہے۔ یہ ممانعت چھوٹے بڑے سبھی مردوں کے لیے ہے۔ رہی بات عورتوں کی، تو ان کوسر کے بال مونڈنے کی اجازت نہیں ہے۔

فوائد
  1. شریعت اسلامیہ انسان کی ظاہری شکل و صورت پر بھی توجہ دیتی ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 163) (5921). صحيح مسلم (3/ 1675) (2120). نزهة المتقين (2/ 1126). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (19/ 380). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 381).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب بندہ پلک جھپکنے کی حد تک بھی کسی بچے سے اپنے نسب کا اقرار کرے تو پھر اس سے نفی کرنا جائز نہیں ہے۔

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: "إذا أقرَّ الرجل بولده طَرْفَةَ عين فليس له أن ينفيه".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب بندہ پلک جھپکنے کی حد تک بھی کسی بچے سے اپنے نسب کا اقرار کرے تو پھر اس سے نفی کرنا جائز نہیں ہے۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔درجہاس حديث کی سند حَسَنْ ہے۔
تشریح

اس اثر میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب بندہ کسی بچے کے ساتھ اپنے نسب کا اعتراف کر لے تو پھر اس کی نفی اور انکار کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ ان حقوق العباد میں سے ہے جو اقرار سے ثابت ہوتے ہیں اور ان میں جھگڑنا اور انکار کرنا کوئی فائدے مند چیز نہیں۔

حوالہ

منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان-طبعة دار ابن الجوزي-الطبعة الأولى 1428. توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام- مكتبة الأسدي –مكة المكرمة –الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام:تأليف الشيخ صالح الفوزان- عناية عبد السلام السليمان - مؤسسة الرسالة الطبعة الأولى . فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام للشيخ ابن عثيمين- المكتبة الإسلامية القاهرة- تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى 1427. السنن الكبرى - لأحمد بن الحسين بن علي البيهقي - المحقق: محمد عبد القادر عطا: دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان- الطبعة: الثالثة، 1424 هـ - 2003 م. التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير لابن حجر العسقلاني تحقيق: أبو عاصم حسن بن عباس, مؤسسة قرطبة - مصر, الطبعة: الأولى، 1416هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com