اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ نماز کی پابندی کرنے والے مسلمان جزیزۂ عرب میں اس کی عبادت اور بتوں کے سامنے سجدہ کریں گے۔ لیکن آج بھی اس کی خواہش کم نہيں ہوئی ہے۔ آج بھی اس بات کے لیے اس کی کوشش جاری ہے کہ ان کو اکسا کر ان کے درمیان لڑائی، جھگڑا اور فتنہ وفساد برپا کر دیا جائے۔
- شیطان کی عبادت بت کی عبادت ہے۔ کیوں کہ وہی اس کا حکم دیتا ہے اور اس کی جانب بلاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے کہا تھا : "اے ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کریں..."
- شیطان مسلمانوں کے درمیان دشمنیاں، عداوتیں، جنگیں اور فتنے برپا کرنے کى تگ ودو میں لگا رہتا ہے۔
- اسلام میں نماز کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کی باہمی محبت کو برقرار رکھتی ہے اور ان کے درمیان بھائی چارے کے بندھن کو مضبوط کرتی ہے۔
- دونوں شہادتوں کے بعد نماز دین کے شعائر میں سب سے زیادہ عظمت والى ہے اور اسی لیے اس حدیث میں مسلمانوں کو مصلِّیوں (نمازیوں) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
- جزیرۂ عرب کی چند خصوصیات ایسی ہیں، جو دوسرے ممالک اور علاقوں کو حاصل نہیں ہیں۔
- اگر کوئی کہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم فرما رہے ہیں: "شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ مسلمان جزیرۃ العرب میں اس کی عبادت کریں گے۔" جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جزیرۃ العرب کے کچھ حصوں میں بتوں کی پوجا ہو رہی ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں بات اسلامی فتوحات اور اسلام کے اندر لوگوں کے گروہ در گروہ داخل ہونے کو دیکھ کر شیطان کے دل میں چھانے والی مایوسی کی ہو رہی ہے۔ دراصل یہ حدیث شیطان کے ظن اور توقع کی بات کر رہی ہے۔ لیکن بعد میں اس کے برخلاف ہوا، جس کے پیچھے اللہ کی کوئی مصلحت ہوگی۔
صحيح مسلم (4/ 2166) (2812). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (3/ 110). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1095). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (19/ 41). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (6/ 284). فيض القدير، للمناوي (2/ 356). شرح النووي على صحيح مسلم، لزكريا النووي (17/ 156).