سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

’’کیا میں تم کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟

عن أبي بكرة رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «‌أَلَا ‌أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟» ثَلَاثًا، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ» وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَقَالَ: «أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ»، قَالَ: فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا: لَيْتَهُ سَكَتَ.
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’کیا میں تم کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟" یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ دہرائی۔ لوگوں نے کہا : "اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔" آپ ﷺ پہلے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، لیکن سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور پھر فرمایا : "خبردار! جھوٹی بات کہنا"۔ آپ ﷺ اس بات کو اتنی مرتبہ دہراتے رہے کہ ہم نے کہا : کاش آپ ﷺ خاموش ہوجائیں‘‘۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھیوں کو سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ان تین گناہوں کا ذکر کیا : 1- اللہ کا شریک ٹھہرانا : شرک نام ہے کوئی بھی عبادت اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے کرنے اور غیراللہ کو الوہیت، ربوبیت اور اسماء و صفات میں اللہ کے برابر لا کھڑا کرنے کا۔ 2- ماں باپ کی نافرمانی : یعنی قول و فعل کے ذریعہ یا ان کی خدمت میں کوتاہی کرکے ان کو کسی طرح کی تکلیف دینا۔ 3- جھوٹ بولنا، جس میں جھوٹی گواہی دینا بھی شامل ہے: اس سے مراد ہر وہ گھڑی ہوئی اور جھوٹی بات ہے، جس کا مقصد کسی کا مال ہڑپنا یا کسی کو بے عزت کرنا وغیرہ ہو۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جھوٹ بولنے سے بار بار خبردار کرکے یہ بتایا ہے کہ جھوٹ ایک بری چیز ہے اور سماج پر اس کے بڑے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آپ نے جھوٹ بولنے سے اتنی بار خبردار کیا کہ صحابہ نے آپ کی پریشانی کو دیکھ کر کہا کہ کاش آپ خاموش ہو جاتے۔

فوائد
  1. سب سے بڑا گناہ اللہ کا شریک ٹھہرانا ہے، کیوں کہ اللہ نے اسے سب سے پہلا اور سب سے بڑا کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔ اس کی تاکید اللہ تعالی کا یہ قول بھی کرتا ہے : "یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جس کے لئے جو چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔"
  2. والدین کے حقوق کی اہمیت، کیوں کہ اللہ تعالی نے ان کا حق اپنے حق کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے۔
  3. گناہ کی دو قسمیں ہيں؛ صغیرہ گناہ اور کبیرہ گناہ۔ کبیرہ گناہ سے مراد ہر وہ گناہ ہے، جس کی کوئی دنیوی سزا متعین ہو، جیسے حدود اور لعنت وغیرہ یا جس پر کوئی اخروی وعید سنائی گئی ہو، جیسے جہنم میں داخلے کی وعید۔ کبیرہ گناہوں میں سے بھی کچھ گناہوں کی حرمت دیگر کبیرہ گناہوں کے مقابلے میں زیادہ شدید ہے۔ جب کہ صغیرہ گناہوں سے مراد کبیرہ گناہ کے علاوہ دیگر گناہ ہیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (3/ 172) (2654)، (8/ 4) (5976)، (8/ 62) (6273-6274). صحيح مسلم (1/ 91) (87). عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم (ص257) (380). شرح النووي على مسلم (2/ 81). الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري (2/ 149). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام (ص703). أعلام السنة المنشورة لاعتقاد الطائفة الناجية المنصورة، لحافظ بن أحمد الحكمي (ص111).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخلاق ذمیمہ/ برے اخلاق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com